• 30 نومبر, 2021

جلسہ سالانہ کینیڈا۔ مختصر تاریخ

کینیڈا میں احمدیت کے نام کی گونج 1899ء میں پہنچ چکی تھی اور سب سے پہلے احمدی مسلمان مکرم شیخ کرم دین صاحب 1919ء میں یہاں پہنچے۔ ابتداء میں کینیڈا کے احباب جماعت امریکہ کے ماتحت تھے۔ لیکن باقاعدہ جماعت کا قیام 1967ء میں ہوا۔ کینیڈا جماعت کا پہلا جلسہ سالانہ 25،24دسمبر 1977ء کو منعقد کیا گیا جس میں پانچ سو کے قریب احباب نے شرکت کی اور چند احباب کینیڈا کے دوردراز علاقوں سے چار ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ٹورنٹو پہنچے۔اس جلسہ کی خبر اردو انگریزی اخبارات کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی نشر ہوئی۔سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور چند بزرگان سلسلہ کے پیغامات موصول ہوئے۔صوبہ اونٹاریو کے لیفٹننٹ گورنر نے بھی تہنّیت و تبریک کا پیغام بھجوایا۔

دوسرا جلسہ سالانہ کینیڈا اگلے سال جولائی 1978ء کو منعقد ہوا جس میں چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحبؒ نےبھی شرکت فرمائی۔اس جلسہ کے لئے بھی سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا پیغام موصول ہوا جو احباب کو پڑھ کر سنایا گیا۔

تیسرے جلسہ سالانہ کینیڈا منعقدہ 1979ء کی خصوصیت یہ تھی کہ اس برس ویسٹرن کینیڈا جماعت نے بھی اپنا پہلا جلسہ سالانہ منعقد کیا۔اس کے بعد بغیر کسی تعطل کے ہر برس جلسہ سالانہ کینیڈا منعقد ہوتا رہا۔بارھویں جلسہ سالانہ میں پہلی مرتبہ کینیڈا کی وفاقی پارلیمنٹ کے ایک رکن اور وان سٹی کی مئیر نے شرکت کی اور خطاب کیا۔اس کے بعد حکومتی، سیاسی و سماجی معززین کی شرکت ہر جلسہ سالانہ کینیڈا کا ایک لازمی جزو بن گیا۔

17جون 1989ء کو منعقد ہونے والے تیرھویں جلسہ سالانہ کینیڈا ایک نہایت ممتاز مقام رکھتا ہے جس میں پہلی مرتبہ سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ جلوہ افروز ہوئے۔اس میں کینیڈا کی وفاقی صوبائی اور مقامی حکومتوں کے معزز نمائندگان نے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے جہاں احمدیہ مسلم جماعت کے امن و سلامتی پر مشتمل پیغام کو سراہا وہاں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اسی دورۂ کینیڈا کے دوران حضور انور نے اپنا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
’’میری دعا ہے کہ کینیڈا ساری دنیا ہوجائے اور ساری دنیا کینیڈا ہوجائے۔‘‘

جماعت احمدیہ کینیڈا کے لئے دوسرا پُرسعادت موقعہ 1991ء میں آیا جب سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے کینیڈا کو اپنے ورود مسعود سے دوبارہ سرفراز فرمایا اور جماعت کینیڈا کے پندرھویں جلسہ سالانہ میں شرکت فرمائی۔اس جلسہ میں بھی بہت سے وزراء حکومت اور دیگر معززین تشریف لائے۔اگلے برس 1992ء میں حضور انورؒ ایک مرتبہ پھر کینیڈا تشریف لائے۔ اس دورہ میں حضور ؒ نے مسجد بیت الاسلام مسجد کا افتتاح فرمایا اور سولھویں جلسہ سالانہ کینیڈا کو رونق بخشی۔مسجد کے افتتاح اور جلسہ سالانہ میں حسب سابق کثیرتعداد میں حکومتی سیاسی و سماجی معززین نے شرکت کی اور حضورؒ کی بصیرت افروز پُرمعارف گفتگو کو سراہا اور اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیا کہ وہ حضورؒ کے ساتھ ایک چھت کے نیچے موجود ہیں۔ مسجد بیت الاسلام کے افتتاح کے بعد جماعت احمدیہ کینیڈا کا سترھواں جلسہ سالانہ مسجد کے احاطہ میں منعقد کئے جانے لگے۔ 1994ء میں اٹھارویں جلسہ سالانہ کے موقعہ پر جماعت کینیڈا کو ایک مرتبہ پھر سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا جس میں حسب سابق متعدد وفاقی و صوبائی ورزراء اور دیگر سیاسی و سماجی معززین نے شرکت کی اور حضورؒ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔

جماعت کینیڈا کے بیسویں جلسہ سالانہ منعقدہ 1996ء کی جہاں ایک خصوصیت یہ تھی کہ ایک دفعہ پھر سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ یہاں تشریف لائے وہاں ایک نیا سنگ میل یہ بھی عبور کیا گیا کہ سیٹلائٹ کے ذریعہ اس جلسہ سالانہ کے پروگرام ایم ٹی اے کے ذریعہ نشر کئے گئے۔ اس مرتبہ بھی وفاقی و صوبائی اراکین پارلیمنٹ، دیگر سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ عربوں کے وفد نے بھی شرکت کرکے حضور انورؒ سے ملاقات کی۔اگلے برس 1997ء میں حضور انورؒ ایک مرتبہ پھر کینیڈا میں رونق افروز ہوئے اور کینیڈا کے لئے اپنی محبت و شفقت اور خصوصی لگاؤ کے اظہار کے لئے اکیسویں جلسہ سالانہ میں شرکت فرمائی، جماعت کو تبلیغ اور تربیتی امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پُرمعارف نصائح فرمائیں۔

چوبیسویں جلسہ سالانہ میں اس وقت کے وزیرخزانہ پال مارٹن صاحب نے، جو بعد میں وزیراعظم بن گئے، اپنے غیرمعمولی اور تاریخی خطاب میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ کے پورا ہونے کا ذکر کیا اور جماعت کی پُر امن تعلیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی جاپان میں منعقد ہونے والی آٹھ بڑے صنعتی ملکوں کے وزرائے خزانہ کی کانفرنس میں اس کا ذکر کریں گے۔

چھبیسواں جلسہ سالانہ کینیڈا منعقدہ 2002ء ایک نئی تبدیلی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس بار یہ جلسہ مسجد بیت الاسلام کے احاطہ کی بجائے ایئرپورٹ روڈ مسسی ساگا پر واقع وسیع و عریض ہال انٹرنیشنل سنٹر میں منعقد ہوا جو جماعت کی روزافزوں ترقی اور وسعت کے ثبوت کے ساتھ ساتھ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام ’’وَسِّعْ مَکَانَکَ‘‘ کے پورا ہونے کی ایک اور شہادت بھی تھا۔

جماعت احمدیہ کینیڈا کا 2004ء میں منعقد ہونے والا اٹھائیسواں جلسہ سالانہ ایک نئی بابرکت تبدیلی کے ساتھ منعقد ہوا جب قدرت ثانیہ کے پانچویں مظہر سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس میں رونق افروز ہوئے۔حسب سابق ملک صوبہ اور شہر کے عمائدین نے حضور انور کا استقبال کیا، انہیں شہر کی چابی اور اعزازی شہری کی سند پیش کی۔

جماعت احمدیہ کینیڈا کا 2007ء کا جلسہ سالانہ اپنے ساتھ ایک ملکی انتطامی تبدیلی کے ساتھ منعقد ہوا جب سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اب تک یکجا چلنے والے دو عہدوں یعنی امیر اور مشنری انچارج کو الگ الگ کرتے ہوئے مکرم لال خان ملک صاحب کو امیر اور مکرم نسیم مہدی صاحب کو مشنری انچارج کے طور پر ذمہ داری سرانجام دیتے رہنے کا ارشاد فرمایا۔ سابقہ برسوں کی طرح یہ جلسہ بھی اپنی تمام روحانی اور دینی و جماعتی روایات کے ساتھ منعقد ہوا۔

2008ء جماعت احمدیہ عالمگیر کے لئے صدسالہ خلافت جوبلی کا سال ہونے کے باعث نہایت پُر مسرت سال تھا۔ پوری دنیا میں اسے شایان شان طور پر منایا گیا۔ سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر کینیڈا میں ورودمسعود فرما کر اس سرزمین اور جماعت کو اپنی برکات سے نوازا۔جلسہ سے پیشتر خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں اونٹاریو کے پریمئر کے علاوہ بڑی تعداد میں وفاقی و صوبائی اراکین پارلیمنٹ، وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ، مختلف شہروں کے میئر، مختلف ملکوں کے سفارتکار اور متعدد سربراہانِ مذاہب کے علاوہ ججز، اساتذہ اور دیگر معززین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدسالہ خلافت جوبلی کا جلسہ اور حضور انور کی اس میں موجودگی کے باعث ھاضرین کی تعداد پچیس ہزار کے لگ بھگ تھی جن کے مسرت بھرے چہرے دمک رہے تھے اور حضورانور کے روئے مبارک پر نظر پڑتے ہی ان کے جذبات نعرہ ہائے تکبیر بن کر آسمان کو چھورہے تھے۔

احمدیہ مسلم جماعت کی روزافزوں ترقی اور پھیلاؤ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ایک بیّن ثبوت ہے جن کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا شجر سایہ دار بن کر چہاردانگ عالم میں پھیل چکا ہے۔ اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد چند سو سے ہزاروں تک جا پہنچی ہے۔جہاں احبابِ جماعت جوق در جوق ان میں شامل ہوکر روحانی برکات سمیٹتے اور سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث بنتے ہیں وہاں ہر سطح کے اعلیٰ حکومتی سیاسی و سماجی عہدوں پر فائز غیرمسلم اور غیراحمدی معززین و عمائدین بھی اس میں شرکت کرنا اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کینیڈا کے جلسہ ہائے سالانہ اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوتے رہے ہیں۔ اب تک کا آخری جلسہ 2019ء میں منعقد ہوا جس کے بعد کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث عائد کردہ حکومتی پابندیوں کی تعمیل میں اس پر عارضی پابندی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد تمام انسانیت کو اس وبا سے نجات بخشے اور وہ دن جلد آئے جب یہ جلسے دوبارہ اپنی تمام تر روایات کے ساتھ منعقد ہوں، پیارے آقا ان میں رونق افروز ہوں اور احباب جماعت ان جلسوں کی برکات سے متمتع ہوں۔ آمین!

(انصر رضا۔ واقف زندگی۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خطوط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2021