• 21 مئی, 2022

ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں

اے میرے قادر خدا! اے میرے پیارے رہنما! تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق و صفا۔ اور ہمیں اُن راہوں سے بچا جن کا مدّعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا۔

امّا بعد اے سامعین! ہم سب کیا مسلمان اور کیا ہندو باوجود صدہا اختلافات کے اُس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جو دنیا کا خالق او رمالک ہے اور ایسا ہی ہم سب انسان کے نام میں بھی شراکت رکھتے ہیں۔ یعنی ہم سب انسان کہلاتے ہیں۔ اور ایسا ہی بباعث ایک ہی ملک کے باشندہ ہونے کے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں۔ اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایکؔ دوسرے کے اعضاء بن جائیں۔

اے ہموطنو!! وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا۔ مثلاً جو جو انسانی طاقتیں اور قوتیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیں۔ وہی تمام قوتیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اور یورپ اور امریکہ کی قوموں کو بھی عطا کی گئی ہیں سب کے لئے خدا کی زمین فرش کا کام دیتی ہے اور سب کے لئے اُس کا سورج اور چاند اور کئی اور ستارے روشن چراغ کا کام دے رہے ہیں اور دوسری خدمات بھی بجا لاتے ہیں۔ اس کے پیدا کردہ عناصر یعنی ہَوَا اور پانی اور آگ او ر خاک اور ایسا ہی اُس کی دوسری تمام پیدا کردہ چیزوں اناج اور پھل اور دوا وغیرہ سے تمام قومیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ پس یہ اخلاق ربّانی ہمیں سبق دیتے ہیں کہ ہم بھی اپنے بنی نوع انسانوں سے مروّت اور سلوک کے ساتھ پیش آویں اور تنگ دل اور تنگ ظرف نہ بنیں۔

(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد23 صفحہ439-440)

پچھلا پڑھیں

روٹی (قسط 1)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2022