• 19 جون, 2021

چھوڑ کر چل دئے میدان کو دوماتوں سے

چھوڑ کر چل دئے میدان کو دوماتوں سے
مردبھی چھوڑ تے ہیں دل کبھی ان باتوں سے
میں دل و جاں بخوشی ان کی نذر کر دیتا
ماننے والے اگر ہوتے وہ سوغاتوں سے
دن ہی چڑھتا نہیں قسمت کا مری اے افسوس
منتظر ہوں تری آمد کا کئی راتوں سے
رنگ آجاتا ہے الفت کا نگاہوں میں تری
ورنہ کیا کام ترے رندوں کا برسا توں سے
میرا مقدور کہاں شکوہ کروں ان کے حضور
مجھ کوفرصت ہی کہاں ان کی مناجاتوں سے
کامیابی کی تمنا ہے تو کر کوہ کنی
یہ پری شیشے میں اتری ہے کہیں باتوں سے
بار مل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دوپہر
دن ہوئے جاتے ہیں روشن مرے اب راتوں سے
ناز سے غمزہ سے عشوہ سے فسوں سازی سے
لے گئے دل کو اڑا کر مرے کن گھاتوں سے
کبھی گریہ کبھی آہ وفغاں ہے اے دل
تنگ آیا ہوں بہت میں تری باتوں سے
تومری جاں کی غذاہےمرے دل کی راحت
پیٹ بھرتا ہی نہیں تیری ملاقاتوں سے

(کلام محمود صفحہ200)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جون 2021