• 15 جنوری, 2021

اصل نیکی خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے تو اس بات کا ادراک ہونا ضروری ہے کہ اصل نیکی خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور اس کی طرف سے ہی نیکی آتی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی تعلیم کو اختیار کرنے سے ملتی ہے اور نتیجۃً خدا تعالیٰ کے انعامات اور اس کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’حقیقی طور پر بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں۔ تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کے لئے مسلم ہیں۔ پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہوکر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر اخلاقِ الٰہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں …‘‘ (یعنی جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت یعنی چاہت اور پسند سے بالا ہو کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی کوشش کرتا ہے تو پھر اسے اس کا قرب حاصل ہو جاتا ہے اور اخلاق الٰہیہ جو ہیں اس کے نفس پر منعکس ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنے نفس سے بالا ہو، انسان اپنی پسندوں کوچھوڑے، اللہ تعالیٰ میں ڈوبنے کی کوشش کرے تو پھر یہ نتیجہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے جو اخلاق ہیں، اللہ تعالیٰ کے جو رنگ ہیں اس میں انسان رنگین ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو گا اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق ملتی چلتی جائے گی، بڑھتی چلی جائے گی۔)

فرمایا: ’’…پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور سچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہٖ کچھ چیز نہیں ہے۔ سو اخلاق فاضلہ الٰہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں …‘‘ اللہ تعالیٰ کے جو اخلاق فاضلہ ہیں اسی کے دل پر منعکس ہوتے ہیں، انہیں سے ان کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے اسی کی جو قرآن شریف کی مکمل اور کامل پیروی کرتے ہیں اتباع کرتے ہیں۔ فرمایا: ’’…اور تجربہ صحیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ ان سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگرچہ منہ سے ہر یک شخص دعویٰ کرسکتا ہے اور لاف و گذاف کے طور پر ہریک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجربہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلّف اور تصنّع سے ظاہر کرتے ہیں …‘‘ (جو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرتا ہے قرآن شریف کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی سے ہی ایسے اخلاق ظاہر ہوں گے۔ دوسری دنیا میں یا اس کے علاوہ اگر کوئی اخلاق فاضلہ ظاہر کرتا ہے یا بظاہر اخلاق ظاہر ہو رہے ہیں تو تکلف ہے، تصنع ہے، بناوٹ ہے۔)

فرمایا: ’’… اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں …‘‘ (ان کے اوپر جو گند ہیں، زنگ لگے ہوئے ہیں ان کو انہوں نے چھپایا ہوتا ہے، اخلاق اصل میں نہیں ہوتے وہ ظاہری لیپا پوتی ہوتی ہے، بناوٹ ہوتی ہے، تصنع ہوتی ہے۔

فرمایا: ’’… اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں …‘‘ (سب کچھ انہوں نے چھپایا ہوتا ہے۔) ’’… اور ادنیٰ ادنیٰ امتحانوں میں ان کی قلعی کھل جاتی ہے…‘‘ (جب امتحان آتا ہے، آزمایا جاتا ہے تو قلعی کھل جاتی ہے۔ ذاتی مقدمے ہوتے ہیں تو اس وقت پتا لگ جاتا ہے کہ کتنے پانی میں ہیں۔ جھوٹ اور سچ اور اخلاق سب ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہ پتا لگ جاتا ہے کہ جھوٹ کتنا ہے۔ سچ کو کتنا چھپایا جا رہا ہے یہ پتا لگ جاتا ہے۔ اخلاق کس حد تک دکھائے جا رہے ہیں یہ پتا لگ جاتا ہے۔ اور یہ نہ بھی ہو تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مثال دی ہے کہ ایک دفعہ بڑے پڑھے لکھوں کی ایک جگہ ایک مجلس میں جو ظاہری طور پر سوسائٹی کے بڑے سرکردہ بنے پھرتے تھے، ان کی مجلس میں فیصلہ ہوا کہ آج بے تکلف مجلس ہونی چاہئے اور آپ کہتے ہیں اس بے تکلفی کا معیار یہ تھا کہ جو کچھ بیہودگیاں ہو سکتی تھیں وہ کی گئیں۔ تو وہاں ان سب کی قلعی کھل جاتی ہے۔

فرمایا: ’’… اور تکلف اور تصنع اخلاق فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دنیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں …‘‘ (یہ تکلف اور تصنع اور اخلاق کیوں دکھائے جاتے ہیں؟ اس لئے کہ ان کی جو دنیا ہے، جو دنیاوی باتیں ہیں، معاشرہ ہے اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ چیزیں دکھانی ضروری ہیں۔ اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ اس لئے دکھایا جاتا ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے۔)

فرمایا: ’’…اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے…‘‘ جو ان کے دلوں میں گندگی اور آلائشیں شامل ہوئی ہوئی ہیں اگر اس کی پیروی کریں، اس کے پیچھے چلیں تو جو کچھ ان کے دنیاوی کام ہیں وہ پھر متاثر ہوں گے، ان میں خلل پڑے گا۔ اس لئے یہ اخلاق دکھانے کا مقصد صرف ذاتی مفاد ہوتا ہے نہ کہ اخلاق کو لاگو کرنا۔ اخلاق پر عمل کرنا اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اخلاق اس لئے دکھانا کہ دوسرے کا فائدہ ہو، (یہ مقصد نہیں ہوتا)۔

(خطبہ جمعہ 2؍ مئی 2014ء بحوالہ الاسلام)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 11 جنوری 2021