• 15 اگست, 2022

خلیفہ وقت کی اطاعت ہم سب پر لازم ہے

خلیفہ وقت کی اطاعت ہم سب پر لازم ہے
از اقتباسات حضرت مصلح موعودؓ

جو شخص میری اطاعت سے باہر ہے
وہ نبی کی اطاعت سے باہر ہے

’’میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقلمند اور مدبر ہو۔ اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں۔ اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو۔ ہر گز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔ بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر کھڑا ہوں۔ ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ وہ یقینا ً نبی کی اطاعت سے باہر جاتا ہے۔ جو میرا جوأ اپنی گردن سے اتارتا ہے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جوأ اتارتا ہے اور جو ان کا جوأ اتارتا ہے۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوأ اتارتا ہے اور جو اۤنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوأ اتارتا ہے، وہ خد تعالیٰ کا جوأ اتارتا ہے میں بے شک انسان ہوں، خدا نہیں ہوں۔ مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍اگست 1937ء مطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 4؍ستمبر 1937ء صفحہ8)

جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے

’’اسلامی اصول کے مطابق یہ صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور اۤخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا ہے اور جس کی اۤواز اۤخری اۤواز ہے، کسی انجمن، کسی شوریٰ یا کسی مجلس کی نہیں ہے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بیشک تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ تم اس کے متعلق دیکھ سکتے ہو اور غور کر سکتے ہو مگر باطنی طور پر خدا کے ہاتھ میں ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں۔ اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے۔ ان قواعد اور اصولوں کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتا رہے گا۔ اور اسے وہ عظمت حاصل ہو گی جو اس کام کے لیے ضروری ہے۔‘‘

(رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 7؍اپریل 1925ء صفحہ24 بحوالہ احمدیہ گزٹ کینیڈا، مئی 2001ء)

اطاعت سے ہی اتحاد اور ترقی ممکن ہے

’’جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اس بات کو رد کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو رد کرتا ہے۔ صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خداتعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے۔ جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خداتعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔

پس اے جماعت احمدیہ! اپنے آپ کو ابتلاء میں مت ڈال اور خداتعالیٰ کے احکام کو ردّ مت کر کہ خدا کے حکموں کو ٹالنا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ اسلام کی حقیقی ترقی اس زمانہ میں ہوئی جو خلافت راشدہ کا زمانہ کہلاتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی ترقیوں کو مت روک اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مت مار۔ کیسا نادان ہے وہ انسان جو اپنا گھر آپ گراتا ہے اور کیا ہی قابل رحم ہے وہ شخص جو اپنے گلے پر آپ چھری پھیرتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج مت بو اور جو سامان خداتعالیٰ نے تیری ترقی کے لئے بھیجے ہیں ان کو رد مت کر کیونکہ فرمایا ہے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ۔ (ابراہیم: 8)

البتہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی راہ اختیار کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔‘‘

(کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے،انوار العلوم جلد2 صفحہ13تا14)

جماعتی ترقی کا راز

’’جس نے خلیفہ وقت کی بیعت کی ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ وقت کی بیعت کے بعد اس پر یہ فرض عائد ہوچکا ہے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے …ہمارے سپرد ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ کام کبھی سرانجام نہیں دیا جاسکتا جب تک ہر شخص اپنی جان اس راہ میں لڑا نہ دے۔ پس تم میں سے ہر شخص خواہ دنیا کا کوئی کام کررہا ہو اگر وہ اپنا سارا زور اس غرض کے لیے صرف نہیں کر دیتا، اگر خلیفۂ وقت کے حکم پر ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار نہیں رہتا۔ اگر اطاعت اور فرمانبرداری اور ایثار ہر وقت اس کے سامنے نہیں رہتا تو اس وقت تک نہ ہماری جماعت ترقی کرسکتی ہے اور نہ وہ اشخاص مومنوں میں لکھے جاسکتے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍اکتوبر 1946ء مطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 15؍نومبر 1946ء صفحہ6)

خلیفہ کی اطاعت، ایمان
اور اعمال صالحہ کی ضمانت ہے

’’یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔ اگر اسلام اور ایمان اس چیزکا نام نہ ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے کسی مسیح کی ضرورت نہیں تھی لیکن اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے مسیح موعود کی ضرورت تھی تو مسیح موعود کے ہوتے ہماری بھی ضرور ت ہے۔ ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں۔ ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی۔ جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا۔ اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍اکتوبر 1946ء مطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 15؍نومبر 1946ء صفحہ6)

خلیفۂ وقت سے مشورہ اور اس کی اہمیت

’’جب تک باربار ہم سے مشورے نہیں لیں گے اس وقت تک ان کے کام میں کبھی برکت پیدا نہیں ہو سکتی۔ آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ نہیں دی۔ میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی ہے۔ انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتاتا ہے انہیں نہیں بتاتا۔ پس تم مرکز سے الگ ہو کر کیا کر سکتے ہو۔ جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے۔ جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنادیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم کام کر سکتے ہو۔ اس سے جتنا زیادہ تعلق رکھو گے۔ اسی قدر تمہارے کاموں میں برکت پیدا ہو گی۔اور اس سے جس قدر دُور رہو گے۔ اُسی قدر تمہارے کاموں میں بے برکتی پیدا ہوگی جس طرح وہی شاخ پھل لاسکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔ وہ کٹی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کرسکتی جو درخت سے جدا ہو اسی طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا کام بھی نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکروٹہ کر سکتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر 1946ءمطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 20؍نومبر 1946ء صفحہ7)

مبلغین و واعظین کو وعظ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت کی اسی اہمیت کے پیش نظر ایک موقع پر مبلغین اور واعظین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’مبلغین اور واعظین کے ذریعہ بار بار جماعتو ں کے کانوں میں یہ اۤواز پڑتی رہے کہ پانچ روپے کیا،پانچ ہزار روپیہ کیا، پانچ لاکھ روپیہ کیا، پانچ ارب روپیہ کیا، اگر ساری دنیا کی جانیں بھی خلیفہ کے ایک حکم کے اۤگے قربان کردی جاتی ہیں تو وہ بے حقیقت اور ناقابلِ ذکر چیز ہیں …اگر یہ باتیں ہر مرد، ہر عورت،ہربچے، ہر بوڑھے کے ذہن نشین کی جائیں اور ان کے دلوں پر ان کا نقش کیاجائے تو وہ ٹھوکریں جو عدمِ علم کی وجہ سے لوگ کھاتے ہیں کیوں کھائیں۔‘‘

(تعلیم العقائد والاعمال پر خطبات صفحہ65۔مرتب شیخ یعقوب علی عرفانیؓ)

اللہ تعالیٰ ہمیں خلیفہ وقت کی زبان مبارک سے نکلے ایک ایک لفظ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے،ہم اپنے عملی نمونوں سے اپنی اولادوں کے ذہنوں میں خلافت کا مقام و مرتبہ اجاگر کرنے والے ہوں۔ آمین

(محمد ریحان)

پچھلا پڑھیں

اسلامی اصطلاحات کا بر محل استعمال (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ