• 25 اپریل, 2024

مومن کی ہر ایک چیز بابرکت ہو جاتی ہے

قرآن اورحدیث سے ثابت ہے کہ مومن کی ہر ایک چیز بابرکت ہو جاتی ہے جہاں وہ بیٹھتا ہے وہ جگہ دوسروں کیلئے موجب برکت ہوتی ہے۔اس کا پس خوردہ اوروں کیلئے شفا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک گنہگار خدا تعالیٰ کے سامنے لایا جاوے گا۔خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تونے کوئی نیک کام کیا؟ وہ کہے گا کہ نہیں۔پھر خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ فلاں مومن تو ملا تھا وہ کہے گا خداوند میں ارادتاً تو کبھی نہیں ملا وہ خود ہی ایک دن مجھے راستہ میں مل گیا۔خدا تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ پھر ایک اور موقعہ پر حدیث میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرے گا کہ میرا ذکر کہاں پر ہو رہا ہے؟ وہ کہیں گے کہ ایک حلقہ مومنین کا تھا جہاں دنیا کے ذکر کا نام و نشان بھی نہ تھا؛ البتہ ذکر الٰہی آٹھوں پہر ہو رہا ہے۔اُن میں ایک دنیا پرست شخص تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اس دنیادار کو اس ہم نشینی کے باعث بخش دیا۔ اِنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۔

بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ جہاں ایک مومن امام ہو اس کے مقتدی پیش ازیں کہ وہ سجدہ سے سر اُٹھاوے بخش دیئے جاتے ہیں۔

مومن وہ ہے کہ جس کے دل میں محبتِ الٰہی نے عشق کے رنگ میں جڑ پکڑلی ہو۔اس نے فیصلہ کر لیا ہو کہ وہ ہر ایک تکلیف اور ذلت میں بھی خدا تعالیٰ کا ساتھ نہ چھوڑے گا۔اب جس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کب کسی کا کانشنس کہتا ہے کہ وہ ضائع ہو گا کیا کوئی رسول ضائع ہوا؟ دنیا ناخنوں تک اُن کو ضائع کرنے کی کوشش کرتی ہے،لیکن وہ ضائع نہیں ہوتے جو خدا تعالیٰ کے لیے ذلیل ہو وہی انجام کا ر عزت و جلال کا تخت نشیں ہوگا۔ایک ابو بکرؓ ہی کو دیکھو جس نے سب سے پہلے ذلت قبول کی اور سب سے پہلے تخت نشین ہوا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ پہلے کچھ نہ کچھ دکھ اٹھانا پڑتا ہے کسی نے سچ کہا ہے ؎

عشق اوّل سرکش و خونی بود
تا گریزد ہر کہ بیرونی بود

شق الٰہی بے شک اول سرکش و خونی ہوتا ہے تا کہ نا اہل دور ہو جاوے۔عاشقانِ خدا تکالیف میں ڈالے جاتے ہیں۔قسم قسم کے مالی اور جسمانی مصائب اُٹھاتے ہیں اور ا س سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل پہچانے جاویں۔خدا تعالیٰ نے یہ امر مقرر کر دیا ہے کہ جب تک کوئی پہلے دوزخ پر راضی نہ ہو جاوے بہشت میں نہیں جاتا۔ بہشت دیکھنا اسی کو نصیب ہوتا ہے جو پہلے دوزخ دیکھنے کوتیارہوتا ہے۔دوزخ سے مراد آئندہ دوزخ نہیں بلکہ اس دنیا میں مصائب شدائدکا نظارہ مراد ہے۔


(ملفوظات جلد چہارم صفحہ31 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

حدیث ’’من سبّ نبیّا فاقتلوہ‘‘ پر ایک علمی نظر

اگلا پڑھیں

آج کی دعا