• 8 مارچ, 2021

جماعت احمدیہ مالٹا کے خدمت خلق کے پروگرام (قسط دوم)

مرا مقصود و مطلوب و تمنّا، خدمت ِ خلق است
جماعت احمدیہ مالٹا کے خدمت خلق کے پروگرام
(قسط دوم)

مغربی ممالک میں ماہِ دسمبر خاص اہتمام سے منایا جاتا ہے اور لوگ اپنے لئے، اپنے عزیزواقارب، رشتہ داروں اور دوست احباب کے لئے تحائف خریدتے ہیں۔ ماہِ دسمبر کی آمد کے ساتھ ہی یہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور اس ماہ کثرت سے خریدوفروخت ہوتی ہے۔ ان ایام میں جہاں امیر اور صاحب ِ ثروت لوگ کثرت سے تحائف خریدتے ہیں وہیں غرباء اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ مادیت کی دوڑ اکثر غرباء کے لئے بے چینی، حسرت اور احساس کمتری کے جذبات پید اکردیتی ہے اور باوجود شدید خواہش کے وہ اپنے لئے یا اپنے پیاروں کے لئے تحائف نہیں خرید سکتے۔ ایسے وقت میں ضرورتمند افراد کی خدمت یقینا ایک احسن عمل ہے اور یہ خدمت ضرورتمندوں کے دلوں میں خوشی و مسرت کی ایک لازوال لو جلادیتی ہے اورانہیں خوشیوں کے لمحات میسر آتے ہیں۔

امسال کروناوائرس کی وجہ سے مجموعی طور پر دنیا کے حالات بہت پریشان کن ہیں۔ کروناوائرس کی وجہ سے جہاں صحت عامہ کو خدشات لاحق ہوئے ہیں وہیں لوگوں کے مالی مسائل ومشکلات بہت بڑھ گئی ہیں اور غربت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ان گھٹن اور تکلیف کے ایام میں ضرورتمند دکھی انسانیت کے چہروں پر خوشی بکھیرنا یقیناً خداتعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو جذب کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور پیارے آقا کی دعاؤں کی برکت سے جماعت احمدیہ مالٹا کو خدمت خلق کی بھرپور توفیق ملی۔فالحمدللہ علیٰ ذلک

مؤرخہ 15 دسمبر 2020 کو معذ ور افرادکے لئے قائم ایک فلاحی ادار Dar tal-Providenza میں جا کر اس ادارہ میں مقیم تمام معذور افراد اور سٹاف کے لئے تحائف پیش کرنے کی توفیق ملی۔

اسی طرح مہاجرین کے لئے قائم ایک ادارہ Lab Peace کابھی جماعتی وفد کے ہمراہ دورہ کیا۔اور اس ادارہ کے بانی و سربراہ پادری Dijonisju Mintoff صاحب کو تحائف پیش کئے گئے تاکہ اس ادارہ میں مقیم مہاجرین میں یہ تحائف تقسیم کئے جاسکیں۔ پادری موصوف کا جماعت کے ساتھ بہت اچھاتعلق ہے اوروہ ہمیشہ جماعتی خدمات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

منشیات کے عادی لوگوں کے لئے قائم ادارہ کا وزٹ

اسی طرح ایک فلاحی تنظیم Caritas Malta کے زیر انتظام منشیات کے عادی لوگوں کے لئے بنائے گئے Therapeutic سینٹر کو وزٹ کرنے، وہاں لوگوں سے ملنے اور انہیں تحائف پیش کرنے کی توفیق ملی ۔ اس سینٹر میں لوگوں کومختلف گروپوں میں رکھا جاتا ہے جن میں عورتوں کا ایک گروپ بھی شامل ہے۔ اس ادارہ کی انتظامیہ نے خاص طور پر انتظام کیا ہوا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات کے عادی لوگوں سے گفتگو کی جائے اور منشیات کے نقصانات سے آگاہی اور ان سے چھٹکارہ پانے کے لئے ان کی راہنمائی کی جائے اسی طرح جماعت کے اس دورہ کے مقاصد بھی بیان کئے جائیں۔

خاکسار نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خدمت انسانیت سے متعلق اسلامی تعلیمات، منشیات کے نقصانات اور ان سے چھٹکارہ کے طریق اور جماعت احمدیہ مسلمہ کا تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر لوگوں نے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے جماعت احمدیہ مسلمہ کی خدمات کو سراہا اور کہنے لگے کہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان حالات میں تو اپنے بھی حقارت سے دیکھتے ہیں مگر جماعت احمدیہ نے ہمیں عزت بخشی ہے۔ اس سے ہمارا مورال بلند ہوا ہے اور ہم اس بری عادت سے نجات حاصل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

صحبت ِصالحین کی اہمیت

ایک صاحب کہنے لگے کہ میں اس ری ہیبی لیئیشن (بحالی مرکز) میں پہلے بھی آچکاہوں۔ میں کامیابی کے ساتھ منشیات ترک کرنے کے بعد پھر کچھ عرصہ بعد اس عادت میں دوبارہ مبتلا ہوجاتا ہوں۔خاکسار نے انہیں بتایا کہ قرآن کریم نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے کہ ہم اچھے لوگوں کو دوست بنائیں، صحبت صالحین اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ’’اے مومنو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور نیک، راست باز اور صادقوں کی صحبت اختیارکرو۔‘‘(9:119)

خاکسار نے انہیں بتایا کہ دوستوں کا انسان پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس لئے جب ہم اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرتے ہیں تو ہماری توجہ ہمیشہ نیکی کی طرف رہتی ہے مگر برے لوگوں کی صحبت انسان کو برا بنادیتی ہے۔ اس لئے آئندہ آپ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے دوست اچھے ہوں تاکہ دوبارہ پھر اس عادت کا شکار نہ ہوں۔

عورت بحیثیت ماں

خواتین کے گروپ میں بعض مائیں بھی تھیں۔ جب ان سے بات کی اور بطور ماں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور ماں کی عدم موجودگی بچوں پر کس قدر گراں گزرتی ہے اور یہ کہ ماں کی توجہ اور محبت کا کوئی ثانی نہیں۔ جب ماں اپنے بچوں سے جدا ہوتی ہے تو یہ بات بچوں کی جسمانی، علمی اور روحانی نشوونما کو بری طرح متأثرکرتی ہے۔

ان باتوں نے ان ماؤں کے شعور کو گرمایا اور دلوں کو نرم کیا تو ان کے جذبات آنسوؤں میں بہنے لگے۔ وہ ایک جذباتی منظر تھا۔ ایک ماں نے کہا کہ بچوں سے متعلق آپ کی باتوں نے میرے دل پر گہرا اثر کیا ہے۔ ماں کی کیفیت ایک ماں ہی جان سکتی ہے۔ اور میں بطور ماں یہ جانتی ہوں کہ یہ بات کتنی کرب ناک ہے۔ ایک ماں کہنے لگیں کہ میں کبھی اپنے بچوں سے جدا نہیں ہوئی اس دفعہ میرے یہ دن بچوں سے دور گزر رہے ہیں اور یہ میرے لئے نہایت مشکل امر ہے۔

ایک مالٹی عیسائی عورت نے بیان کیا کہ ان کے خاوند مسلمان تھے اور منشیات کی وجہ سے ان کا جوانی میں انتقال ہوگیاہے۔ ان کے انتقال کو سولہ ماہ ہوگئے ہیں مگر وہ آج بھی ان کی جدائی محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میرے خاوند کے ایثال ثواب کے لئے دعا کی جائے۔ خاکسار نے مسنون دعائیں بلند آواز میں پڑھیں اور تمام حاضرین اس میں شامل ہوگئے۔ یہ ایک نہایت ہی جذباتی منظر تھا اور تمام شاملین پر اس کا گہرا اثر ہوا۔

ان پروگراموں کو مقامی میڈیا نے خصوصی کوریج دی جس سے گھر گھر میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی خدمات کی خبر پہنچی اور یہ خدمت انسانیت اسلام احمدیت کی تبلیغ کا بھی ذریعہ بنی۔ مالٹا میں مقیم ایک ترک دوست نے ترکی زبان میں ویب سائیٹ بنائی ہے۔ انہوں نے خدمت خلق کے ان پروگراموں کا ترک زبان میں ترجمہ کرکے ویب سائیٹ پر نشر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سترہ سو سے زائد لوگوں نے اس ویب سائیٹ کو سب سکرائب کیا ہوا ہے۔ اس طرح سینکڑوں ترک مسلمانوں تک ترکی زبان میں بھی جماعت کا پیغام پہنچا۔

Why turn to drugs?

اس ادارہ کے وزٹ کے بعد لوگ منشیات کا استعمال کیوں کرتے ہیں کے عنوان پر انگریزی زبان میں ایک مضمون لکھا جو کہ مالٹا کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار دی ٹائمز میں شائع ہوا۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک
قارئین الفضل کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان حقیر کاوشوں کو اپنے حضور قبول فرمائے، ہمیں بیعتوں سے نوازے اور اس ملک کے لوگوں کوجلد قبول اسلام احمدیت کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

(رپورٹ : لئیق احمد عاطف مبلغ سلسلہ و صدرجماعت احمدیہ مسلمہ مالٹا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جنوری 2021