• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

وابستگی و اطاعت خلافت۔ حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں

دراصل بیعت کے بعد حقیقی رشتہ خلیفہ وقت سے قائم ہوتا ہے اور باقی سب رشتے اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ بیعت کے بعد دوسرے تمام لوگوں کی اطاعتیں اور تمام قسم کی وفاداریاں جائز ہیں لیکن ان کی وجہ سے خلیفہ وقت کی اطاعت سے کسی طور بھی انحراف نہیں ہونا چاہئے۔ خلیفہ کے احکام، ارشادات و تحریکات واجب الاطاعت ہیں ان کے مقابل کسی اور رشتے یا کسی اور تعلق کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہ جاتی۔ بلکہ ان تعلقات کا انقطاع اور تمام دوستوں اور محبتوں کا اختتام ہو جانا ضروری ہو جاتاہے۔ صرف اور صرف خلیفہ وقت کی اطاعت ہی مومنین کے مدنظر ہونی چاہئے۔ ہر وہ انسان جو چاہتا ہے کہ اسے ہر میدان میں کامیابی ملے، اسے فتح نصیب ہوتو اسے چاہئے کہ وہ خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے آ پ کو خلافت کے ساتھ وابستہ کرلے اور نتیجتاً اس کی کامیابی یقینی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کےدرج ذیل ارشادات سے خلیفہ وقت کی اطاعت اور خلیفہ کا مقام اور اس کی اہمیت عیاں ہے۔

بیعت خلافت کے بعد مبائعین کی ذمہ داریاں

اس سلسلہ میں سیدنا حضرت المصلح الموعود ؓفرماتے ہیں۔
’’جو جماعتیں منظم ہوتی ہیں ان پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کے بغیر ان کے کام کبھی بھی صحیح طور پر نہیں چل سکتے ۔۔۔۔۔۔ ان شرائط اور ذمہ داریوں میں سے ایک اہم شرط اورذمہ داری یہ ہے کہ جب وہ ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تو پھر انہیں امام کے منہ کی طرف دیکھتے رہنا چاہئے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس کے قدم اٹھانے کے بعد اپنا قدم اٹھانا چاہئے اور افراد کو کبھی بھی ایسے کاموں میں حصہ نہیں لینا چاہئے جن کے نتائج ساری جماعت پر آ کر پڑتے ہوں کیونکہ پھر امام کی ضرورت اور حاجت ہی نہیں رہے گی۔ امام کا مقام تویہ ہے کہ وہ حکم دے اور ماموم کا مقام یہ ہے کہ وہ پابندی کرے۔‘‘

(الفضل 5 جون 1937ء)

کامیابی کی کنجی

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں:
’’اگر ایک امام اورخلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لئے کسی آزاد تدبیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم پرجو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھاتا ہے اپنی مرضی اورخواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے۔ اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے۔ اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے۔ اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔ اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کے لئے کامیابی اورفتح یقینی ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 4ستمبر1937ء)

کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو پوری طرح خلافت کے ساتھ وابستہ رکھیں، اپنا سب کچھ خلافت پرنثار کرنے کے لئے تیار ہوں اور خلیفۂ وقت کی دعائیں حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ کیونکہ ’’اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت کو بڑھا دیتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔‘‘

(منصب خلافت، انوار العلوم جلد 2 صفحہ 49)

کامیابی کی ضمانت

حضور ؓفرماتے ہیں:
’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقل مند اور مدبر ہو اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہر گز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کاکوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا، بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو‘‘۔

(الفضل 4 ستمبر 1937ء)

خلفاء قرب الہٰی کے حصول میں ممد ہیں

اطاعت خلافت کے نتیجہ میں قرب الہٰی کا حصول ہوتا ہے۔ خلیفۂ وقت زمین پرخدا تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہے اور جو خدا تعالیٰ تک رسائی کے لئے رہنمائی کرتا ہے۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں ۔
’’انبیاء اورخلفاء اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول میں ممد ہوتے ہیں۔ جیسے کمزور آدمی پہاڑ کی چڑھائی پرنہیں چڑھ سکتا تو سونٹے یا کھڈ سٹک کا سہارا لے کر چڑھتا ہے۔ اسی طرح انبیاء اور خلفاء لوگوں کے لئے سہارے ہیں۔ وہ دیواریں نہیں جنہوں نے الہٰی قرب کے راستوں کو روک رکھا ہے بلکہ وہ سونٹے اور سہارے ہیں جن کی مدد سے کمزور آدمی بھی اللہ کا قرب حاصل کرلیتا ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 11 ستمبر 1937ء)

خلافت کی اطاعت میں خدا تعالیٰ کی اطاعت

حضور فرماتے ہیں :
’’بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر اور اس کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے وہ یقیناً نبی کی اطاعت سے باہرہوتا ہے ……میر ی اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 4 ستمبر 1937ء)

نصرت ہمیشہ اطاعت سے ملتی ہے

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ خلافت کی اطاعت کی طرف جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’وہی خدا جو اس وقت فوجوں کے ساتھ تائید کے لئے آیا آج میری مدد پر ہے اور اگر آج تم خلافت کی اطاعت کے نکتہ کو سمجھو تو تمہاری مددکو بھی آئے گا۔ نصرت ہمیشہ اطاعت سے ملتی ہے جب تک خلافت قائم رہے نظامی اطاعت پر، اور جب خلافت مٹ جائے انفرادی اطاعت پر ایمان کی بنیاد ہوتی ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 4 ستمبر 1937ء)

نیز فرمایا:
’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقل مند اور مدبر ہو اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو ہر گز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یادرکھو اس کاکوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنا ، بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔‘‘

(روزنامہ الفضل 4ستمبر1937ء)

اطاعت رسول خلیفہ کے بغیر ہو ہی نہیں ہو سکتی

فرمایا: ’’اطاعت رسول بھی جس کااس آیت میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے رشتہ میں پرویا جائے یوں تو صحابہؓ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آج کل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔ صحابہؓ بھی حج کرتے تھے اورآج کل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں۔ پھر صحابہؓ اور آج کل کے مسلمانوں میں فرق کیا ہے؟ یہی کہ صحابہ میں ایک نظام کا تابع ہونے کی وجہ سے اطاعت کی روح حد کمال تک پہنچی ہوئی تھی چنانچہ رسول کریم ﷺ انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے صحابہ اسی وقت اس پر عمل کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن یہ اطاعت کی روح آج کل کے مسلمانوں میں نہیں ……کیونکہ اطاعت کامادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب خلافت ہوگی، اطاعت رسول بھی ہوگی‘‘۔

(تفسیر کبیر جلد ششم، سورۃ النور صفحہ 369)

اطاعت امام میں ہی ہر قسم کی فضیلت ہے

حضورؓ فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے ۔۔۔۔۔۔ ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعودؑ پر ایمان لاتا ہوں۔ ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتاہوں۔ خداکے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا۔ جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اسکی اطاعت میں اپنی زندگی کاہر لمحہ بسر نہیں کرتا۔ اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔‘‘

(روزنامہ الفضل 15نومبر1946ء)

نعمتِ خلافت کی قدردانی کرنے کی تلقین

حضور ؓفرماتے ہیں:
’’خلافت بھی چونکہ ایک بھاری انعام ہے اس لئے یاد رکھو جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے ۔ ……… فسق کا فتویٰ انسان پراسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفاء کی اطاعت سے انکار کرے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد ششم، سورہ نور صفحہ 370۔374)

تمام برکات خلیفۂ وقت سے تعلق کے نتیجہ میں مل سکتی ہیں

سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ فرماتے ہیں :
’’جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے، جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے ، جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنا دیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم کام کر سکتے ہو۔ اس سے جتنا تعلق رکھو گے اسی قدر تمہارے کاموں میں برکت پیدا ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔ وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہووہ اتنا کام بھی نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکروٹا کر سکتاہے۔‘‘

(الفضل 20 نومبر 1946ء)

خلافت سے وابستگی اور اس کی برکات

خلافت سے وابستگی کی برکت کے بارہ میں ایک دفعہ فرمایا:
’’جب تک تم اس کو پکڑے رکھو گے تو کبھی دنیا کی مخالفت تم پر اثر نہ کر سکے گی۔ بیشک افراد مریں گے ، مشکلات آئیں گی ، تکالیف پہنچیں گی مگر جماعت کبھی تباہ نہیں ہوگی بلکہ وہ دن بدن بڑھے گی۔‘‘

(درس القرآن 1921ء، صفحہ 73)

اس حوالے سے ایک اور جگہ فرمایا:
’’خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پہ ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ان کے لئے (یعنی غیر مبایعین کے لئے) صرف دو ہی راہ کھلے ہیں یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے اپنے خون کے آنسوؤں سے سینچا ہے اکھاڑ کر پھینک دیں۔ جو کچھ ہو چکا، ہوچکا۔ مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔‘‘

(الفضل 18 فروری 1958ء، تقریر لاہور)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد خلافتِ احمدیہ کے بابرکت قیام کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 24 مئی 2019ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا:

’’خلافتِ احمدیہ کے ذریعے ہی دنیا اب امّتِ واحدہ بننے کا نظارہ بھی دیکھ سکتی ہے اور اس کے بغیر نہیں جب تک خلافتِ احمدیہ سے یہ تعلق اور محبت رہے گا خوف کی حالت بھی امن میں بدلتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی تسلی کے سامان بھی پیدا فرماتا رہے گا۔ ان شاء اللہ ۔خلافت کی باتوں پر عمل کرنا بھی تمہارے لئے ضروری ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔ قومی اور روحانی زندگی کے جاری رکھنے کے لئے مومنین کے لئے یہ انتہائی ضروری چیز ہے کہ اپنی اطاعت کے معیار کو بڑھائیں۔ بیعت کے بعد اپنی سوچوں کو درست سمت میں رکھنا اور کامل اطاعت کے نمونے دکھانا انتہائی ضروری ہے۔عام اطاعت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرو۔ اس کی عبادت بھی سنوار کر کرو۔ایسے اعلیٰ اخلاق ہوں کہ احمدی اور غیر احمدی میں فرق صاف نظر آنے لگ جائے۔ دنیاوی خواہشات اور ان کے پیچھے پڑ کر دین کو ثانوی حیثیت دینے کی حالت بھی شرک کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم میں اطاعت کا مادہ ہے۔

کس حد تک ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ کس حد تک ہم اپنی عبادتوں کو سنوار رہے ہیں۔ کس حد تک سنت پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کس حد تک ہماری اطاعت کے معیار ہیں۔ہر ایک کو کچھ نہ کچھ تاریخ سے آگاہی بھی ہونی چاہے۔جو خلافت سے وابستہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرتے رہیں گے، اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے، تزکیہ نفس اور تزکیہ اموال کرتے رہیں گے، اطاعت میں اعلیٰ معیار قائم کرتے رہیں گے وہ ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 10 جون 2019 صفحہ 5 تا 9)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ نے جس حکمت و دانش، جوانمردی اور الہٰی بصیرت سے جماعت کو متحد رہنے اور آپس میں اخوت و محبت کے قائم رکھنے کے لئے دن رات درس و تدریس اور وعظ و نصیحت سے کام لیا اور خلافت کی برکات پہ جو ارشاد ات فرمائے وہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہیں جن کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا وہ حصہ تو دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا چلا گیا جو خلافت کے دامن سے وابستہ تھا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو خلیفہ وقت کا مقام صحیح طور پر سمجھنے اور حقیقی اطاعت اور فرمانبرداری کی روح ہمارے اندر پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

(پروفیسر مجید احمد بشیر)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ