• 15 جنوری, 2021

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ

یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج
یہی کابلی مل کے گھر میں ہے آج
اسی کا تو تھا معجزانہ اثر
کہ نانک بچا جس سے وقت خطر
بچا آگ سے اور بچا آب سے
اسی کے اثر سے نہ اسباب سے
ذرہ دیکھو انگد کی تحریر کو
کہ لکھتا ہے اس ساری تقریر کو
یہ چولا ہے قدرت کا جلوہ نما
کلام خدا اس پہ ہے جابجا
جو شائق ہے نانک کے درشن کا آج
وہ دیکھے اسے چھوڑ کر کام و کاج
برس گذرے ہیں چار سو کے قریب
یہ ہے نو بنواک کرامت عجیب
یہ نانک سے کیوں رہ گیا اک نشاں
بھلا اس میں حکمت تھی کیا درنہاں
یہی تھی کہ اسلام کا ہو گواہ
بتادے وہ پچھلوں کو نانک کی راہ
خدا سے یہ تھا فضل اس مرد پر
ہوا اس کی دردوں کا اک چارہ گر
یہ مخفی امانت ہے کرتار کی
یہ تھی اک کلید اس کے اسرار کی
محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں
کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں
سنو مجھ سے اے لوگو! نانک کا حال
سنو قصّۂِ قدرتِ ذوالجلال
وہ تھا آریہ قوم سے نیک ذات
خردمند خوش خو مبارک صفات
ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال
کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال
اسی جستجو میں وہ رہتا مدام
کہ کس راہ سے سچ کو پاوے تمام
اُسے وید کی راہ نہ آئی پسند
کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند
جو دیکھا کہ یہ ہیں سڑے اور گلے
لگا ہونے دل اس کا اوپر تلے
کہا کیسے ہو یہ خدا کا کلام
ضلالت کی تعلیم ناپاک کام
ہوا پھر تو یہ دیکھ کر سخت غم
مگر دل میں رکھتا وہ رنج و الم

(روحانی خزائن جلد۱۰صفحہ161تا163)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

اعلانِ ولادت