• 1 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ ھود (گیارہویں سورہ)

(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 124 آیات ہیں)
اردو ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحبؓ) ایڈیشن 2003
مترجم: وقار احمد بھٹی

وقت ِنزول

ابنِ عباس، الحسن، مجاہد، قتادہ اور جابر بن زید کے مطابق یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی جبکہ مقاتل کے نزدیک یہ ساری سورہ مکہ میں نازل ہوئی ما سوائے آیات 13، 18 اور 115 کے جو مدنی دور میں نازل ہوئیں۔

مضامین کا خلاصہ

سابقہ سورہ میں خدا کے نبی کے دشمنوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (ا) جو مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ (ب) جنہیں مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا۔ (ج) وہ جنہیں کچھ حصہ تباہی اور کچھ حصہ معافی کانصیب ہوا۔

اس سورہ میں قرآن کریم کے اس پہلے گروہ کی بابت تفصیلات بیان ہوئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ خدا نے قوم ھود کو یوں ہلاک کیا کہ ان کا نام و نشان تک مٹا ڈالا اور ان کی جگہ ایک نئی قوم کو لایا جن سے انسانی معاملات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ سورہ اس موضوع پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ خدا انسانی اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کے اعمال کے مطابق ان سے سلوک کرتا ہے اور ان کی راہنمائی کے سامان ان کے حالات کے مطابق مہیا فرماتا ہے۔ جیساکہ یہ سامان ان کی بہتری کے لئے ہوتا ہے ایسے لوگ جو ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے وہ اخلاقی طور پر مردہ ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور جس طرح انسان کی ایک نسل کے بعد دوسری نسل آجاتی ہے اسی طرح جب پہلی مذہبی جماعت (بوجہ نافرمانی) ہلاک ہو جاتی ہےاس کی جگہ لینے دوسری آجاتی ہے۔

یہ سورہ مزید بتاتی ہےکہ الٰہی احکام کی نافرمانی کے باوجود کچھ عرصہ تک دنیاوی ترقی کرنا ممکن ہے، ہمیشہ کی ترقی صرف ان کے حصہ میں آتی ہے کہ جو خدا کے وفادار اور سچے انسان ہوتے ہیں اور ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہےاور تاریخِ دنیا سے مٹایا نہیں جاسکتا۔ اس کے بعدوہ دلائل بیان ہوئے ہیں کہ کیونکر مومن، کفار پر غالب آتے ہیں اور کفار حق کے مقابل پر ناکام ہوتے ہیں۔ اس سورہ میں یہ سنت اللہ بھی مثالوں سے واضح کی گئی ہے کہ ایسے کفار جو بہت طاقتور اور کثرت میں ہوتے تھے جب ان کا مقابلہ خدا کے عاجز پیغمبروں سے ہوا تو وہ تباہ و برباد ہو کر رہ گئےجن میں قوم نوح، ھود، صالح ، لوط اور شعیب شامل ہیں ۔

اس سورہ میں ابو الانبیاء حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ذکر بھی گیا ہے مگر وہ صرف قوم لوط کے تناظر میں ہے۔ حضر ت ابراھیم علیہ السلام کےذکر کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیاہےجو بنی اسرائیلیوں کے حوالہ سے نہیں بلکہ فرعون کے حوالہ سے ہے جو اپنے متکبر ساتھیوں کے ساتھ تباہ کر دیا گیاکیونکہ اس نے خدا کے نبی کا انکار کیا تھا۔

بعد ازاں مومنوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خدا کے غضب کا مورد بننے والے لوگوں سے تعلقات نہ بنائیں کیونکہ ایسے لوگوں سے تعلق رکھنا فطرتی طور پر انہیں بھی سزا کا مستحق بنا دے گا۔ اس کے بعد آنحضرتﷺ کو بتایا گیا ہے کہ اپنی قوم میں سے انکار کرنے والوں کی تباہی کے متعلق پریشان نہ ہوں کیونکہ آپﷺ سے پہلے کئی انبیاء کے مخالف ایسے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں جب انہوں نے حق کی مخالفت کی اور بضد انکار کیا۔

اس سورہ میں غضبِ الٰہی کی کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’سورہ ھود نے (بوجہ ذمہ داریوں کے) مجھے بوڑھا کر دیا ہے‘ (تفسیر درمنثور) آخر پر آنحضرتﷺ کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ آپ کے متبعین کو بڑی بڑی فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوں گی۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جون 2020ء