• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آفات و حادثات کے بارہ میں الہامات

امام الزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکراس زمانہ میں آنے والی آفات کاذکر کیا ہے۔ ذیل میں وہ الہامات پیش کئے جاتے ہیں جن میں آپؑ کوآفات و حادثات کی خبر دی گئی۔

• ’’28 نومبر1885ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو 28نومبر 1885ءکے دن سے پہلے آئی ہے۔ اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تامیں اس کو بیان کر سکوں ۔مجھ کو یاد ہے کہ اس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی۔ سو اس رمی کو رمی شہب سے بہت مناسبت تھی۔

یہ شہب ثاقبہ کا تماشہ جو 28نومبر 1885ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیاء کے عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا۔لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔ لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذت اٹھا نے والا میں ہی تھا۔ میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں۔ اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہوگیا تھاجس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرورکے ساتھ دیکھتا رہا۔کیونکہ میرے دل میں الہاماً ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔اور پھر اس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا جو حضرت مسیحؑ کے ظہور کے وقت میں نکلا تھا۔میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ ستارہ بھی تیری صداقت کے لئے ایک دوسرا نشان ہے۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص105,104)

• ’’حضور حجۃ الاسلام نے ایک رؤیا دیکھی کہ گویا دارالامان میں طاعون آگئی ہے۔ اس کی تفہیم کھجلی ہوئی۔آپؑ نے فرمایا ۔قادیان طاعون نامیمون سے مامون ومصئون رہے گا البتہ خارش کا مر ض ہو تو تعجب نہیں اس پر جناب نے یہ اجتہاد فرمایا ہے (کہ کھجلی پیدا کردینے والی دوا طاعون کو روک دے گی)۔ (فقرہ مندرجہ خطوط وحدانی اجتہادی اور قیاسی ہے نہ الہامی)‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص 259)

• ’’آج جو 6فروری 1898ء روز یکشنبہ ہے ۔میں نے خواب میں دیکھا کہ خداتعالی کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے ۔میرے پریہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہاکہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔ لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص 262)

• ’’(الف)مجھے ایک الہام میں یہ فقرات القاء ہوئے تھے کہ یَامَسِیْحَ الْخَلْقِ عُدْوَانَا۔ میرے خیال میں ہے کہ عدوی سے مراد یہی طاعون ہے۔‘‘
(ب) ’’یعنی اے مسیح جو خلقت کی بھلائی کے لئے بھیجا گیا۔ہماری طاعون کے دفع کے لئے مدد کر۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص264,263)

• ’’(الف) ان دنوں میں خداتعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔
اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِیْ الدَّارِ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْامِنْ اِسْتِکْبَارٍ۔ وَاُحَافِظُکَ خَاصَّۃً۔ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِیْمٍ۔
یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا۔مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں ۔اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدا ئے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔

(ب) اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اورجو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوگااور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہوجائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا تا وہ قوموں میں فرق کرکے دکھلا دے۔ لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے۔اس کے لئے مت دلگیر ہو۔ حکم الہٰی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے نفس کیلئے اور ان سب کیلئے جو ہمارے گھر کی چار دیواری میں رہتے ہیں ٹیکا کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص351,350)

• ’’خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔
یَاْتِیْ عَلَی جَھَنَّمِ زَمَانٌ لَیْسَ فِیْھَا اَحَدٌ یعنی اس جہنم پر جو طاعون اور زلزلوں کا جہنم ہے ایک دن ایسا آئے گا کہ اس جہنم میں کوئی فرد بشر بھی نہیں ہوگا۔یعنی اس ملک میں اور جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک خلق کثیر کی موت کے بعد امن کا زمانہ بخشا گیا۔ایسا ہی اس جگہ بھی ہوگا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ثُمَّ یُغَاثُ النَّاسُ وَیُعْصَرُوْنَ۔ یعنی پھر لوگوں کی دعائیں سنی جائیں گی وقت پر بارشیں ہوں گی اور باغ اور کھیت بہت پھل دیں گے اور خوشی کازمانہ آجائے گا اور غیر معمولی آفتیں دور ہوجائیں گی…

یاد رہے کہ مسیح موعودؑکے وقت میں موتوں کی کثرت ضروری تھی اور زلزلوں اور طاعون کا آنا ایک مقلد امر تھا۔ یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ جو لکھا ہے کہ مسیح موعودؑ کے دم سے لوگ مریں گے اور جہاں تک مسیح کی نظر جائے گی اس کا قاتلانہ دم اثر کرے گا۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص341)

• ’’میں ایک اور رؤیا لکھتاہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر مونہہ آدمی کے مونہہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہوگیا اور میں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بن ہیں جن میں بیل،گدھے،گھوڑے، کتے، سور، بھیڑئیے، اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بد عملوں سے ان صورتوں میں ہیں۔

اورپھر میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور ،جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے، جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہوگیا ہے،وہ میرے پاس آبیٹھا ہے اور قطب کی طرف اس کا منہ ہے۔خاموش صورت ہے،آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد ان بَنوں میں سے کسی بَن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بَن میں داخل ہوتاہے تو اس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شور قیامت اٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتاہے اور ہڈیوں کے چاٹنے کی آواز آتی ہے تب وہ فراغت کرکے پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہےاور پھر دوسرے بن کی طرف جاتاہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آبیٹھتا ہے۔آنکھیں اس کی بہت لمبی ہیں اور میں اس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتاہے خوب نظر لگاکر دیکھتاہوں اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتاہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے۔میں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پرہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کو حکم ہوتا ہے۔

تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابۃ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے…یہی دابۃ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے،جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقررہے۔یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خداتعالیٰ نے اس کانام دابۃ الارض رکھا۔ کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہےاور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہوسکتی ہے اسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص353,352)

• ’’رات کو میں نے دیکھا کہ ایک بڑا زلزلہ آیا ۔مگر اس سے کسی عمارت وغیرہ کا نقصان نہیں ہوا۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص 374)

• ’’(الف) خواب میں اول دیکھا کہ ایک چوغہ سیاہ رنگ مجھ کو دیا گیا ہے اور اس کے لوہے کے بٹن میرے ہاتھ میں ہیں اور پھر میں نے اس کے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے ایک پرچہ نکلا۔اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔

بلا نازل یا حادث یا… اور میں نے خواب میں اپنی بیوی کے پاس یہ ذکر کیا کہ اس میں یہ لکھا ہو اہے کہ بلا نازل یا حادث یا… اور دو پرچہ اور تھے ان کا مضمون یاد نہیں۔‘‘

’’(ب) فرمایا یہ الفاظ الہام ………ہوئے ہیں مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔ بلا نازل یا حادث یا……… یاد نہیں رہا کہ ’’یا‘‘ کے آگے کیا تھا۔ رؤیا کامعاملہ بھی عجیب ہے۔ پیچ درپیچ بات ہوتی ہے اور الگ الگ رنگ ہوتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ کی شہادت کو آنحضرتؐ نے گائیوں کے ذبح ہونے کے رنگ میں دیکھا حالانکہ خدا اس بات پر قادر تھا کہ خواب میں خاص صحابہ ہی کو دکھلا دیتا۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص392,391)

• ’’رؤیا میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے زلزلہ کا ایک دھکہ۔ مگر میں نے کوئی زلزلہ محسوس نہیں کیا ۔نہ دیوار ،نہ مکان ہلتا تھا۔بعد ازاں الہام ہوا۔ اِنَّ اللہَ لَا یَضُرُّ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَواوَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُحْسِنُوْنَ۔تَرَی نَصْرًا مِّنْ عِنْدَاللّٰہِ وَھُمْ یَعْمَھُوْنَ۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص418)

• ’’آج رات تین بجے کے قریب خدائے تعالیٰ کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔تازہ نشان تازہ نشان کا دھکہ۔زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔ قُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللہَ مَعَ الْاَبْرَار۔ دَنیٰ مِنْکَ الْفَضْلُ۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ۔

(ترجمہ مع شرح) یعنی خداایک تازہ نشان دکھائے گا مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکا لگے گا ۔وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا (مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا کوئی اور شدیدآفت ہے جو دنیا پر آئے گی جس کو قیامت کہہ سکیں گے) اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب آئے گا اور مجھے علم نہیں کہ وہ چند دن یا چند ہفتوں تک ظاہر ہوگا یا خداتعالیٰ اس کو چند مہینوں یا چند سال کے بعد ظاہر فرمائے گا۔بہر حال حادثہ زلزلہ ہو یا کچھ اور ہو قریب ہو یا بعید ہو ۔پہلے سے بہت خطرناک ہے۔سخت خطرناک ہے۔اگر ہمدردی مخلوق مجھے مجبور نہ کرتی تو میں بیان نہ کرتا…

بقیہ ترجمہ عربی کا یہ ہے کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کرکے اپنے تئیں بچا لو قبل اس کے جو وہ ہولناک دن آوے جو ایک دم میں تباہ کردے گا اور فرماتاہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرتے ہیں اور بدی سے بچتے ہیں اور پھر اس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میرا فضل تیرے نزدیک آگیا یعنی وہ وقت آگیا کہ تو کامل طور پر شناخت کیا جاوے۔حق آگیا اور باطل بھاگ گیا…

دیکھو آج میں نے بتلا دیا زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی کہ ہریک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پر آمادہ ہوگا اور ہر ایک جو زمین کو اپنی بدیوں سے ناپاک کرے گا وہ پکڑا جائے گا ۔خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے۔جو میرا قہر زمین پر اترے ۔کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی۔پس اٹھو۔اور ہوشیار ہوجاؤ۔کہ وہ آخری وقت قریب ہے ۔جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبردی تھی۔مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ جس نے مجھے بھیجاکہ یہ سب باتیں اس کی طرف سے ہیں۔میری طرف سے نہیں ہیں۔کاش یہ باتیں نیک ظنی سے دیکھی جائیں۔کاش میں ان کی نظر میں کاذب نہ ٹھہرتا۔ تا دنیا ہلاکت سے بچ جاتی…ورنہ وہ دن آتا ہے کہ انسانوں کو دیوانہ کر دے گا۔

نادان بدقسمت کہے گا کہ یہ باتیں جھوٹ ہیں۔ہائے وہ کیوں اس قدر سوتا ہے۔ آفتاب تو نکلنے کو ہے جب خدا تعالیٰ اس وحی کے الفاظ میرے پر نازل کرچکا تو ایک روح کی آواز میرے کان میں پڑی جو کوئی ناپاک روح تھی اور میں نے اس کو یہ کہتے سناکہ میں سوتے سوتے جہنم میں پڑگیا۔

انسان کا کیا حرج ہے اگر وہ فسق وفجور کو چھوڑ دے ۔کون سا اس میں اس کا نقصان ہے۔ اگر وہ مخلوق پرستی نہ کرے۔آگ لگ چکی ہے۔ اٹھو اور اس آگ کو اپنے آنسوؤں سے بجھاؤ۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن450,449)

• ’’9۔اپریل کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبردی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا چونکہ دو مرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اس آئندہ واقعہ پر مجھے مطلع فرمایا ہے اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلا دے گا، دور نہیں ہے۔ مجھے خدائے عزوجل نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ دونوں زلزلے تیری سچائی کرنے کے لئے دو نشان ہیں انہیں نشانوں کی طرح جو موسٰیؑ نے فرعون کے سامنے دکھلائے تھے اور اس نشان کی طرح جو نوحؑ نے اپنی قوم کو دکھلایا تھا۔

اور یاد رہے کہ ان نشانوں کے بعد بھی بس نہیں ہے بلکہ کئی نشان ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ انسان کی آنکھ کھلے گی اور حیرت زدہ ہوکر کہے گا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے۔ ہر ایک دن سخت اور پہلے سے بد تر آئے گا۔ خدا فرماتاہے کہ میں حیرت ناک کام دکھلاؤں گا اور بس نہیں کروں گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی اصلاح نہ کرلیں۔اور جس طرح یوسفؑ نبی کے وقت میں ہوا کہ سخت کال پڑا یہاں تک کہ کھانے کے لئے درختوں کے پتے بھی نہ رہے۔اسی طرح ایک آفت کا سامنا موجود ہوگا اور جیسا یوسفؑ نے اناج کے ذخیرہ سے لوگوں کی جان بچائی اسی طرح جان بچانے کے لئے خدا نے اس جگہ بھی مجھے ایک روحانی غذا کا مہتمم بنایا ہے۔جو شخص اس غذا کو سچے دل سے پورے وزن کے ساتھ کھائے گا میں یقین رکھتا ہوں کہ ضرور اس پر رحم کیا جائے گا…

ہاں خداتعالیٰ نے مجھے یہ خبر دے رکھی ہے کہ طاعون اس جماعت کی تعداد کو بڑھائے گی اور دوسرے مسلمانوں کی تعداد کو گھٹائے گی… میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس آ نے والے نشان کے بعد جو مجھ کو قبول کرے گا اس کا ایمان قابل عزت نہیں۔جن کے کان ہیں سنیں ۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا غضب زمین پر بھڑکا ہے کیونکہ زمین والوں نے میری طرف سے منہ پھیرلیا ہے۔ پس جب ایک انسانی سلطنت عدول حکمی سے ناراض ہوجاتی ہے اور ہولناک سزادیتی ہے پھر خدا کا غضب کیسا ہوگا۔پس توبہ کرو کہ دن نزدیک ہیں اور اس بارے میں جو عربی میں مجھے وحی الہٰی ہوئی اس جگہ میں اس کو معہ ترجمہ لکھ کر اس اشتہار کو ختم کرتا ہوں ااور وہ یہ ہے۔

بخور آنچہ ترا بخورانم۔ لَکَ دَرَجَۃٌ فِی السَّمَاءِ وَ فِی الَّذِیْنَ ھُمْ یُبْصِرُوْنَ۔ نَزَلَتُ لَکَ۔لَکَ نُرِیْ اٰیَاتٍ وَّ نَھْدِمُ مَایَعْمُرُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُوْمِنُوْنَ۔ کَفَفْتُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خَاطِئِیْنَ۔ اِنِّی مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔ یعنی جو کچھ میں تجھے کھلاتاہوں وہ کھا ۔تیرا آسمان پر ایک درجہ ہے اور نیز ان میں درجہ ہے جو آنکھیں رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور میں تیرے لئے زمین پر اتروں گا تا اپنے نشان دکھلاؤں، ہم تیرے لئے زلزلہ کا نشان دکھلائیں گے اور وہ عمارتیں جن کو غافل انسان بناتے ہیں یا آئندہ بنائیں گے گرا دیں گے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زلزلہ نہیں بلکہ کئی زلزلے ہوں گے جو عمارتوں کو وقتاً فوقتاً گرائیں گے۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص450 تا 452)

• ’’(الف) آج رات خواب میں دیکھا کہ سخت زلزلہ آیا ہے جو پہلے سے زیادہ معلوم ہوتا تھا۔

(ب)

اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد
جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر و مرغزار‘‘

• آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب
اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے زار
یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا بحار
اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر و زبر
نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آب رود بار
رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمین
صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار
ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس
بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار
ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی
راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بیخود راہوار
خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں
سرخ ہوجائیں گے جیسے ہو شراب انجبار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس
زار بھی ہوگا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار
اک نمونہ قہر کا ہو گا وہ ربانی نشاں
آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار
ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہ ناشناس
اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دار و مدار
وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا
کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی اور بردبار

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص454)

(نوٹ) ’’خداتعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جو نمونہ قیامت ہوگا ۔بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہناچاہیے جس کی طرف سورۃ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَہَا اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نمونہ دکھاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ ہاں اگر ایسا فوق ا لعادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کاذب ٹھہروں گا۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص455,454)

سونے والو جلد جاگو یہ نہ وقت خواب ہے
جو خبر دی وحی حق نے اس سے دل بیتاب ہے
زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیر و زبر
وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے
ہے سر راہ پر کھڑا نیکوں کی وہ مولیٰ کریم
نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے
کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے
حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تواب ہے
اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو! کچھ دن کے بعد
جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں باربار
فاسقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دشوار ہے
جس سے قیمہ بن کے پھر دیکھیں گے قیمہ کا بگھار
خوب کھل جائے گا لوگوں پر کہ دیں کس کا ہے دیں
پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہردوار
وحی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ
لیکن ممکن ہے کہ ہو کچھ اور ہی قسموں کی مار
وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر
جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار
ایک دم میں غمکدے ہو جائیں گے عشرت کدے
شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہو کر سوگوار
وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصر بریں
پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اک جائے غار
ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر
جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار
کب یہ ہوگا یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر
دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایام بہار
پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی
یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لو اے ہوشیار!

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص456,455)

• ’’آج 29۔اپریل1905ءکو پھر خداتعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے۔سو میں محض ہمدردی مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پاچکی ہے کہ ایک شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دنیا پر آوے گی جس کا نام خداتعالیٰ نے باربار زلزلہ رکھا ہے۔ میں نہیں جانتاکہ وہ قریب ہے یا کچھ دنوں کے بعد خداتعالیٰ اس کو ظاہر فرمادے گا۔مگر باربار خبردینے سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بہت دور نہیں ہے۔یہ خداتعالیٰ کی خبر اور اس کی خاص وحی ہے جو عالم اسرارہے…

خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں چھپ کر آؤں گا ۔میں اپنی فوجوں کے ساتھ اس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا کہ ایک ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔غالباًوہ صبح کا وقت ہوگا یا کچھ حصہ رات میں سے ،یا ایسا وقت ہوگا جواس سے قریب ہے…

اور خداتعالیٰ فرماتاہے کہ اس روز میں ان پر رحم کروں گا جن کے دل مجھ سے ترساں اور ہرا ساں ہیں جو نہ بدی کرتے ہیں اور نہ بدی کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں۔اور خدا نے یہ بھی فرمایا کہ اس روز تیرے لئے فتح نمایاں ظاہر ہوگی۔کیونکہ خدا اس روز وہ سب کچھ دکھلائے گا جو قبل از وقت دنیا کو سنایا گیا۔ خوش قسمت وہ جو اب بھی سمجھ جائے…

مجھے خداتعالیٰ نے اطلاع دی ہے تا وہ جو خدا تعالیٰ کو شناخت نہیں کرتے اور نہ مجھ کو، ان کو پتہ لگ جائے۔میں محض ہمدردی کی راہ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر بڑے بڑے مکانوں سے جو دو منزلہ سہ منزلہ ہیں اجتناب کریں تو اس میں رعایت ظاہر ہے آئندہ ان کا اختیار۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص459,458)

• ’’پھر بہارآئی ،خداکی بات پھر پوری ہوئی یَسْتَنْبِئُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُو۔ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ۔اِنَّہُ الْحَق۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن 461)

• ’’(1)۔زمین تہہ وبالا کردی۔ (2)۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔ (3)۔ لنگر اٹھا دو‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن463)

• ’’پہاڑگرا اور زلزلہ آیا‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص472)

• ’’عَفَتِ الدَّیَارُ کَذِکْرِی۔ فرمایا: کَذِکْرِی سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے پیشگوئی ہوچکی ہے۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص479)

• ’’(1) تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ۔ (2) پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔‘‘

(تذکرہ جدیدایڈیشن ص506)

(الف) ’’زلزلہ آنے کو ہے۔‘‘ فرمایا: ’’اس کے معنے یہ ہیں کہ اسی زلزلہ کو جو ہوا، اصل زلزلہ نہ سمجھو بلکہ سخت زلزلہ آنے کو ہے۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص512)

(ب) ’’میرے دل میں ڈالاگیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی آیا نہیں بلکہ آنے کو ہے اوریہ زلزلہ اس کا پیش خیمہ ہے جو پیشگوئی کے مطابق پورا ہوا۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص512)

• ’’(1) زلزلہ آنے کو ہے ۔ہمارے لئے عید کا دن۔
(2)رَبِّ لَا تَرِنِیْ زَلْزَلَۃِ السَّاعَۃِ ۔ رَبِّ لَا تَرِنِیْ مَوْتَ اَحَدٌ مِّنْھُمْ۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص513)

9۔اپریل 1906ء
’’ان میں سے بعض الہامات مکرر ہیں یعنی پہلے بھی ہوچکے ہیں اور آج پھر بھی ہوئے۔
(1) رَبِّ اَرِنِیْ زَلْزَلَۃِ السَّاعَۃِ۔
(2) یُرِیْکُمُ اللہُ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔
(3) اُرِیْکَ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔
(4) اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ۔

فرمایا: یہ الہام پہلے بھی ہوچکا ہے اب پھر ہوا ہے اور خوف ہے کہ اس سے کیا مطلب ہے۔ معلوم نہیں کہ قادیان کے متعلق ہے یا پنجاب کے متعلق ہے۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص521)

• ’’ھَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الزَلْزَلَۃِ۔ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَہَا۔ وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَہَا ۔وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَہَا۔ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَہَا۔ بِأَنَّ رَبَّکَ أَوْحَی لَہَا۔

ترجمہ: یعنی انسانوں پر حیرت طاری ہوجاوے گی کہ ان کے علوم اور تجارب کی حد سے باہر ظہور میں آئے گا۔اس دن زمین اپنا قصہ بیان کرے گی کہ اس پر کیا آفت آئی۔ کیونکہ خدا اپنے رسول کو اس کے مافی الضمیر کا ترجمان بنائے گا اور اس رسول کو وحی کرے گا کہ کس باعث سے یہ غیر معمولی آفت ظہور میں آئی۔ پھر خداتعالیٰ مجھے فرماتاہے کہ یہ سب نشان تیرے لئے زمین پر ظاہر کئے جائیں گے تازمین کے لوگ تجھے شناخت کرلیں۔‘‘

(تذکرہ جدید ایڈیشن ص527،528)

پس حضرت مسیح موعودؑ کے بارے میں جو پیشگوئیاں پرانے مذاہب میں پائی جاتی ہیں اور جس طرح قرآن و حدیث ایک مصلح آخر الزماں کی علامات بتاتا ہے وہ پوری ہوچکی ہیں ۔ اس زمانہ کے حالات پکار پکار کر اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور بنی نوع انسان کو اپنے حقیقی خدا سے ملا دے۔ اس زمانہ میں جس طرح آفات اور حادثات کا نزول ہورہا ہے اس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔اس کثرت سے نئی نئی بیماریوں کا دنیا میں پھیلنا جیساکہ حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں طاعون اور اس کے بعد ایڈز اور دیگر بیمایاں جن کا نام و نشان پہلی دنیا میں نہیں ملتا، یہ صاف بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعودؑ آگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو مسیح الزمان کو پہچاننے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔ پس یقیناًسمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض اُن میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہوگی کہ خُون کی نہریں چلیں گی۔ اس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے اور زمین پر اس قدر سخت تباہی آئے گی کہ اُس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی اور اکثر مقامات زیر و زبر ہو جائیں گے کہ گویا اُن میں کبھی آبادی نہ تھی اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین و آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد22صفحہ207,206)

اس زمانہ میں جس قدر آفات سماوی کا نزول ہورہا ہے ، یہ واضح طور پر ہماری رہنمائی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا آگیا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں بھی ہے کہ
’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ثابت کردے گا۔‘‘

چنانچہ اللہ اپنے زور آور حملوں سے لوگوں پر واضح کر رہا ہے کہ مسیح آخرالزمان آگیاہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دنیا توبہ کرتے ہوئے مسیح آخرالزمان کومان لیں اور عافیت کے حصار میں آجائیں۔ آمین

میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر
میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ