• 19 اکتوبر, 2021

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ بابت مختلف ممالک اور شہور (قسط 4)

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ
بابت مختلف ممالک اور شہور
قسط 4

ارشادات برائے لندن، فرانس و پیرس

کچھ عرصہ ہوا کہ مفتی محمد صادق صاحب نے ایک خط مسٹر پگٹ مدعی مسیح کو لندن میں لکھ کر مزید حالات اس کے دعویٰ کے دریافت کئے تھے اس کے جواب میں پگٹ کے سکرٹری نے دو اشتہار اور ایک خط روانہ کیا تھا وہ حضرت کو سنائے۔ پگٹ کے اشتہار کا عنوان انگریزی لفظ میں تھا جس کے معنے ہیں کشتی نوح۔

فرمایا: اب ہماری سچی کشتی نوح جھوٹی پر غالب آ جائے گی۔

اور فرمایا کہ یورپ والے کہا کرتے تھے کہ جھوٹےمسیح آنے والے ہیں سواول لنڈن میں جھوٹا مسیح آ گیا اس کا قدم اس زمین میں اول ہے بعد ازاں ہمارا ہو گا جو کہ سچا مسیح ہے اور یہ جو حدیثوں میں ہے کہ دجال خدائی اور نبوت کا دعویٰ کرے گا تو موٹے رنگ میں اب اس قوم نے وہ بھی کر دکھایا۔ ڈوئی امریکہ میں نبوت کا دعوی کر رہا ہے اور پگٹ لندن میں خدائی کا دعوی کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو خدا کہتا ہے پگٹ کا خدا ہونا دوسرے لفظوں میں یہ گویا انجیل کی شرح آئی ہے اسےایک فائدہ ہوا ہے کہ مسیح کو خدا ماننے سے چھوٹ گیا کیونکہ آپ جو ساری عمر کے لئے خودخدا ہو گیا۔

(ملفوظات جلدسوم جدید ایڈیشن صفحہ374-375)

شیخ رحمت اللہ صاحب لاہور سے مخاطب ہو کر ان سے ان کے حالات اور عرصہ سفر در یافت فرمایا۔ اس کے بعد مسٹر پگٹ کی نسبت آپ نے شیخ صاحب سے استفسار فرمایا کہ آپ اس سے ملنے گئے تھے۔ شیخ صاحب موصوف نے عرض کی کہ میرے روانہ ہونے سے ایک دن پیشتر مجھے خط ملا تھا میں اسی روز اپنے دو دوستوں سمیت اس کے مکان پر گیا۔مگر ہمیں یہی جواب ملتا رہا کہ تم اس وقت اسے مل نہیں سکتے۔ شیخ صاحب کو ایک اور فرزندان کی ولا یتی منکوحہ سے جواللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے جس کا نام عبد اللہ حضرت اقدس کے ارشاد کے مطابق رکھا گیا ہے اس کے حالات دریافت کر کے فرمایا کہ:
لنڈن میں وہ اوّل ولد الاسلام ہے۔

بعدازاں طاعون اور ٹیکہ کا ذکر ہوتا رہا۔ اور ٹیکہ کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا:
آخرکار آسمانی ٹیکہ ہی رہ جاوے گا۔

(ملفوظات جلدسوم جدید ایڈیشن صفحہ399)

یہ وہ تمام اخبارات جو کہ ردّ نصاریٰ کے بارے میں یورپ اور امریکہ سے آئے تھے پڑھے جانے کے بعد میاں گل محمد صاحب نے حضرت اقدس کو اپنی طرف مخاطب کیا اور کہا کہ میں آپ کے کہنے کے مطابق آیا ہوں۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا:
ہم نے تو آپ کو بذریعہ تار اور خط کے منع کر دیا تھا کہ آپ نہ آویں۔ علالتِ طبع اور ایک ضروری کام میں مصروفیت کی وجہ سے فرصت نہیں۔ اب آپ آگئے ہیں تو مجھے آپ کے آنے کی خوشی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کوئی تحقیق کے واسطے میرے پاس آوے۔ زمانہ دن بدن راستی اختیار کرتا جا تا ہے عیسائی مذہب کی تردید اور کسر صلیب کے لئے جو کچھ مجھے خدا نے عطا کیا ہے اس کو بتلانے کو میں ہر وقت طیار ہوں لیکن دوسرے موقعہ پر جب آپ آویں گے تو جیسے آپ کا حق ہوگا کہ سوال کریں ویسا ہی میرا حق ہوگا کہ ایک سوال کروں اور وہ سوال صرف مسیح کی الوہیت تثلیث اور چال چلن کی نسبت ہوگا لیکن جیسے میں نے اس سوال کو مشخص کر دیا ہے۔ ویسے ہی آپ کو لازم ہے کہ آپ بھی اپنے سوال کومشخص کر دیویں کہ طیاری کا موقع مل جاوے۔

گل محمد صاحب:۔ ہاں آپ بھی ایک سوال کریں جیسے مجھے تلاشِ حق کی ضرورت ہے ویسے ہی آپ پر ضروری ہے کہ آپ اظہارِحق کریں۔

حضرت اقدس:۔ یہ آپ سچ کہتے ہیں مگر میرے اظہار ِحق کی شہادت تو یورپ اور امریکہ دے رہا ہے۔ ابھی آپ کے سامنے اخبارات پڑھے گئے ہیں۔

گل محمد صاحب : لیکن ایک بات ضروری ہے کہ اگر میں دوسرے موقعہ پر آؤں اور آپ کو پھر فرصت نہ ہوتو چونکہ میں ایک غریب آدمی ہوں اس لیے آمد ورفت کا خر چہ آپ پر ہو گا۔

حضرت اقدس:۔ اگر غریب ہو تو آمد ورفت کا کرایہ ہم دے دیا کریں گے اگر ہم اس طرح بوجہ نہ ہونے فرصت کے سو دفعہ واپس کریں گے تو سود فعہ کرایہ دیویں گے۔

میاں گل محمد صاحب نے کرایہ اس دفعہ کا طلب کیا اور اسی وقت ان کی غربت کا خیال کر کے ان کی درخواست پر تین روپے ان کو دے دیئے گئے ان باتوں پر بعض احباب میں چر چاہوا تو میاں گل محمد صاحب نے حضرت اقدس کومخاطب ہوکر کہا۔

گل محمد صاحب:۔ آپ تو تمسخر کرتے ہیں۔

حضرت اقدس:۔ یہ یادر کھے۔ ہمارے کام محض لِلّٰہ ہیں۔ یہاں تمسخر اور مذاق نہیں ہے ہم تو ہر ایک بار اپنے اوپر ڈالتے ہیں۔ اگر تمسخر ہوتا تو یہ زیر باری کیوں اختیار کرتے اور تین روپیہ آپ کو دے دیتے بلکہ تلاش ِحق کے لیے تو کوئی لنڈن سے بھی چل کر آوے تو ہم اس کا کرایہ دینے کو طیار ہیں۔

(ملفوظات جلد پنجم جدید ایڈیشن صفحہ287-288)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
صرف انگریزی زبان میں کوئی کتنی ہی ترقی کرلے اس کا نتیجہ بجز دنیا کے اور کچھ نہیں ہے۔ یوں دیکھ لینا چاہیئے کہ جو بچّے ایسے ہیں کہ ان کے ماں باپ ہر دو انگریز ہیں ان کا انگریزی میں کمال ان کو دین کے لئے کیا فائدہ دے سکتا ہے کیونکہ یہ زبان وه نہیں جس کے ساتھ فخرکیا جا سکے۔ معاش بےشک انسان پیدا کرسکتا ہے۔ مگر معاش تو ایک مزدوربھی ویسی ہی پیدا کرلیتا ہے بلکہ وہ مزدور اچھا ہے کیونکہ اس کے ساتھ وساوس نہیں ہیں۔ ہمارا منشایہ نہیں کہ انگریزی نہ پڑھو۔ خود ہماری جماعت میں بہت انگریزی خوان ہیں اور بی اے، ایم۔ اے تک تعلیم یافتہ ہیں اور معززسرکاری عہدوں پر ملازم ہیں لیکن ہمارا منشا یہ ہے کہ اس سے نیک فائدہ اُٹھاؤ اور اس کے برےفلسفہ سے بچو جو انسان کو دہریہ بنا دیتا ہے۔

ہر شئے میں ایک اثر ہوتا ہے۔چونکہ انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں اس قسم کی ہیں دہریت یا دہریت کی طرف جھکے ہوئے خیالات اپنے اندررکھتی ہیں۔ اس واسطے بغیر کسی زبردست رشد اور فضل الٰہی کے ہر ایک شخص اس سے کچھ نہ کچھ حِصّہ ضرور لے لیتا ہے۔آ جکل دُنیا کے لئے حدسے زیادہ زور لگایا جاتا ہے مگر معاش کےلئے سب دروازے کھلے ہیں۔ افراد کا نتیجہ اچھانہیں ہوتا۔ دنیا میں بہت لوگ ایسے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا جھوٹادعوی ٰکرتے ہیں۔ کیا آخرت کے لئے وہ اس قدرمحنت اور جان خراشی کرتے ہیں جس قدر کہ وہ دنیا کے لئے کر رہے ہیں۔ ان کو معلوم ہی نہیں کہ اس طرف کا معاملہ بھی کبھی پڑے گا۔

(ملفوظات جلد ہفتم ایڈیشن 1984ء صفحہ359-360)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
اب آئے دن سنا جاتا ہے کہ کسی نے دعویٰ کیا ہے کہ میں ہی مسیح ہوں جو آنے والا تھا یا میں مہدی ہوں جس کا انتظار کیا جاتا تھا۔ یہ کچھ ہمارے لیے مضر نہیں ہیں یہ تو ہماری صداقت کو اور بھی دوبالا کر کے دکھاتا ہے کیونکہ مقابلہ کے سوا کسی کی بھلائی یا برائی کا پورا اظہار نہیں ہوسکتا۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے اور چند روز پانی اور جھاگ والا معاملہ کر کے دنیا سے رخصت ہو جاتے یا پاگل خانہ کی سیر کو روانہ کئے جاتے ہیں۔ یہ ہماری صداقت پر مہر ہیں۔ ہر نبی کے ساتھ کو ئی نہ کوئی جھوٹا نبی بھی آتا ہے چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں چار شخص ایسے تھے۔ اسی طرح اس زمانہ کے لیے بھی لکھا تھا کہ بہت سے جھوٹے نبی آویں گے سو یہ لوگ خود ہی اس پیشگوئی کو پورا کرتے ہیں بھلا کوئی بتاوے کہ وہ مہدی سوڈانی اب کہاں ہے؟ یا پیرس کا مسیح کیا ہوا؟ انجام نیک صرف صادق ہی کا ہوتا ہے۔ سارے جھوٹے اور مصنوعی آخر تھک کر رہ جاتے یا ہلاک ہو جاتے ہیں اور جھوٹھ کے انجام کا پتہ دوسروں کے لیے بطور عبرت کے چھوڑ جاتے ہیں۔

(ملفوظات جلد چہارم جدید ایڈیشن صفحہ241)

مولانا مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے نے مسٹر پگٹ اور فرانس کے ایک جدید مدعی مسیحیت کے متعلق ولایت کے اخبار فری تھنکر سے دونوٹ پڑھ کر سنائے۔ اور مفتی محمد صادق صاحب نے ڈاکٹرڈ وئی کے اخبار کے بعض پیراگراف سنائے۔

ڈوئی کے ذکر پر پھر حضرت اقدسؑ نے فرمایا :
یہ وہ شخص ہے جس نے الیاس ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور اپنے آپ کو عہد نامہ کا رسول کہتا ہے۔ ہم نے اس کو دعوت کی ہے کہ اگر تو یسوع مسیح کو خدا سمجھتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے مسیح موعود ہو کر آیا ہوں۔ پس تو اس قسم کی دعا کر کہ ہم دونوں میں سے جو کا ذب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔ یہ جوش ز یا دہ تر مجھے اس لیے آیا ہے کہ اس نے تمام مسلمانوں کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ شخص اسلام کا بڑادشمن ہے۔

یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اللہ تعالی نے ایسے وسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ کہ دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔ اور وَ اِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ (التکویر: 8) کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔ اب سب مذاہب میدان میں نکل آئے ہیں۔ اور یہ ضروری امر ہے کہ ان کا مقابلہ ہو۔ اور ان میں ایک ہی سچا ہو گا اور غالب آئے گا۔ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ (الصف: 10) اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ مقابلہ مذاہب کا شروع ہو گیا ہے۔ اور اس مذہبی کشتی کا سلسلہ نری زبان تک ہی نہیں رہا بلکہ قلم نے اس میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لاکھوں مذہبی رسالے شائع ہورہے ہیں۔ اس وقت مختلف مذاہب خصوصا ًنصاری ٰکے جو حملے اسلام پر ہورہے ہیں۔ جو شخص ان حالات سے واقفیت رکھتا ہے اور اسے ان پر سوچنے کا موقع ملا ہے تو وہ ان ضرورتوں کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اسلام کی طرف زیادہ توجہ کرے۔ جو شخص اسلام پر ان حملوں کی رفتار کو دیکھتا ہے تو وہ اس ضرورت کو محسوسں کرتا ہے لیکن جس کو کوئی خبر ہی نہیں ہے وہ ان نقصانوں کی بابت کیا کہہ سکتا ہے جو اسلام کو پہنچائے گئے ہیں۔ مسلمانوں نے نادان دوست کے رنگ میں اور غیر مذاہب والوں خصوصاً عیسائیوں نے دشمنی کے لباس میں، وہ تو یہی کہتا ہے کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے؟ مگر اسے معلوم نہیں کہ اسلام کی ظاہری اور جسمانی صورت میں بھی ضعف آگیا ہے۔ وہ قوت اور شوکت اسلامی سلطنت کی نہیں۔ اور دینی طور پر بھی وہ بات جو مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ (البينة: 6) میں سکھائی گئی تھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا ہے۔

اندرونی طور پر اسلام کی حالت بہت ضعیف ہوگئی ہے اور بیرونی حملہ آور چاہتے ہیں کہ اسلام کو نابود کر دیں۔ ان کے نزدیک مسلمان کتوں اور خنزیروں سے بدتر ہیں۔ ان کی غرض اور ارادے یہی ہیں کہ وہ اسلام کو تباہ کر دیں اور مسلمانوں کو ہلاک کریں۔ اگر ایک سچے مسلمان کو ان ارادوں پر اطلاع ملے جو یہ لوگ اسلام کے خلاف رکھتے ہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ وہ ان کے تصور کے صدمہ ہی سے مر جاوے۔ اب خدا کی کتاب کے بغیر اور اس کی تائید اور روشن نشانوں کے سوا ان کا مقابلہ ممکن نہیں اور اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔

(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحہ244-245)

ارشادات برائے کابل افغانستان

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
اسی طرح میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت عملی حالت میں ترقی کرے گی۔ کیونکہ وہ منافق نہیں اور وہ ہمارے مخالفوں نہیں اور وہ ہمارے مخالفوں کے اس طرز عمل سے بالکل پاک ہے کہ جب حکام سے ملتے ہیں تو ان کی تعریفیں کرتے ہیں اور جب گھر میں آتے ہیں تو کافر بتلاتے ہیں۔

سنو اور یاد رکھو کہ خدا اس طرزعمل کو پسند نہیں فرماتا۔ تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو۔ اورمحض خدا کے لئے رکھتے ہو۔ نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اور بری کرنے والوں کو معاف کرو۔ کوئی شخص صدیق نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ یکرنگ نہ ہو۔ جو منافقانہ چال چلتا ہے اور دورنگی اختیار کرتا ہے وہ آخر پکڑ ا جا تا ہے۔ مثل مشہور ہے۔ دروغ گورا حافظہ نباشد۔ اس وقت میں ایک اور ضروری بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ سلاطین کو ا کثر مہمیں پیش آتی ہیں۔ اور وہ بھی رعایا ہی کے بچاؤ اور حفاظت کے لئے ہوتی ہیں۔تم نے دیکھا ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو سرحد پر کئی بار جنگ کرنا پڑی ہے، گو سرحدی لوگ مسلمان ہیں مگر ہمارے نزدیک وہ حق پر نہیں ہیں۔ ان کا انگریزوں کے ساتھ جنگ کرناکسی مذہبی حیثیت اور پہلو سے درست نہیں ہے اور نہ وہ حقیقتاً مذ ہبی پہلو سے لڑتے ہیں۔ کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ گورنمنٹ نے مسلمانوں کو آزادی نہیں دے رکھی؟ بے شک دے رکھی ہے اور ایسی آزادی دے رکھی ہے جس کی نظیر کابل اور نواح کابل میں رہ کر بھی نہیں مل سکتی۔ امیر کے حالات اچھے سننے میں نہیں آتے۔ ان سرحدی مجنونوں کے لڑنے کی کوئی وجہ بجز پیٹ کے نہیں ہے دس بیس روپے مل جاویں تو وہ غازی پن غرق ہو جا تا ہے۔ لوگ ظالم طبع ہیں جو اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔

(ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن صفحہ439-440)

اس ہفتہ میں جو سب سے عجیب اور دلچسپ بات واقع ہوئی اور جس نے ہمارے ایمانوں کو بڑی قوت بخشی وہ ایک چٹھی کا حضرت کے نام آنا تھا۔ اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا ہے کہ جلال آباد (علاقہ کابل) کے علاقے میں یوز آسف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترے کے نام ہے۔ زیادہ تفصیل کا محل نہیں۔ اس خط سے حضرت اقدس اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا:
’’الله تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن صفحہ279)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
گورنمنٹ انگلشیہ نے بڑی آزادی دے رکھی ہے اور ہر قسم کا امن ہے۔ مگر کابل میں تو لوگ ایک طرح سے اسیراور مقید ہیں۔ وہ باہر جانا چاہیں تو ان کے لئے کئی قسم کی پا بندیاں ہیں اور بیہودہ نگرانیاں کی جاتی ہیں خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو اسی لئے اس مبارک سلطنت کے ما تحت رکھا۔

(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحہ418)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
مومنوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک تو جان فدا کرنے والے اور دوسرے جو ابھی منتظر ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں میں سے وہ چودہ اچھے ہیں جو کہ قید میں ہیں۔

ابھی بہت سا حصہ ایسا ہے جو کہ صرف دنیا کو چاہتا ہے حالانکہ جانتے ہیں کہ مر جانا ہے اورموت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے مگر پھر بھی دنیا کا خیال بہت ہے۔ اس سر زمین (پنجاب) میں بزدلی بہت ہے بہت کم ایسے آدمی ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اکثر خیال بیوی بچوں کا رہتا ہے دو دو آنہ پر جھوٹی گواہی دیتے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر سر زمین کا بل میں وفا کا مادہ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ لوگ قرب الٰہی کے زیادہ مستحق ہیں (بشرطیکہ مامور من اللہ کی آواز کو گوش ِدل سے سنیں) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لیے ابراہیم کی تعریف کی ہے جیسے کہ فرمایا ہے اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰی (النجم: 38) کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دیکھا یا۔ لوگوں کا دستور ہے کہ حالت تنعم میں وہ خدا سے برگشتہ رہتے ہیں اور جب مصیبت اور تکلیف پڑتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں مانگتے ہیں اور ذرا سے ابتلاء سے خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں خدا کو اس شرط پر ماننے کے لیے طیا ر ہیں کہ وہ ان کی مرضی کے برخلاف کچھ نہ کرے۔ حالانکہ دوستی کا اصول یہ ہے کہ کبھی اپنی اس سے منوائے اور کبھی اس کی آپ مانے اور یہی طریق خدا نے بھی بتلایا ہے ایک جگہ تو فرماتا ہے اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ (المؤمن: 61) کہ تم مانگو تو میں دوں گا یعنی تمہاری بات مانوں گا اور دوسری جگہ اپنی منوا تا ہے اور فرماتا ہے وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ الخ (البقرہ: 156) مگر یہاں آج کل لوگ خدا تعالیٰ کومثل غلام کے اپنی مرضی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ غوث، قطب، ابدال اور اولیاء وغیرہ جس قدر لوگ ہوئے ہیں ان کو یہ سب مراتب اسی لیے ملے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھتے چلے آئے چونکہ افغانستان کے لوگوں میں یہ مادہ وفا کا زیادہ پایا جاتا ہے اس لیے کیا تعجب ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں (اہل پنجاب) سے آگے بڑھ جاویں اور گوئے سبقت لے جاویں اور یہ پیچھے رہ جاویں کیونکہ وہ لوگ اپنے عہد کے اس قدر پابند ہیں کہ جان تک کی پروا نہیں کرتے نہ مال کی نہ بیوی کی نہ بچے کی جس کا نمونہ ابھی مولوی عبد اللطیف صاحب نے دکھا دیا ہے۔

صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب کی شہادت کے بعد چودہ آدمی اس وجہ سے بادشاہ کابل نے قید کر دیئے کہ وہ کہتے تھے کہ صاحبزادہ صاحب پر ظلم ہوا۔ اور صاحبزادہ صاحب حق پر تھے۔ (مرتب)

(ملفوظات جلد پنجم جدید ایڈیشن صفحہ359-360)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
طاعون تو ابھی سر پر ہے۔یہ کوئی صحیح فیصلہ تو نہیں کہ اب طاعون دور ہو گئی ہے۔ یاد رکھو کہ مفتری کو خداتعالےٰ بے سزا کبھی نہیں چھوڑتا۔ ابھی تو طاعون کی نسبت گورنمنٹ خود بھی حیران ہے کہ اس کو روکنے کی کیا تدبیر کی جاوے اور اس طرف خداتعالےٰ نے ہمیں بھی خبر دے رکھی ہے کہ اس سال یا اگلے سال سخت طاعون پڑے گی اور شدت سے پڑے گی اور مغربی ممالک بھی خطرناک طاعون پڑے گی اور کابل کی نسبت طاعون تو نہیں مگریہ فرمایا ہے کہ وہاں پچاس ہزار آدمی ہلاک ہوں گے اور ساتھ ہی ہمارے ساتھ وعدہ ہے کہ
’’اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ‘‘

(ملفوظات جلد نہم ایڈیشن 1984ء صفحہ400)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ تذکرۃ الشہادتین کو باربار پڑھو اور دیکھو کہ اُس نے اپنے ایمان کا کیسا نمونہ دکھایا ہے۔ اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پروا نہیں کی۔ بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کو ئی اثر نہیں ڈال سکا۔ دنیوی عزت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔ اُس نے جان دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا۔ عبداللطیف کہنے کو مارا گیا یا مر گیا مگر یقیناً سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مر ے گا۔ اگرچہ اس کو بہت عرصہ صحبت میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن اس تھوڑی مدت میں جو وہ یہاں رہا اس نے عظیم الشان فائدہ اٹھایا۔ اس کو قسم قسم کے لالچ دئے گئے کہ اس کا مرتبہ و منصب بد ستور قائم رہے گا مگر اس نے اس عزت افزائی اور دنیوی مفاد کی کچھ بھی پروا نہیں کی۔ ان کو ہیچ سمجھا یہانتک کہ جان جیسی عزیز شئے کو جو انسان کو ہوتی ہے اس نے مقدم نہیں کیا۔ بلکہ دین کو مقدم کیا جس کا اُس نے خداتعالیٰ کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ میں بار بار کہتا ہو ں کہ اس پاک نمونہ پر غور کرو کیونکہ اس کی شہادت یہی نہیں کہ اعلیٰ ایمان کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے بلکہ یہ خداتعالٰے کا عظیم الشان نشان ہے جو اور بھی ایمان کی مضبوطی کا موجب ہو تا ہے کیونکہ براہین احمدیہ میں 23 برس پہلے سے اس شہادت کے متعلق پیشگوئی موجود تھی۔ وہاں صاف لکھا ہے۔

شَاتَانِ تُذْ بَحَانِ وَ کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ

کیا اس وقت کوئی منصوبہ ہوسکتا تھا کہ 23 یا 24 سال بعد عبدالرحمٰن اور عبداللطیف افغانستان سے آئیں گے اور پھر وہ وہاں جاکر شہید ہوں گے۔ وہ دل لعنتی ہے جو ایسا خیال کرے۔ یہ خداتعالٰے کا کلام ہے جو عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور اپنے وقت پر آکر یہ نشان پورا ہوگیا۔

اس سے پہلے عبدالرحمٰن جو مولوی عبداللطیف شہید کا شاگرد تھا، سابق امیر نے قتل کرایا محض اس وجہ سے کہ وہ اس سلسلہ میں داخل ہے اور یہ سلسلہ جہاد کے خلاف ہے اور عبدالرحمٰن جہاد کے خلاف تعلیم افغانستان میں پھیلاتا تھا۔ اور اب اس امیر نے مولوی عبداللطیف کو شہید کرادیا۔ یہ عظیم الشان نشان جماعت کے لئے ہے۔ اس پیشگوئی کے معنے اب مخالفوں سے پوچھو کہ کیا یہ پیشگوئی صریح الفاظ میں نہیں ہے؟ اور کیا یہ اب پوری نہیں ہوگئی ہے؟ کیونکہ انگریزوں کے ملک میں تو کو ئی کسی کو بیگناہ ذبح نہیں کرتا ہے اس لئے یہاں تو اس کا وقوع نہیں ہونا تھا اور علاوہ بریں ہماری تعلیم ایسی تعلیم نہیں تھی کہ کوئی اس کو پکڑ سکے بلکہ یہ تعلیم تو امن کے پھیلانے والی ہے پھر یہ پیشگوئی کیسے پوری ہوتی اس لئے خداتعالیٰ نے اس نشان کو پورا کرنے کے لئے کابل کی سرزمین کو مقدر کیا ہوا تھا اور آخر 24 سال کے بعد یہ پیشگوئی ٹھیک اسی طرح پوری ہوئی جس طرح پہلے فرمایا گیا تھا۔

(ملفوظات جلدششم ایڈیشن 1984ء صفحہ255-257)

(جاری ہے)

(سید عمار احمد)

پچھلا پڑھیں

احکام خداوندی (قسط نمبر10)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 ستمبر 2021