• 23 جنوری, 2021

غض بصر سے کام لیں

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’غض بصر سے کام لیں ۔یعنی اپنی آنکھ کو اس چیز کو دیکھنے سے روکے رکھیں جس کا دیکھنا منع ہے ۔یعنی بلاوجہ نامحرم عورتوں کو نہ دیکھیں۔ جب بھی نظر اٹھا کر پھریں گے تو پھر تجسس میں آنکھیں پیچھا کرتی چلی جاتی ہیں اس لئے قرآن شریف کا حکم ہے کہ نظریں جھکا کے چلو۔اسی بیماری سے بچنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نیم وا آنکھوں سے چلو ۔یعنی ادھ کھلی آنکھوں سے ،راستوں پر پوری آنکھیں پھاڑ کر نہ چلو ۔بند بھی نہ ہوں کہ ایک دوسرے کو ٹکریں مارتے پھرو۔ لیکن اتنی کھلی ہوں کہ کسی بھی قسم کا تجسس ظاہر نہ ہو۔تو مردوں کے لئے تو پہلے ہی حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اگر مرداپنی نظریں نیچی رکھیں گے تو بہت سی برائیوں کا تو یہیں خاتمہ ہوجاتا ہے ۔پھر مومن عورتوں کے لئے حکم ہے کہ غض بصر سے کام لیں اور آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اگر عورت اونچی نظر کر کے چلے گی تو ایسے مرد جن کے دلوں پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے وہ تو پھر ان عورتوں کے لئے مشکلات ہی پیدا کرتے رہیں گے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد2 صفحہ 86-87-88)

حیا ایمان کا حصہ ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے جو حدود مقرر کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے آپ کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ پاتا ہے ۔حدیث شریف میں آیا ہے: ’’حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘

(صحیح بخاری،کتاب الایمان۔ حدیث نمبر 24)

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا پاتا ہے بشرطیکہ تم مومن ہو ،تمہارے میں ایمان ہو۔‘‘

(مستورات سے خطاب فرمودہ 2جون 2012ء برموقع جلسہ سالانہ جرمنی مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل26 اکتوبر 2012ء)

پچھلا پڑھیں

سال نو کی دعا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جنوری 2021