• 19 مئی, 2024

فقہی کارنر

ہم کفو رشتہ بہتر ہے لازمی نہیں

ایک دوست کا سوال پیش ہوا کہ ایک احمدی اپنی ایک لڑکی غیر کفو کے ایک احمدی کے ہاں دینا چاہتا ہے حالانکہ اپنی کفو میں رشتہ موجود ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
اگر حسب مراد رشتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے بہتر ہے لیکن یہ امر ایسا نہیں کہ بطور فرض کے ہو۔ ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھ سکتا ہے۔ اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھتا تو دوسری جگہ دینے میں حرج نہیں ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہر حال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے، جائز نہیں ہے۔

(بدر 11؍اپریل 1907ء صفحہ3)

(مرسلہ: داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

اخلاق کامل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 مارچ 2023