• 20 مئی, 2024

جری اللہ فی حلل الانبیاء (قسط 2)

جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء
مسیح موعودؑ تمام انبیاء کے مظہر
قسط 2

موسیٰ نام رکھنا

آپؑ فرماتے ہیں:
’’اس وقت میں امت موسوی کی طرح جو مامور اور مجددین آئے ان کا نام نبی رکھا گیا تو اس میں یہ حکمت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختم نبوت میں فرق نہ آوے اور اگر کوئی نبی نہ آتا تو پھر مماثلت میں فرق آتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آدم، ابراہیم، نوح اور موسیٰ وغیرہ میرے نام رکھے حتٰی کہ آخر کار جَرِیُّ اللّٰہ ِفِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کہا۔ گویا اس سے سب اعتراض رفع ہو گئے اور آپ کی امت میں ایک آخری خلیفہ ایسا آیا جو موسیٰ کے تمام خلفاءکا جامع تھا۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ65-66 ایڈیشن1984ء)

یعقوب کے نام دئیے جانے کی وجہ تسمیہ

’’کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا بھی ہو اور حواس خمسہ اس کے کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اُسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے، وہ حواس مختلف طور سے ملتے ہیں۔ کبھی بصر میں کبھی شامہ سونگھنے میں، کبھی سمع میں،شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسف کے والد نے کہا اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۵﴾ (یوسف: 95) کہ مجھے یُوسفؑ کی خوشبو آتی ہے۔ اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا۔

اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوبؑ کو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ یوسفؑ زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے۔ اس خوشبو کو دوسرے پاس والے نہ سونگھ سکے کیونکہ ان کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوبؑ کو ملے۔ جیسے گڑ سے شکر بنتی ہے اور شکر سے کھانڈ اور کھانڈ سے دوسری شیرینیاں لطیف در لطیف بنتی ہیں۔ ایسے ہی رؤیا کی حالت ترقی کرتی کرتی کشف کا رنگ اختیار کرتی ہے اور جب وہ بہت صفائی پرجاوے تو اس کا نام کشف ہوتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد4 صفحہ245-246 ایڈیشن 1988ء)

؎ آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار

ابن مریم نام دئیے جانے کی وجہ تسمیہ

’’اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ (اٰل عمران: 56) یہ تسلی بخش وعدہ ناصرہ میں پیدا ہونے والے ابن مریم سے ہوا تھا۔مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے۔اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو امارہ کے درجہ میں پڑے ہوئے فسق وفجور کی راہوں پر کار بند ہیں؟نہیں،ہر گز نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے،تو یاد رکھو اور دل سے سن لو۔میں ایک بار پھر ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہیں،بلکہ بہت زبردست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر میری ذات تک اور نہ صرف میری ذات تک بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہےجس نے مجھے بھی اس بر گزیدہ انسان کامل کی ذات تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور راستی کی روح لے کر آیا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ہی ذات تک پہنچتاتو مجھے کچھ بھی اندیشہ اور فکر نہ تھا اور نہ ان کی پرواہ تھی مگر اس پر بس نہیں ہوتی۔ اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور خدائے تعالیٰ کی بر گزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔پس ایسی صور ت اور حالت میں تم خوب دھیان دے کر سن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزو رکھتے ہو اور اتنی بڑی کامیابی (کہ قیامت تک مکفّرین پر غالب رہو گے) کی سچی پیاس تمہارے اندر ہے، تو پھر اتنا ہی میں کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہو گی۔ جب تک لوّامہ کے درجہ سے گزر کر مُطْمَئنَّہ کے مینار تک نہ پہنچ جاؤ۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ88-89 ایڈیشن 2016ء)

میرا نام کرشن رکھا

آپ فرماتے ہیں:
’’ہمیں خیال آیا کہ ہمارا نام مہدی ہے۔ عیسیٰ ہے اور کرشن کے نام سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں پکارا ہے اور انہیں تینوں کی آمد کی انتظار میں اس وقت تین بڑی قومیں لگی ہوئی ہیں۔ مسلمان مہدی کے، عیسائی عیسیٰ کی آمد ثانی کے اور ہندو کرشن اوتار کے چنانچہ ان ناموں میں یہی حکمت الٰہی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد10 صفحہ145 ایڈیشن1984ء)

میرا نام عیسیٰ بھی ہے

فرمایا:
’’بے شک یہ تو سچائی کی دلیل ہے نہ اعتراض۔ کیونکہ ماننا پڑے گا کہ تصنّع سے یہ دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ خدا کے حکم اور وحی سے کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی آمد کے واقعات کو ہی تو اس میں بیان نہیں کیا بلکہ میرا نام عیسیٰ رکھا اور لکھا کہ لِیُظْھِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ میرے حق میں ہے اور ادھر کوئی توجہ نہیں۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہوتا تو اس میں دوبارہ آنے کا اقرار نہ ہوتا۔ یہ اقرار ہی بتاتا ہے کہ یہ خدا کا کام ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ318 ایڈیشن2016ء)

پھر فرمایا:
’’جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو بتایا ہم نے ظاہر کر دیا اور یہی ہماری سچائی کی دلیل ہے اگر منصوبہ بازی ہوتی تو ایسا کیوں لکھتے؟ مگر ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس براہین میں میرا نام عیسیٰ بھی رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیاد براہین سے پڑی ہوئی ہے اور علاوہ بریں سنت اللہ اسی طرح پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال پہلے کیوں نبوت کا دعویٰ نہ کر دیا؟ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مامور ہونے سے پہلے یوسف نجار کے ساتھ بڑھئی کا کام ہی کرتے رہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ230 ایڈیشن 2016ء)

محمدؐ نام دیئے جانے کی وجہ تسمیہ

’’حافظ صاحب سے پوچھو کہ براہین احمدیہ میں میرا نام محمد لکھا ہے اور مسیح بھی لکھا ہے اور تم لوگ اس کو پڑھتے رہے اور اس کتاب کی تعریف کرتے رہے اور اس کے ریویومیں لمبی چوڑی تحریریں کرتے رہے تو اس کے بعد کون سی نئی بات ہوئی ہے۔ مولوی نذیر حسین دہلوی نے اس کتاب کے متعلق خود میرے سامنے کہا تھا کہ اسلام کی تائید میں جیسی عمدہ یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ اس وقت منشی عبد الحق صاحب بھی موجود تھے اور بابو محمد صاحب بھی موجود تھے۔ یہ وہ زمانہ براہین کا تھا جب کہ تم خود تسلیم کرتے تھے کہ اس میں کوئی بناوٹ وغیرہ نہیں۔ اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو کیا انسان کے لئے ممکن تھا کہ اتنی مدت پہلے سے اپنی پٹڑی جمائے اور ایسا لمبا منصوبہ سوچے۔ اب چاہیے کہ یہ لوگ اس نفاق کا جواب دیں کہ اس وقت کیوں ان لوگوں کو یہی باتیں اچھی معلوم ہوتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ مہدی جو آنے والا ہے۔ اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہو گا اور وہ میرے خلق پر ہو گا۔ اس سے آنحضرت کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا جیسا کہ ایلیا نبی کا مظہر یوحنا نبی تھا۔ اس کو صوفی بروز کہتے ہیں کہ فلاں شخص موسیٰ کا مظہر اور فلاں عیسیٰ کا مظہر ہے۔نواب صدیق حسن خان نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اٰخَرِ یْنَ مِنْھُمْ سے وہ لوگ مراد ہیں جو مہدی کے ساتھ ہوں گے اور وہ لوگ قائم مقام صحابہ کے ہوں گے اور ان کا امام یعنی مہدی قائم مقام حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گا۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ209-210 ایڈیشن 2016ء)

محمدؐ کا ظل

’’تعجب کی بات ہے یہ لوگ اسے دعویٰ جدید کہتے ہیں۔ براہین میں ایسے الہامات موجود ہیں جن میں نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے۔ چنانچہ ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْ لَہٗ بِالْھُدٰ ی اور جَرِیُّ اللّٰہ ِفِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ پر غور نہیں کرتے اور پھر افسوس یہ نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کی مہر مسیح اسرائیلی کے آنے سے ٹوٹتی ہے یا خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے۔ ختم نبوت کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو مسیح اسرائیلی کو آسمان سے اتارتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں نہ نیا نبی نہ پرانا نبی بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چادر دوسرے کو پہنائی گئی اور وہ خود ہی آئے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ370 ایڈیشن 2016ء)

لفظ احمد کا بروز

’’آج وہی بدر کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت تیار کر رہا ہے۔ وہی بدر اور اَذِلَّۃٌ کا لفظ موجود ہے۔ کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلت نہیں آئی ؟ نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے۔ ایک یورپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں اور کیا مجال ہے جو سر اٹھائیں۔ اس ملک کا حال کیا ہے؟ کیا اَذِلَّۃٌ نہیں ہیں۔ ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک ذلت ہے جس میں اُن کا نمبر بڑھا ہوا ہے؟ جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں،وہ ان میں پاؤگے۔ ٹکڑ گدا مسلمانوں ہی میں ملیں گے۔ جیل خانوں میں جاؤ تو جرائم پیشہ گرفتار مسلمان ہی پاؤ گے۔ شراب خانوں میں جاؤ،کثرت سے مسلمان۔ اب بھی کہتے ہیں ذلت نہیں ہوئی؟ کروڑ ہا ناپاک اور گندی کتابیں اسلام کے رد میں تالیف کی گئیں۔ ہماری قوم میں مغل، سید کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سیّد المعصومین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو کوسنے لگے۔ صفدر علی اور عماد الدین وغیرہ کون تھے؟ امہات المومنین کا مصنف کون ہے؟ جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلت نہیں ہوئی۔ کیا تم تب خوش ہو تے کہ اسلام کا اتنا رہا سہا نام بھی باقی نہ رہتا، تب محسوس کرے کہ ہاں اب ذلت ہوئی ہے !!!‘‘

(ملفوظات جلد2صفحہ73-74 ایڈیشن2016ء)

پھر فرمایا:
’’یہ لوگ جو بار بار پوچھتے ہیں کہ قرآن میں کہاں نام ہے؟ ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام احمد رکھا ہے۔ بُوْرِکْتَ یا اَحْمَدُ وغیرہ بہت سے الہام ہیں۔ میرا نام محمد رکھا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٓ اَشِدَّآءُ عَلیَ الْکُفَّارِ رُحَمَآء ُبَیْنَھُمْ اور احمد نام پر ہی ہم بیعت لیتے ہیں۔کیا یہ نام قرآن شریف میں نہیں ہیں؟ پھر جس قدر میرے نام آدم، عیسیٰ، داؤد، سلیمٰن وغیرہ رکھے ہیں۔وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ ماسوا س کے یہ سلسلہ اپنے ساتھ ایک علمی ثبوت رکھتا ہے۔اگر ان علمی امور کو یکجائی طور پر دیکھا جاوے، تو آفتاب کی طرح اس سلسلہ کی سچائی روشن نظر آتی ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے سارے نبیوں کے نام رکھے ہیں اور آخر جَرِیُّ اللّٰہ ِفِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کہہ دیا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ206 ایڈیشن 2016ء)

میں نور محمدی کا قائم مقام ہوں

میں اب میدان میں کھڑا ہوں اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں اپنے خدا کو دیکھتا ہوں وہ ہر وقت میرے سامنے اورمیرے ساتھ ہے۔ میں پکار کر کہتا ہوں مسیح کو مجھ پر زیادت نہیں، کیونکہ میں نور محمدؐ ی کا قائم مقام ہوں، جو ہمیشہ اپنی روشنی سے زندگی کے نشان قائم کرتاہے۔ اس سے بڑھ کر اور کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے۔تسلی پانے کے لیے اور زندہ خدا کو دیکھنے کے لیے ہمیشہ روح میں ایک تڑپ اور پیاس ہے اور اس کی تسلی آسمانی تائیدوں اورنشانو ں کے بغیر ممکن نہیں اور میں دعویٰ سے کہتاہوں کہ عیسائیوں میں یہ نور اور زندگی نہیں ہے بلکہ یہ حق اور زندگی میرے پاس ہے۔میں 26برس سے یہ اشتہار دے رہاہوں اور تعجب کی بات ہے کوئی عیسائی پادری مقابلہ پر نہیں آتا۔ اگر اِن کے پاس نشانات ہیں تو کیوں انجیل کے جلال کے لیے پیش نہیں کرتے۔ ایک بارمیں نے سولہ 16 ہزار اشتہار انگریزی اُردو میں چھاپ کر تقسیم کیے۔ جن میں اب بھی کچھ ہمارے دفتر میں ہوں گے۔ مگر ایک بھی نہ اُٹھاجو یسوع کی خدائی کا کرشمہ دکھاتا اور اُس بت کی حمایت کرتا۔ اصل میں وہاں کچھ ہے ہی نہیں۔ کوئی پیش کیا کرے۔ مختصر یہ کے حق کی شناخت کے لیے یہ تین ہی ذریعے ہیں اور عیسائی مذہب میں تینوں مفقود ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ456-457 ایڈیشن2016ء)

مامور و مسیح موعود نام کی وجہ تسمیہ

فرمایا
’’اب یہ صاف امر ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعُود کے نام سے دُنیا میں بھیجا ہے جو لوگ میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں خداتعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ جب تک میں نے دعویٰ نہ کیاتھا،بہت سے اُن میں سے مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لوٹالے کر وضوکرانے کو ثواب اور فخرجانتے تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو میری بیعت میں آنے کے لئے زور دیتے تھے، لیکن جب خدا تعالیٰ کے نام اور اعلام سے یہ سلسلہ شروع ہوا، تو وہی مخالفت کے لئے اُٹھے۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اُن کی ذاتی عداوت میرے ساتھ نہ تھی، بلکہ عداوت اُن کو خداتعالیٰ سے ہی تھی۔ اگر خداتعالیٰ کے ساتھ اُن کو سچا تعلق تھاتو اُن کی دینداری اور اتقاء اور خداترسی کا تقاضا یہ ہوناچاہئے تھا کہ سب سے اول وہ میرے اس اعلان پر لبیک کہتے اور سجداتِ شکر کرتے ہوئے میرے ساتھ مصافحہ کرتے، مگر نہیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو لے کر نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مخالفت کو یہاں تک پہنچایا کہ مجھے کافر کہا اور بے دین کہا۔ دجال کہا۔ افسوس ! ان احمقوں کو یہ معلوم نہ ہوا کہ جو شخص خداتعالیٰ سے قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ کی آوازیں سنتا ہووہ اُن کی بدگوئی اور گالیوں کی کیا پروا کرسکتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان نادانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کفر اور ایمان کا تعلق دُنیا سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہے۔ خداتعالیٰ میرے مومن اور مامور ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر ان بیہودگیوں کی مجھے پروا کیا ہوسکتی ہے؟‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ175-176 ایڈیشن 2016ء)

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

اخلاق کامل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 مارچ 2023