• 24 مئی, 2022
آج کا شمارہ
رہے گا خلافت کا فیضان جاری

رہے گا خلافت کا فیضان جاری

رہے گا خلافت کا فیضان جاری(کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم) خدا کا یہ احسان ہے ہم پہ بھاریکہ جس نے ہے اپنی یہ نعمت اتارینہ مایوس ہونا گھٹن ہو نہ طاریرہے گا خلافت کا فیضان جاری…

نظم
غزل

غزل

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھشوقِ نظّارہ بڑھے اور بھی دیدار کے ساتھ غیر تو غیر ہیں، غیروں سے شکایت کیسیگھر مرا لُوٹا ہے اپنوں نے بھی اغیار کے ساتھ دلربا دلنشیں…

نظم
انہیں ہیروبنایا جا رہا ہے

انہیں ہیروبنایا جا رہا ہے

بہت ڈالر کو پوجا جا رہا ہےضمیروں کو خریدا جا رہا ہے جو جتنی گالیاں دے گا زیادہاُنہیں اتنا نوازا جا رہا ہے ترےقدموں کی خوشبو ہے یقیناًترے گاؤں کو رستہ جا رہا ہے ابھی…

نظم
عجیب ڈور ہے جس سے بندھی گئی ہوں میں

عجیب ڈور ہے جس سے بندھی گئی ہوں میں

زباں پہ آنے سے پہلے کہی گئی ہوں میںکسی خیال میں کھو کر بنی گئی ہوں میں مرے خیال کی دہلیز اتنی اونچی ہےکہ آسماں کے برابر چنی گئی ہوں میں مرا غرور مری وحشتوں…

نظم
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمامدہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام حیرت غرورِ حسن سے، شوخی سے اضطرابدل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام اللہ ری جسمِ یار کی خوبی…

نظم
آپ کے وعدے کسی کل سے بندھے رہتے ہیں

آپ کے وعدے کسی کل سے بندھے رہتے ہیں

آپ کے وعدے کسی کل سے بندھے رہتے ہیںچاہنے والے اسی پل سے بندھے رہتے ہیں تنگ آ جاتی ہیں پلو سے لگی گرہیں بھیکیسے رشتے ہیں جو ململ سے بندھے رہتے ہیں صبح کی…

نظم
ہر کسی سے پرے پرے رہنا

ہر کسی سے پرے پرے رہنا

ہر کسی سے پرے پرے رہناسہمے سہمے ڈرے ڈرے رہنا تم نے کیا روگ پال رکھے ہیںجب بھی دیکھو مرے مرے رہنا سانحہ کیا ہوا دسمبر میںجون میں بھی ٹھرے ٹھرے رہنا خالی کر دے…

نظم
غزل

غزل

جانے کیا بات ہے وابستہ رُخِ یار کے ساتھشوقِ نظّارہ بڑھے اور بھی دیدار کے ساتھ غیر تو غیر ہیں غیروں سے شکایت کیسیگھر مرا لُوٹا ہے اپنوں نے بھی اغیار کے ساتھ دلربا، دلنشیں،…

نظم
زباں پر تذکرے شہکار کے ہیں

زباں پر تذکرے شہکار کے ہیں

قلم کی نوک پر اقرار کے ہیںارادے جرأتِ اظہار کے ہیں اندھیرے میں اجالے یار کے ہیںزباں پر تذکرے شہکار کے ہیں کسوٹی پر وہی معیار کے ہیںملے تمغے جنہیں کردار کے ہیں کرم سے…

نظم
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے

نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے

نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکرِ دو عالم سے کر دیا آزادترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے خرد کا نام جنوں پڑ گیا،…