• 21 جنوری, 2021
آج کا شمارہ
تمہیں زمانہ جو گالیاں دے تو چپ ہی رہنا خدا سے کہنا

تمہیں زمانہ جو گالیاں دے تو چپ ہی رہنا خدا سے کہنا

تمہیں زمانہ جو گالیاں دے تو چپ ہی رہنا خدا سے کہنایہی تو سچوں کا راستہ ہے کہ ظلم سہنا خدا سے کہنا میں کیا ہوں میری بساط کیا ہے مجھے سکھایا گیا یہی ہےہمیشہ…

نظم
بسم اللّٰہ السمیع الدعاء

بسم اللّٰہ السمیع الدعاء

اے محسن و محبوب خدا اے مرے پیارےاے قوت جاں اے دلِ محزوں کے سہارےاے شاہِ جہاں! نورِ زماں، خالق و باریہر نعمت کونین ترے نام پہ وارییارا نہیں پاتی ہے زباں شکر و ثنا…

حضرت اقدس مسیح دوراں مرزا غلام احمد قادیانی
سب کام تو بنائے لڑکے بھی تجھ سے پائے

سب کام تو بنائے لڑکے بھی تجھ سے پائے

سب کام تو بنائے لڑکے بھی تجھ سے پائےسب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائےتونے ہی میرے جانی خوشیوں کے دن دکھائےیہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ یہ تین جو…

نظم
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتےتم اچھے مسیحا ہو شِفا کیوں نہیں دیتے دردِ شبِ ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتےخونِ دلِ وحشی کا صِلا کیوں نہیں دیتے مِٹ جائے گی مخلوق تو…

نظم
قافلہ سالارِ عشق

قافلہ سالارِ عشق

امن کا پیغام لے کر ، سر تا پا سرشارِ عشقجیتنے نکلا پہن کر سر پہ وہ دستارِ عشقوہ علمدارِ صداقت ، مقصدِ امن و صلحنفرتوں کے دَور میں کرتا ہے وہ پرچارِ عشقبالمقابل ایک…

نظم
تبلیغ و ہدایت کا نیا سلسلہ

تبلیغ و ہدایت کا نیا سلسلہ

خدمتِ اسلام نے اک موڑ نادر ہے لیامصطفی کی پیش گوئی کا نیا رنگ وا ہوامہدیِ دوراں نے دیکھا تھا مبارک ایک خواباس کی تعبیروں کا تازہ ہم پہ اک سِرّ ہے کھلاجیسے جیسے رخ…

نظم
جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے

جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے

جب بھی وہ عہد کا حسیں بولےعرش بولے، کبھی زمیں بولےجب وہ بولے تو ساتھ ساتھ اس کےذرّہ ذرّہ بصَد یقیں بولےچاند سورج گواہی دیں اس کیاُس کا منکر نہیں نہیں بولےشور برپا ہے صحنِ…

حضرت اقدس مسیح دوراں مرزا غلام احمد قادیانی
یا رب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں

یا رب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں

یا رب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباںتونے دیا ہے ایماں، تو ہر زماں نگہباںتیرا کرم ہے ہرآں تو ہے رحیم و رحماںیہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْکیونکر ہو شکر تیرا ،تیرا…

نظم
خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہمخوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میںگو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں…

نظم
جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے

جب بھی وہ عہد کا حسیں بولے

جب بھی وہ عہد کا حسیں بولےعرش بولے، کبھی زمیں بولےجب وہ بولے تو ساتھ ساتھ اس کےذرّہ ذرّہ بصَد یقیں بولےچاند سورج گواہی دیں اس کیاُس کا منکر نہیں نہیں بولےشور برپا ہے صحنِ…