• 30 ستمبر, 2020
آج کا شمارہ
الٰہی کیا کروں بتخانے پر بت خانہ آتا ہے

الٰہی کیا کروں بتخانے پر بت خانہ آتا ہے

نرالا مست ہوں زاہد بھی مشتاقانہ آتا ہے کبھی چھپ چھپ کے آتا تھا اب آزادانہ آتا ہے بڑی مشکل ہے وہ بھی منحرف ہیں دل بھی برگشتہ نہ وہ آتے ہیں قابو میں نہ…

نظم
نازِ محبت

نازِ محبت

دنیا میں حاکموں کو حکومت پہ ناز ہے جو ہیں شریف ان کو شرافت پہ ناز ہے عابد کو اپنے زہدوعبادت پہ ناز ہے اور عالموں کو علم کی دولت پہ ناز ہے حُسنِ رقم…

حضرت اقدس مسیح دوراں مرزا غلام احمد قادیانی
بدظنی سے بچو

بدظنی سے بچو

اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظنِ بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ظنِ بد رکھتا ہے عادت بدی سے خود وہ رکھتا ہے اِرادت گمانِ بد شیاطیں کا ہے…

نظم
کہیں وہ آفتاب ہو، کہیں وہ ماہ تاب ہو

کہیں وہ آفتاب ہو، کہیں وہ ماہ تاب ہو

جہاں میں ہم کہیں رہیں ہماری آب و تاب ہو چمن میں گل ہوں ہر طرف وہیں پہ وہ گلاب ہو محبّتوں کی سرزمیں ہے ہر جگہ کہیں کہیں کہیں وہ آفتاب ہو، کہیں وہ…

نظم
آدمی کا سکوں خود کی جستجو ٹھہرا

آدمی کا سکوں خود کی جستجو ٹھہرا

کبھی تو وصل کبھی ہجر رو برو ٹھہرا پر عشق دونوں زمانوں میں سرخرو ٹھہرا محبتوں کا شجر ایسا باثمر نکلا بہار میں بھی خزاں میں بھی خوبرو ٹھہرا نہ آب گینوں میں پایا نہ…

نظم
حشر سامانیوں کا موسم ہے

حشر سامانیوں کا موسم ہے

پھر وہی بارشوں کا موسم ہے سانولے بادلوں کا موسم ہے پھر صبا نے ہے زلف کو چھیڑا حشر سامانیوں کا موسم ہے ایسے ساون میں جی مچلتا ہے جل ترنگ گھنگھروں کا موسم ہے…

نظم
سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز

سائے میں تیرے دھوپ نہائے بصد نیاز اے چھاؤں چھاؤں شخص تیری عمر ہو دراز اے اپنے ربّ کے عشق میں دیوانے آدمی دیوانے تیرے ہم کہ ہؤا تو خدا کا ناز کیوں کر کھلے…

نظم
ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے

ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے

ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے مری نگاہ تو بس جا کے تجھ پہ پڑتی ہے بدل کے بھیس معالج کا خودوہ آتے ہیں زمانہ کی جو طبیعت کبھی بگڑتی ہے زبان میری…

نظم
خلیفہ وہ ہمارا ہے

خلیفہ وہ ہمارا ہے

خلافت کے بنا اپنا نہیں کچھ بھی گزارہ ہے یہی ظلمات بحروبرمیں اک اپنا سہارا ہے کوئی ایسا بھی ہے جو دوسروں کے درد میں جاگے یقیناً ایک بندہ ہے، خلیفہ وہ ہمارا ہے چلے…

نظم
نغمۂ واقفینِ نو

نغمۂ واقفینِ نو

دلوں کو جیتنے کے دِن ہمارا اَب نصیب ہیں بڑھے چلو بڑھے چلو کہ منزلیں قریب ہیں بہارِ جاں فِزا سے ہم سجائیں گُل سِتانِ نو زمیں کے باسیوں کو دیں سجا کے ارمغانِ نو…