• 8 فروری, 2023
آج کا شمارہ
حیراں ہیں دیا تم نے اِسے کیسا یہ نذرانہ

حیراں ہیں دیا تم نے اِسے کیسا یہ نذرانہ

کرتا رہے گا یاد تمہیں سارا زمانہجذبہ ہے تمہارا یہ یکتا و یگانہ گلشن میں بہار آئی اِسی جذبہ جنوں سےحیراں ہیں دیا تم نے اِسے کیسا یہ نذرانہ حیاتِ جاودانی ہی ہے حقیقی خزانہہاتھ…

آج کا شمارہ
نام ہے مسرور اس کا، ہر گھڑی مسرور وہ

نام ہے مسرور اس کا، ہر گھڑی مسرور وہ

آج جس ظلمت میں ہے غرقاب سب خلقِ خداسب مسائل کا یہ حل، سب کے لیے روشن نشاں اس کے پیچھے چل کے ملتی ہے مرادِ زندگیہے ضمانت کامرانی کی وہ میرِ کارواں اس کے…

آج کا شمارہ
کیوں نہ جائیں ہم ان سب پے قرباں

کیوں نہ جائیں ہم ان سب پے قرباں

ہوئے تم قرباں دی تم نے جاںبنا لیا تم نے جنت میں جانے کا ساماں ٹھکرا دیا دنیا کو چن لی رضاء الٰہیسچ کر دیکھایا خدا کا فرماں عیسی کو مارکر کردیا اونچا مقامتم مر…

حضرت اقدس مسیح دوراں مرزا غلام احمد قادیانی
دعوت فکر

دعوت فکر

دعوت فکر(کلام حضرت مسیح موعودؑ) یارو! خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں؟ باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں؟حق کی طرف رجوع بھی لاؤ…

نظم
کیوں نہ ہو ناز خد و خال پہ اپنے اس کو

کیوں نہ ہو ناز خد و خال پہ اپنے اس کو

کیوں نہ ہو ناز خد و خال پہ اپنے اس کواپنے ہاتھوں سے بنایا ہے خدا نے اس کو کاش! میری بھی کبھی یاد اُسے آ جائےنیند سے سپنے جگائیں جو سہانے اس کو اُس…

نظم
قطعات

قطعات

جن کو ملتا ہے خلافت کا مقامچاہتے ہیں دل سے وہ سب کا بھلا خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں ہمیںاپنی تقریروں سے ہم کو وہ سدا —***— ہمیں بخشی ہے مولیٰ نے خلافت آسمانی بھیدکھائی…

نظم
ہمیں تقوی کی چادر اوڑھ کر ہے گامزن رہنا

ہمیں تقوی کی چادر اوڑھ کر ہے گامزن رہنا

ہمیں تقوی کی چادر اوڑھ کر ہے گامزن رہنا(حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ کے خطاببر موقع جلسہ سالانہ بھارت 2022ء سے متاٴثر ہو کر) ہمیں تقوی کی چادر اوڑھ کر ہے گامزن رہناخدا کے…

نظم
زباں پر تذکرے شہکار کے ہیں

زباں پر تذکرے شہکار کے ہیں

قلم کی نوک پر اقرار کے ہیںارادے جرأتِ اظہار کے ہیں اندھیرے میں اجالے یار کے ہیںزباں پر تذکرے شہکار کے ہیں کسوٹی پر وہی معیار کے ہیںملے تمغے جنہیں کردار کے ہیں کرم سے…

نظم
شہداء احمدیت برکینا فاسو کے نام

شہداء احمدیت برکینا فاسو کے نام

یہ محبتوں کے نصیب تھےکبھی دور تھے جو، قریب تھے وہ جو کربلا کو سجا گئےوہ نمازی کیسے عجیب تھے یہ تری نگاہ کا لطف تھاکہ یہ لوگ تیرے حبیب تھے اے شہیدو! تم پہ…

نظم
مینار وہ جراٴت کے، تھی روح اُن میں بلالی

مینار وہ جراٴت کے، تھی روح اُن میں بلالی

اک سانحہ، بُرکینا کی دھرتی پہ ہوا ہےدِل آج تلک غم میں گرفتارِ بَلا ہے انساں میں نہیں باقی کچھ خوف خدا کاوحشت میں شیطان سےکچھ اور سوا ہے مسجد میں وہ آئے تھے عبادت…