• 15 اپریل, 2024

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کا دورہ ڈوری 2004ء

اکتوبر2003ء میں مکرم ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب نے لندن سے دریافت فرمایا کہ اگرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا برکینا فاسو کے دورے کا پروگرام ہو تو کون ساموسم بہتر ہوگا۔ یہ سوال اتنا مشکل تھا کہ اوسان خطا ہو گئے۔ کچھ سمجھ نہیں آئی۔ صرف اتنا عرض کیا کہ مارچ میں برکینا فاسو کا جلسہ سالانہ ہوتا ہے۔ پھر خوشخبری ملی کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مارچ میں دورہ منظور فرما لیا ہے۔اس کی تفصیل پھر کبھی سہی۔ ہم نے جائزہ لیا کہ دورہ کے دوران میں کس کس علاقہ کا سفر کیا جائے اور احباب سے ملا جائے۔ اس میں ایک تجویز ڈوری جانے کی بھی تھی۔ لیکن راستہ بہت مشکل اور موسم انتہائی گرم۔ مرکز سے مکرم میجر محمود صاحب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سفر سے پہلے جائزہ لینے آئے توہم ان کو لے کر ڈوری کے علاقے میں بھی گئے۔ وہ کچی سٹرک اور موسم کی وجہ سے پریشان تھے۔تجویز ہوا کہ میجر صاحب ساری تفصیل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کریں گے۔ اس کے بعد جو بھی فیصلہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ارشاد فرمائیں اس کے مطابق عمل کر لیا جائے گا۔ ہم نے ڈوری کے سفر کا پروگرام بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھجوا دیاجسے حضور انورنے منظور فرما لیا۔

مکرم ناصرا حمد سدھو صاحب مبلغ سلسلہ ڈوری نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر دورے کے انتظامات شروع کر دیئے۔ ہمیں امید تھی کہ اس موقع پر بہت زیادہ لوگ آئیں گے اسی لئے بہت وسیع انتظامات کئے گئے۔

لیکن وہابیوں نے اس قدر مخالفت کی اور ہر جگہ لوگوں کو جا کر منع کیا اور دھمکیاں دیں کہ ہر گز شامل نہ ہوں۔ ہم نے ارد گرد کے علاقوں سے احباب جماعت کو ڈوری لانے کے لئے گاڑیوں کا انتظام کیا ہوا تھا۔ جن ٹرانسپوٹرز سے ہم نے معاہدہ کیا تھا انہوں نے مخالفین کے دباؤ میں آکر گاڑیاں دینے سے انکار کر دیا۔

اور پھر اس پر موسم انتہائی شدید گرم تھا۔ اتنی شدید گرمی میں صحرا میں سفر انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ہم پروگرام کے مطابق 30؍مارچ 2004ء بروز منگل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی معیت میں ڈوری پہنچے۔ اس وقت درجہ حرارت 48 سینٹی گریڈ سے زائد تھا اور بجلی کے بھی مسائل تھے۔

ساڑھے چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز ظہر و عصر پڑھائی۔ برکینا فاسو کے پہلے پرائمری اسکول کا سنگ بنیاد رکھا اور جلسہ شروع ہوا۔ جس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امام مہدی کی آمد اور ہماری خوش قسمتی کہ ہم نے ان کو قبول کیا، نمازوں کے اہتمام اور تعلیم کے حصول کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔ حضور انور نے فرمایا کہ جو پڑھ نہیں سکتے وہ کوئی ہنر سیکھیں۔

رات کو معززین علاقہ کے ساتھ ڈنر تھا۔اگلے دن 31؍مارچ کو ڈوری سے 9 بجے کایا کے لئے روانہ ہوئے۔ چونکہ راستہ کچا اور بہت ہی خراب تھا، گرد اتنی تھی کہ قافلے کی گاڑیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جب قافلہ نے ڈیڑھ گھنٹہ میں 65 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیا تو اچانک عملہ حفاظت والی گاڑی سڑک سے نیچے اتر گئی اور الٹ گئی۔ یہ صورتحال بہت ہی پریشان کن تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ گاڑی میں موجود سب احباب محفوظ تھے۔ اس گاڑی میں مکرم ناصر سعید صاحب مرحوم، مکرم سخاوت باجوہ صاحب، مکرم عبد الرشید انور صاحب مربی سلسلہ، مکرم رانا فاروق احمد صاحب مربی سلسلہ سوار تھے۔

چند لمحوں میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی گاڑی بھی موقع پر پہنچ گئی۔ اس وقت خاکسار نے ایسے اخلاق کریمانہ اور شفقت پدرانہ دیکھی جس کی کوئی بھی نظیر دنیا میں مل نہیں سکتی۔ حادثہ کی پریشانی تھی۔ بحیثیت امیر جماعت سب ذمہ داری خاکسار کی تھی۔ شرمندگی اور ندامت بھی کہ ایسا پروگرام بنایا کیوں جس میں اتنی مشکلات تھیں۔ پھر حادثہ سے میر ی جان نکل رہی تھی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ پولیس کاروائی مکمل کروائیں۔اب اس جنگل، ویران علاقہ میں پولیس کہاں سے آئے۔ ہم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے درخواست کی کہ سب ٹھیک ہیں۔ ہم کاروائی کر والیں گے باقی گاڑیاں سفر جاری رکھیں۔ فرمایا: نہیں۔ اکٹھے چلیں گے۔موسم گرم سے گرم ہوتا جا رہا تھا۔ درجہ حرارت 48 سے بھی زیادہ۔ پگڑی اور شیروانی زیب تن تھی۔ حضور انور گاڑی سے باہرتشریف لے آئے۔ قافلہ رکنے کی وجہ سے اردگرد سے بچے موقع پر جمع ہو گئے۔ حضور انور نے جمع ہونے والے بچوں میں دس دس ہزارفرانک سیفا کے نوٹ تقسیم فرماناشروع کر دئے۔

مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان حالات میں کیا کیاجائے۔ایک طرف شرمندگی اور خجالت اور دوسری طرف حضور انور کے اس طرح شدید گرمی میں سڑک کنارے کھڑے ہونے کی پریشانی۔ حضور انور نے میری حالت کو بھانپ لیا اور مکرم ڈاکٹر تاثیر مجتبیٰ صاحب کو ایک ہومیو پیتھی دوائی دے کر میرے پاس بھیجا اور انہوں نے مجھے دوائی دی او ر کہا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ یہ دوائی لیں اور پریشان نہ ہوں۔

جس جگہ حادثہ پیش آیا وہ جگہ پولیس چوکی سے بہت دور تھی۔ جب پولیس کو جا کر حادثہ کی اطلا ع دی تو پولیس والوں نے وہاں تک آنے کے لئے نخرے دکھانا شروع کر دئے۔بہر حال اس کارروائی میں تقریبا ً3گھنٹے لگ گئے۔ جس جگہ یہ حادثہ پیش آیا اس کا نام تاپارکو (Taparko) چوک تھا۔اس مقام پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 3 گھنٹے تک کھڑے رہے اور دعائیں کرتے رہے۔ آپ کی دعائیں عرش الٰہی پر مقبول ہوئیں اور جہاں جماعت کی ترقیات ہوئیں وہیں برکینا فاسو کی قسمت بھی چمک اٹھی۔ تاپارکو (Taparko) میں 2007ء میں سونے کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے جو روس کی کمپنی (Norgold) نار گولڈ نکال رہی ہے۔جس کی تفصیلات انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔

(https://nordgoldjobs.com/fr/mines/taparko-burkina-faso/)

1990ء میں مکرم محمد ادریس شاہد صاحب امیر جماعت برکینا فاسو نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں برکینافاسو کے ایک احمدی کا خواب لکھا تھا۔ اس کےجواب میں مکرم امیر صاحب کے نام خط میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درج ذیل ارشاد موصول ہوا:
’’خواب مبارک ہے اور ا س کا مطلب ہے کہ ملک کی مٹی قبول حق کے لئے زرخیز ہے اور میرے دورے کے بعد ان شاءاللّٰہ صداقت کو قبول کر کے نورسے چمک اٹھے گی۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔‘‘

(خط مکرم ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب لندنT .3360, 19 June 1990)

1997ء میں برکینا فاسو سے جلسہ سالانہ یوکے میں اس وقت کے وزیر معدنیات ودراگو ایلی شامل ہوئے۔انہوں نے دوران ملاقات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ دعا کریں کہ ہمارے ملک میں سونا نکل آئے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےنیک تفاؤل کے طور پر ان کو ایک سنہری پین تحفہ عطا فرمایاکہ یہ لو! اللہ تعالیٰ بہت سونا دےگا اور آج برکینا فاسو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ سونے کی کانیں دریافت ہو چکی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 2004ء میں برکینا فاسو کا دورہ فرمایا اور ڈوری بھی تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کے دورہ کے بعد جماعتی ترقیات کا شمار نہیں وہاں ملک پر ہونے والے افضال بھی بے شمار ہیں۔

گل گنتو (تکنے ویل) جہاں احمدی آباد تھے وہاں سونے کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے۔ 2009ء میں آئی ایم گولڈ کمپنی وہاں سے سونا نکالنا شروع کیا۔ یہ ذخائر 560 مربع کلومیٹر کے علاقے میں ہیں۔ جبکہ آئی ایم گولڈ کمپنی کو صرف ایک سو مربع کلومیٹر کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ جو رقبہ اس مائننگ کمپنی کو دیا گیا ہے اسی پر Ticknewane گاؤں آبا دتھا۔ جس کو اس کمپنی نے الگ جگہ پر بسانے کے لئے لوگوں کو گھر وغیرہ بنا کر دئے۔ اس نئے گاؤں کا نام مہدی آباد رکھا گیا تھا۔ یہ برکینا فاسو کی بڑی کانوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تفصیل انٹر نیٹ پر موجود ہے۔

(https://www.iamgold.com/English/home/default.aspx)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 2004ء کے دورہ کے بعد خاکسار کو اپنے خط میں فرمایا:

پیارے عزیزم امیر صاحب جماعت احمدیہ برکینا فاسو

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

خدا کے فضل سے برکینا فاسو کا دورہ بھی غیر معمولی اور خوشکن تھا۔ الحمد للّٰہ علی ذالک۔ میری طرف سے اور میری فیملی اور ممبران قافلہ کی طرف سے نیشنل مجلس عاملہ اور جماعت احمدیہ برکینا فاسو کے تمام افراد کو محبت بھرا سلام اور شکریہ کے جذبات پہنچا دیں۔

جماعت کے تمام افراد مرد و خواتین اور بچوں نے بڑے اخلاص اور فدائیت کا نمونہ دکھایا ہے۔ ۔۔

علاوہ ازیں آپ کے کام سے بھی بہت خوشی ہوئی۔آپ نے اعلیٰ طبقہ میں بھی بڑے اچھے رابطے بنائے ہیں۔ ان کو مزید بڑھائیں اور جماعتیں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سےبڑی منظم ہیں اور ان میں اخلاص کی چمک نظر آتی ہے۔میں نے لندن واپسی پر اپنےخطبہ جمعہ میں اپنے مشاہدات اور تاثرات بیان کئے تھے۔مجھے پورا یقین ہے کہ برکینا فاسو کی سرزمین پر احمدیت کا جو بیج بویا گیا ہے وہ جلد دائمی پھل لائے گا۔برکینا کے لوگ حقیقتاً بڑے عظیم لوگ ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ خدا نے ان کو احمدیت کے نور سے منور کیا ہے۔ میں نے جو بیداری جماعت برکینا فاسو کے افراد میں دیکھی ہے اور حیرت انگیز ہے۔ امید ہے کہ اگلے دو تین سالوں میں اس دورہ کے عظیم الشان نتائج ظاہر ہوں گے اور جماعت تیزی سے ترقی کرے گی۔ ان شاء اللّٰہ

اللہ آپ کی راہنمائی اورنصرت فرمائے اور آپ کو وہ طاقت عطا کرے کہ یہ کام آپ نے جس انداز سے شروع کیا ہے اسے جاری رکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے اور ہم سب احمدیت کی فتح کی نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ کان اللّٰہ معکم

والسلام
خاکسار
(دستخط) مرزا مسرور احمد
خلیفہ المسیح الخامس
(1.5.2004)

(مولانا محمود ناصر ثاقب۔ امیر جماعت احمدیہ برکینافاسو)

پچھلا پڑھیں

بیٹے کی دعا باپ کے واسطے قبول ہوا کرتی ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 فروری 2023