• 18 اپریل, 2024

بلالی روح رکھنے والی جماعت احمدیہ برکینا فاسو

چند روز قبل برکینا فاسو میں نو مخلصینِ احمدیت کو جامِ شہادت نوش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

ان جانے والوں نے خدا کے فضل سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی تاریخ کو زندہ کر دیا اور اپنے ایمان کی پختگی سے قوم بلال کا سر بلند کر دیا۔ موت کو بہت خوشی سے گلے لگایا مگر ایمان پر آنچ نہ آنے دی۔ آج کی دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ چند سکّوں پر ضمیروں کے سودے ہو جاتے ہیں۔ اپنے عارضی مقام کی خاطر بعض لوگ اپنی قوم کی گردن پر چھری چلا دیتے ہیں۔ اسی دنیا میں ان شہداء نے اپنے ایمان کی مضبوطی اور صداقت پر ثباتِ قدم کا وہ نمونہ دکھایا جس سے قیامت تک اُن کا نام نہ صرف زندہ رہے گا بلکہ بہت عزت سے یاد کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ آمین۔ اے سیدنا بلالؓ! تجھ پر سلام کہ تیری قوم میں آج بھی روشن ستارے چمک رہے ہیں جو اپنے عزم و استقلال سے آپ کا نام روشن کر رہے ہیں۔ فالحمدللّٰہ

جنوری 1990ء میں میری تقرری برکینا فاسو میں ہوئی۔ سارے ملک میں دورے کر کے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کی خبر دینے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ یہ قوم دیر سے امام مہدی کی آمد کی خبر سننے کے لئے نہ صرف منتظر تھی بلکہ بےتاب تھی۔ 1950ء کی دہائی میں چند افراد کو معلوم ہوا کہ گھانا میں ایک جماعت ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کی خبر دے رہی ہے۔ یہ پیارے وہاں پہنچے اور بیعت کا شرف حاصل کیا۔ سب سے پہلے بیعت کرنے والے بزرگ مکرم بارو محمدی صاحب سے میری ملاقات اپنے قیام کے ابتدائی ایام میں ہی ہو گئی۔ اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 120 سال تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جوانی کے ایام میں جب ان کی عمر 20 سال کے قریب تھی تو یہ خبر ملی کہ امام مہدی کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ اب جلد وہ ظاہر ہو جائیں گے۔ بارو صاحب نے بتایا کہ میرے والد نے دو گھوڑے خرید لئے تاکہ جونہی امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں فوراً اُن کے ساتھ مل کر جہاد کے لئے نکلیں لیکن انتظار کرتے کرتے مدّتیں گزر گئیں کوئی خبر نہ ملی۔ گھوڑوں کی خوب پرورش کرتے رہے لیکن آخر وہ گھوڑے مر گئے اور والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا۔ خدا کا شکر ہے مجھے جب خبر ملی کہ گھانا میں بعض لوگ امام مہدی کی بات کرتے ہیں تو میں نے وہاں جا کر پتہ کیا۔ بات سچ تھی اور مجھے ایمان کی سعادت ملی۔

خاکسار کو خدا تعالیٰ کے فضل سے سرزمین برکینا فاسو میں پہلا مرکزی مبلغ ہونے کی سعادت حاصل ہے اور پھر خلیفہ وقت کی ہدایت کے مطابق ملک کے کونے کونے میں خود جانے کا اتفاق ہوا۔ جب بھی اور جہاں بھی امام مہدی علیہ السلام کی آمد کی خبر سنائی، بلا تاخیر اس قوم کے افراد نے قبولیت کی سعادت پائی بلکہ بعض بڑی عمر کے آئمہ نے تو روتے ہوئے جلد سے جلد اُن کے نام لکھ کر اُن کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا سلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں بھجوانے کی درخواست کی۔ جب انہیں بتایا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام تو وفات پا چکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ خلیفہ بھی تو انہی کے ہیں اس لئے ہمارا نام لکھو اور ہمارا سلام بھجوا دو۔

آج ان شہادتوں نے سر تا پا ان کے ایمان کی صداقت کی تصدیق کر دی ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ آج بھی اس مادی دنیا میں اس مادیت کے پیچھے دوڑیں لگانے والوں کے درمیان صرف پاکستان میں نہیں بلکہ افریقہ میں بھی روحِ بلالی زندہ ہے اور خوب روشن ہے۔ فالحمدللّٰہ

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا

(محمد ادریس شاہد۔ فرانس)

پچھلا پڑھیں

بیٹے کی دعا باپ کے واسطے قبول ہوا کرتی ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 فروری 2023