• 20 جولائی, 2024

کل کے لئے کیا جمع کیا

حضرت خلیفۃ المسیح الاو ل رضی اللہ عنہ ا س ضمن میں فرماتے ہیں کہ:
’’تقویٰ اللہ اختیار کرو اور ہر ایک جی کو چاہئے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کے لئے کیا کِیا۔ جو کام ہم کرتے ہیں ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں۔اس لئے جو کام اللہ کے لئے نہ ہوگا تو وہ سخت نقصان کا باعث ہوگا۔ لیکن جو اللہ کے لئے ہے تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتاہے اُس کو مفید اور مثمر بثمرات حسنہ بنادیتاہے۔‘‘

(حقائق ا لفرقان جلد 4 صفحہ 66)

پھر آپ (حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ ) فرماتے ہیں:
’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس کو چاہئے کہ دیکھتا رہے کہ کل کے لئے اس نے کیا کیا اور تقویٰ اپنا شعار بنائے اور اللہ جوکچھ تم کرتے ہو، اس سے خوب آگاہ ہے۔

غرض دنیا و عقبیٰ میں جس کامیابی کا ایک گُر بتایا کہ انسان کل کی فکر آج کرے اور اپنے ہر قول و فعل میں یہ یاد رکھے کہ خداتعالیٰ میرے کاموں سے خبردار ہے۔ یہی تقویٰ کی جڑ ھ ہے اور یہی ہر کامیابی کی روحِ رواں ہے۔ برخلاف اس کے انجیل کی یہ تعلیم ہے جو (متی) باب6 آیت 33 میں مذکور ہے بایں الفاظ کہ ’’کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرے گا۔ آج کا دُکھ آج کیلئے کافی ہے۔‘‘

اگر ان دونوں تعلیموں پر غور کریں تو صرف اسی ایک مسئلے سے اسلام و عیسائیت کی صداقت کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ایک نیک دل، پارسا، طالبِ نجات، طالبِ حق خوب سمجھ لیتا ہے کہ عملی زندگی کے اعتبار سے کون سا مذہب احق بالقبول ہے۔

اگر انجیل کی اس آیت پر ہم کیا، خود انجیل کے ماننے والے عیسائی بھی عمل کریں تو دنیا کی تمام ترقیاں رُک جائیں اور تمام کاروبار بند ہوجائیں۔ نہ تو بجٹ بنیں۔ نہ ان کے مطابق عمل درآمد ہو۔ نہ ریل گاڑیوں اور جہازوں کے پروگرام پہلے شائع ہوں۔ نہ کسی تجارتی کارخانے کو اشتہار دینے کا موقعہ ملے۔ نہ کسی گھر میں کھانے کی کوئی چیز پائی جائے اور نہ غالباً بازاروں سے مل سکے۔ کیونکہ کل کی تو فکر ہی نہیں، بلکہ فکر کرنا گناہ ہے۔ برخلاف اس کے قرآن مجید کی تعلیم کیا پاک اور عملی زندگی میں کام آنے والی ہے اور لطف یہ ہے کہ عیسائیوں کا اپناعمل درآمد بھی اسی آیت پر ہے ورنہ آج ہی سے سب کاروبارِ عالم بند ہوجائیں اور کوئی نظامِ سلطنت قائم نہ رہے۔ قرآن پاک کی تعلیم وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍپر عمل کرنے سے انسان نہ صرف دنیا میں کامرا ن ہوتا ہے بلکہ عقبیٰ میں بھی خدا کے فضل سے سُرخرو ہوگا۔ ہم کبھی آخر ت کے لئے سرمایۂ نجات جمع نہیں کر سکتے جب تک آج ہی سے اس دارالقرار کے لئے تیاری نہ شروع کر دیں۔‘‘

(تشحیذ الاذہان جلد 7 نمبر 5 صفحہ 227-228)

پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں:
’’چاہیے کہ ہر ایک نفس دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا تیاری کی ہے۔ انسان کے ساتھ ایک نفس لگاہوا ہے جو ہر وقت مبدّل ہے۔ کیونکہ جسم انسانی ہر وقت تحلیل ہورہا ہے۔ جب اس نفس کے واسطے جو ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے اور اس کے ذرّات جد اہوتے جاتے ہیں، اس قدر تیاریاں کی جاتی ہیں اور اس کی حفاظت کے واسطے سامان مہیاکئے جاتے ہیں۔ تو پھر کس قدر تیاری اس نفس کے واسطے ہونی چاہیے جس کے ذمہ موت کے بعد کی جواب دہی لازم ہے۔ اس آنی فنا والے جسم کے واسطے جتنا فکر کیا جاتا ہے۔ کاش کہ اتنا فکر اس نفس کے واسطے کیا جاوے جو کہ جواب دہی کرنے والا ہے۔

(بدر 13؍ دسمبر 1906ء صفحہ 9)

(خطبہ جمعہ 30؍ مئی 2003ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 28 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی