• 6 مئی, 2021

محترمہ بشرٰی حکمت صاحبہ

پیاری والده
(محترمہ بشرٰی حکمت صاحبہ)

ہماری والده محترمہ بشرٰی حکمت صاحبہ اہليہ محمد اقبال صاحب، الحاج مولوی عبداللہ صاحب مرحوم صدر جماعت ڈيریانوالہ کی بيٹی اور حکيم مولوی اللہ بخش صاحب آف ببے حالی صحابی حضرت مسيح موعود عليہ السلام کی نواسی تھيں۔ آپ نہايت متانت اور پروقار شخصيت کی مالک تھيں۔ نيکی زہدوتقوی ميں اپنی مثال آپ تھيں۔ نہايت کم عمری ميں ہی وصيت کی۔ اپنی زندگی کا بيشتر حصہ ربوه ميں گزارا۔انهوں نےايک لمبا عرصہ (تقريباً 11سال) فضل عمر ہسپتال ميں مکرمہ ڈاکٹر فہميده منير صاحبہ کے دور ميں بطور نرس خدمت خلق سرانجام دی۔اور عرصہ دراز بطور سيکريٹری اصلاح و ارشاد اور خدمت خلق دارالصدر شرقی نمبر 2ربوه ميں خدمات انجام ديں۔ ہماری والده خاندان حضرت مسيح موعود عليہ السلام سے بہت پيار اور عقيدت رکهتی تھيں۔ حضرت خليفۃ المسيح الثانی رضی للہ تعالیٰ عنہ سے بارہا ملاقات کا شرف حاصل کيا۔ آپ ان خوش قسمت خواتين ميں سے تھيں جنهوں نے براه راست حضرت خليفۃ المسيح الثانی رضی للہ تعالیٰ عنہ سے باترجمہ قرآن کريم سيکھا۔ اپنے نام بشرٰی حکمت ميں لفظ ’’حکمت‘‘ کے بارے ميں بتاتی ہيں کہ ايک مرتبہ حضرت خليفۃالمسیح الثانی ؓکی خدمت ميں اپنے ميٹرک ميں پاس ہونے کےليے دعا کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوئيں اوراپنا ايک خواب انهيں سنايا۔آپ نے خواب ميں ديکھا کہ سياه لباس ميں ملبوس گھوڑے پہ سوارايک شخص انهيں اور کچھ اور بچوں کو خوفزده کر رہا ہے۔يہ آگے بڑه کر اس کی گردن مروڑ ديتی ہيں۔ يہ خواب سن کر حضرت خليفۃالمسیح الثانیؓ نے فرمايا کہ پريشان نہيں ہو۔نہ صرف آپ بلکہ آپ کی پوری کلاس پاس ہو جاؤ گی۔ جب رزلٹ آيا تو واقعی ساری کلاس پاس ہو گئی۔ جب آپ نے حضرت خليفۃالمسیح الثانی ؓکو يہ بتايا تو اس پر آپ رضی للہ تعالیٰ عنہ نے ان کا نام حکمت رکھا۔ محترمہ حضرت نواب مبارکہ بيگم صاحبہ اور خاندان حضرت مسيح موعود عليہ السلام کی ديگرخواتين سے بہت پيار اور محبت کا تعلق تھا اور بہت عقيدت سے ان کا ذکر کيا کرتی تھيں۔ حضرت نواب مبارکہ بيگم صاحبہ نے نوافل کی ادائيگی کے بعد آپ کو جائے نماز بطور تبرک عنايت فرمایا۔

دعاؤں کی قبوليت پہ پختہ يقين تھا۔اپنوں اور غيروں سب کے ليے دعا کرتيں۔ ہميشہ ہميں دعاؤں کی تلقين کی۔ ہمارے ليے دعاؤں کا خزانہ تھيں۔ ہم نے انکی اکثر دعاؤں کو اپنے حق ميں قبول ہوتے ديکھا ہے۔ 1990ء ميں لاہور منتقل ہو گئيں۔اور اسی سال آپ نے حلقہ مکہ کالونی، مدينہ کالونی، گبہار کالونی، ريلوے کالونی (گلبرگ3 لاہور) کی صدر لجنہ کہ طور پر کام سنبھالا۔ يہاں لجنہ جماعت کو ازسرنو فعال کيا۔ 1991ء سے 2008ء تک مسلسل صدر لجنہ کے طور پر خدمات انجام ديں۔ آپ نے ناصرات اور لجنہ ميں ايک نئی روح پھونک دی۔ ناصرات اور لجنہ کی ہفتہ وار کلاسز لگاتيں اور جماعتی علوم سے سرفراز کرتيں۔ ہر سال رمضان المبارک ميں اپنے گھر ميں درس قرآن کا خاص اہتمام کرتيں۔ ہرسال جلسہ سالانہ يو کے کی تمام نشريات اپنے گھر پہ لجنہ کو دکھانے کا انتظام کرتيں۔خاص طور پر عالمی بيعت کے موقع پر سب لجنہ کو اکٹھا کرکے اجتماعی بيعت ميں شامل کراتيں اور بيعت کے بعد ميٹھائی بھی کھلاتيں۔آپ کو کئی بيعتيں کروانے کا بھی شرف حاصل ہوا۔

آپ کو قرآن کريم سے بے انتہا محبت تھی۔ قرآن کريم کا بيشتر حصہ ياد کررکھا تھا۔لاہور اور ربوه ميں بہت سے بچوں کو قرآن پاک پڑھایا۔ بيماری کی وجہ سے قرآن پاک کی کوئی سورت بھول جاتيں تو بہت شوق سے دوہراتيں اور اپنی نواسيوں کو یاد کر کے سنايا کرتيں۔رمضان المبارک ميں قرآن کريم کے دو سے تين ادوار مکمل کیا کرتيں۔

خلافت سے بہت اخلاص ووفا کا تعلق تھا۔ خليفۂ وقت کےليے بہت دعا کرتيں۔ چار خلفاء سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔خليفۂ وقت کا خطبہ باقاعدگی سے سنتيں اور بچوں کو سننے کی تلقين کرتيں۔اپنی نواسيوں سے خطبے کے پوائنٹس سنا کرتيں۔حضرت مسيح موعود عليہ السلام کا قصيده،درثمین اور کلام محمود کی بہت سی نظميں ياد تھیں۔ اپنی نواسی سے نظميں سنتيں اور بيعت بازی کی تياری کرواتيں۔ اللہ تعالیٰ پر بہت توکل تھا۔ اِنَّ للّٰہَ مَعَنَا کا ورد کرتيں اور بچوں کو بھی پڑھنے کی عادت ڈالی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تين بيٹيوں سے نوازا۔ آپ نے تينوں بيٹيوں کی بہترين تربيت کی۔ تينوں کواعلیٰ تعليم دلوائی۔ ہميشہ اپنی بيٹيوں پہ فخر کيا اور کبھی بيٹے کی کمی محسوس نہ کی۔

پچھلے پانچ سال سے بيٹی اور شوہر کے ساتھ امريکہ ميں مقيم تھیں۔ پانچ ماه سے سخت عليل تھيں۔ 20 نومبر بروز جمعہ رات 11 بجے نيند کی حالت ميں اپنے خالق حقيقی سے جا مليں۔ انا للہ وانااليہ راجعون

آپ کا جسدخاکی27 نومبر بروز جمعۃ المبارک ربوه لايا گيا۔ نمازِجمعہ کے بعد دارالضيافت ميں نماز جنازه کی ادائيگی ہوئی۔ الحمدللہ ان کی خواہش کے مطابق حضرت خليفۃ المسيح الخامس ايده اللہ تعالیٰ بنصره العزيز نے ازراه شفقت پرانے بہشتی مقبرے ميں تدفين کی اجازت عنايت فرمائی۔ قطعہ نمبر1 ميں تدفين ہوئی۔ سوگواران ميں شوہر کے علاوه تين بيٹياں، داماد، چھ نواسے اور تين نواسياں شامل ہيں۔ ہماری والده متحرمہ کے درجات کی بلندی کے ليے دعا کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ انهيں غريقِ رحمت فرمائے۔ آمين۔ ثم آمين

؎ بلانے والا ہے سب سے پیارا
اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

(دختران ط۔ ش۔ م)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 مئی 2021