• 20 جون, 2021

رؤیا میں خدا تعالیٰ کی رہنمائی کےنتیجہ میں بیعت کرنیوالے احباب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر شمس الدین صدیق صاحب ہیں کردستان کے۔ کہتے ہیں میں نے پچیس سال قبل خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو چاند کے اندر بیٹھے ہوئے آسمان سے اترتے دیکھا تھا۔ اب ایم۔ ٹی۔ اے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کے چاند سے اترنے کی تعبیر یہی ایم۔ ٹی۔ اے ہے۔ اور میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ پھر عراق کے عبدالرحیم صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کچھ عرصہ قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے کہتے ہیں کہ تم ہمارے آدمی ہو لہٰذا تمہیں بیعت کر لینی چاہئے۔ اس پر مجھے انہوں نے خط لکھا تھا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں اسے قبول کریں۔ مصر کے ایک محمد احمد صاحب ہیں، کہتے ہیں کہ بیعت سے پہلے میں اندھیروں میں بھٹک رہا تھا کیونکہ یہ نام نہاد علماء ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جنہیں عقل ماننے کے لئے تیار نہیں۔ باوجودیکہ یہ سب لوگ معترف ہیں کہ کوئی مصلح آنا چاہئے اور دعائیں بھی کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کی حالت ابتر ہی ہوتی جاتی ہے۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح مَیں بھی مختلف وساوس اور شکوک میں گرفتار تھا کہ میں نماز کیوں پڑھتا ہوں۔ کیوں مسلمان ہوں؟ اس کائنات کا خالق ہے کہ نہیں؟ مسلمانوں کا اتحاد کیسے ہو گا؟ ان سب سوالوں کا کوئی شافی جواب مجھے کہیں نہیں ملتا تھا۔ میں نے مختلف چینل گھمانے شروع کئے کہ شاید عیسائیت میں کوئی تسلی ملے یا شیعوں کے پاس کوئی حل ہو تو اچانک ایم۔ ٹی۔ اے العربیہ مل گیا جہاں کچھ اجنبی لوگ نظر آئے جو مسلمانوں سے مشابہ تھے لیکن ان کی باتیں اجنبی تھیں، لیکن تھیں قرآنِ کریم کے مطابق۔ کہتے ہیں ان کا چینل اسلامی تھا لیکن ان کا اسلام میرے لئے اجنبی تھا اور کہنے والے کہتے تھے کہ ہمارا امام مہدی ظاہر ہو چکا ہے اور وہی مسیح موعود ہے جو قاتلِ دجال ہے۔ وہی قرآن کے نور سے حَکم اور عَدل ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی وحی کے ذریعے مہدی کا لقب پانے والا ہے اور وحی منقطع نہیں ہوئی، وغیرہ وغیرہ۔ کہتے ہیں یہ ساری باتیں سن کر اور ان میں گہرے غور و فکر کے نتیجے میں چند دن تک میرا سر چکرانے لگا کہ مَیں کیا سُن رہا ہوں۔ پھر جب توازن بحال ہوا تو دل نے فتویٰ دیا کہ مزید پروگرام دیکھنے چاہئیں۔ لیکن ساتھ یہ خیال بھی آتا تھا کہ بہت سے علماء کہلانے والے ان لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس عرصے میں وہ تحقیق بھی کرتے رہے، علماء سے پوچھتے رہے۔ انہوں نے کہا یہ لوگ تو کافر ہیں۔ کہتے ہیں پھر مجھے خیال آیا کہ تکذیب تو سب نبیوں کی ہوئی ہے، اُنہیں جادوگر اور مجنون کہا گیا ہے، خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں کہ اُمت فرقوں میں بٹ جائے گی، اسلام اجنبی ہونے کی حالت میں شروع ہوا اور پھر دوبارہ اجنبی سا ہو جائے گا۔ اور ایسے اجنبیوں کو مبارک ہو۔ پھر ایسی پیشگوئیاں بھی موجود ہیں کہ علماء بہت ہوں گے لیکن فقہاء کم ہوں گے۔ پھر حضور علیہ السلام نے مشکلات کے باوجود امام مہدی کی اتّباع پر بہت زور دیا اور تاکید فرمائی ہے۔ کہتے ہیں آخر میں نے خدا تعالیٰ سے مدد طلب کی۔ دعا کی اور نمازیں پڑھیں، قرآنِ کریم کی تلاوت بکثرت شروع کر دی۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک جماعت بنائی ہے جس کے آپ امام ہیں اور اس جماعت کا دستور قرآنِ کریم ہے اور قول و فعل میں اس کا اسوہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ نے اسلام کی سچائی پر زور دیا ہے اور مختلف آراء و اقوال میں سے صحیح کو لیا ہے اور باقی کا غلط ہونا ثابت کیا ہے۔ پھر ان باتوں پر میں نے غور کیا توان سب کو پاکیزہ اور ثابت شدہ حقائق پایا جنہیں کوئی جھوٹا شخص بیان نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں ان باتوں کی طرف مائل ہو گیا کیونکہ یہی قرآنِ کریم میں بھی بیان ہوا ہے، یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور اسی پر صحابہ بھی ایمان لائے تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے۔ کہتے ہیں احادیث کو میں نے دیکھا تو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں نظر آئیں۔ لیکن ایک عام مسلمان جس نے سلف و خلف کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا اور صرف علماء سے سنا ہے۔ نہ پہلے لوگوں کا مطالعہ کیا ہے نہ بعد کا، تو یہ باتیں یقینا اُسے اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دلائل درست اور قوی ہیں۔ کہتے ہیں آخری فیصلے کے لئے میں نے استخارہ کیا تو 2007ء رمضان میں دو خوابیں دیکھیں جو مسلسل اللہ تعالیٰ نے دکھائیں۔ جس سے حضور علیہ السلام کی صداقت مجھ پر کھل گئی۔ پہلی خواب میں میں نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کریز نامی ایک سبز رنگ کا پھل کھلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں میں نے فوراً بیعت کر لی، اور کہتے ہیں اُس کے بعد پھر میرے حالات بہت بہتر ہو گئے۔

گیمبیا کے ایک صاحب تھے جو وہاں کے نمبر دار تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ دو آدمی آتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ زمانہ امام مہدی کے ظہور کا ہے اور وہ آ چکا ہے اور ہر دفعہ وہی دو شخص ملتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ میں ڈاکار میں تھا جو سینیگال کا دارالحکومت ہے یہ خواب دیکھا کہ میرا بھتیجا میرے پاس تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر آتا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ دو آدمی سمندر کے کنارے پر تیرا انتظار کر رہے ہیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو اُن میں سے ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس زمانے کا امام مہدی ہے اس کو مان لو۔ جب یہ مبلغ کے پاس آئے تو انہوں نے اُسے کہا کہ اگر میں تمہیں تصویر دکھاؤں کیا تم پہچان لوگے؟ پھر انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر اور خلفاء کی تصویریں بھی ساتھ دکھائیں۔ انہوں نے دیکھیں تو ایک تصویر پر فوراً انہوں نے کہا کہ انہی کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصویر پر ہاتھ رکھا کہ ایک یہی تھے اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصویر پر انگلی رکھی کہ دوسرے شخص یہ تھے جو امام مہدی کے ساتھ تھے۔

پھر کہتے ہیں ایک اور خواب میں سنانے والا ہوں۔ (یہ اس کے بعد کی بات ہے جب ہمارے مبلغین اُس گاؤں میں گئے ہیں، اِن کو تصویریں دکھائیں تو پھر ان کو ایک دوسری خواب سنا رہے ہیں )۔ کہتے ہیں کہ آج ہی میں نے خواب میں دیکھا کہ دو آدمی کار پر آئے ہیں اور مجھے ان آدمیوں کی تصویر دکھاتے ہیں جن کو میں ایک عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔ اور یہ خواب میں نے صبح اپنی بیوی کو سنایا تھا اور کہا کہ آج کچھ مہمان آنے والے ہیں اس لئے آج سارا دن میں کہیں نہیں گیا اور انتظار میں رہا کہ کب آتے ہیں۔ تو آپ ہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا تھا۔ آپ شام کو آئے اور مجھے تصاویر دکھائی ہیں۔ میری خواب پوری ہو گئی ہے۔ اس نے بڑی جرأت سے کہا کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تمام لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ امام مہدی آ چکا ہے اور احمدیت سچی ہے۔

قلاب ذبیح یوسف صاحب الجزائر کے ہیں۔ کہتے ہیں میں نے چھوٹی عمر میں ایک رؤیا دیکھا کہ ایک سفید رنگ کا آدمی مجھے کہتا ہے کہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو تا کہ میں تمہیں ساتھ لے جاؤں۔ لیکن میں کسی قدر متردّد اور خائف ہوا۔ یہ رؤیا مجھے تقریباً ایک سال تک دکھایا جاتا رہا اور بالآخر میں نے سفید رنگ کے آدمی کی بات مان لی۔ اُس وقت اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا جس کی وضع قطع سے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی بڑی شخصیت ہے اور وہی گورے رنگ والے شخص کو میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لانے کا حکم دے رہا تھا۔ تو کئی سال گزرنے کے بعد ایک دن اچانک نائل ساٹ پر ایم۔ ٹی۔ اے پر میں نے اس شخص کو دیکھا جو خواب میں مجھے اپنے ساتھ لے جانے کا کہہ رہا تھا اور پھر اسی چینل پر میں نے اس شخص کو بھی دیکھا جو اس گورے شخص کو ایسا کرنے کا حکم دے رہا تھا۔ میں سخت حیران تھا کہ یہ کون لوگ ہیں اور جب حقیقتِ حال کا علم ہوا تو میں نے یہی سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سب اس لئے دکھایا ہے تا میں مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے اس کی جماعت میں شامل ہو جاؤں۔ لہٰذا میں نے بیعت کر لی۔ خواب میں دکھایا جانے والا سفید رنگ کا آدمی مصطفی ثابت صاحب تھے اور جو ان کو حکم دینے والا شخص تھا کہ اس کو لے آؤ، وہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ تھے۔

(خطبہ جمعہ 3؍ جون 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2021