• 5 اگست, 2021

سورتوں کا تعارف

سورۃالطارق (86 ویں سورۃ)
(مکی سورۃ ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 18 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003ء)

وقت نزول اور سیاق و سباق

جمہور علماء کی رائے کے مطابق یہ سورۃ مکی ہے اور اوائل نبوت کے دور کی ہے۔ نوڈلکے اور میور جو مغربی محققین ہیں، نے بھی اسی مؤقف سے اتفاق کیا ہے۔ یہ سورۃ، سورۃ الانفطار سے شروع ہونے والی سورتوں کی سیریز کی آخری سورۃ ہے۔ ان سب سورتوں میں پہلی آیت کسی نہ کسی طرح آخری دنوں میں آنے والے مجدد کی تائید میں دلیل مہیا کرتی ہے۔ درمیان میں آنے والی سورۃ المطففین کی ابتداء مختلف طرز پر ہے دراصل یہ سورۃ اپنی ایک سابقہ سورۃ کا ہی ایک حصہ ہے۔

موجودہ سورۃ ان مضامین کو آگے بڑھاتی ہے اور تکمیل کرتی ہے جو سورۃ الانفطار اور اس کے بعد آنے والی سورتوں میں بیان ہوئے تھے اور ان سابقہ اور بعد میں آنے والی سورتوں کے درمیان ایک پُل کا کام کرتی ہے۔ بہر حال اس سورۃ سے ایک نئے مضمون کا آغاز ہوتا ہے۔

سورۃالاعلیٰ (87 ویں سورۃ)
(مکی سورۃ ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 20 آیات ہیں)
وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ آپ ﷺ کے دعویٰ نبوت کے اوائل میں نازل ہوئی تھی۔ قرآن کریم کے کئی مفسروں کے ساتھ ساتھ میور اور نوڈلکے کی بھی یہی رائے ہے۔ نوڈلکے کے نزدیک یہ سورۃ، سورۃ نمبر 78 (النباء) کے بعد نازل ہوئی تھی جبکہ بعض مسلمان علماء کی یہ رائے ہے کہ زمانی اعتبار سے یہ مکہ میں نازل ہونے والی آٹھویں سورۃ ہے۔

سابقہ سورۃ کا اختتام اس بیان پر ہوا تھاکہ قرآن کریم ایک مکمل اور کامل الٰہی قوانین پر مبنی کتاب ہے جو جملہ انسانیت کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور یہ کہ کسی دور میں بھی اس میں تبدیلی یا تنسیخ یا تحریف نہیں ہوسکتی۔ قرآن کریم کے اس دعویٰ سے ایک فطری اور نا گریز سوال جنم لیتا ہے کہ سابقہ سورتوں میں جس مجدد کے آنے کی بار بار خبر دی جا رہی ہے تو ایسی کامل اور مکمل شریعت کے ہوتے ہوئے اس کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟موجودہ سورۃ اس اہم سوال کا جواب دیتی ہے۔

پھر سورۃ الطارق میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ انسانی ترقی، مختلف اتار چڑھاؤ والے ادوار سے گزر کر ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے بیان سے ایک اور اہم سوال جنم لیتا ہےکہ کیا ایسی کامل قوانین پر مبنی شریعت جو ہر پہلو سے مکمل ہو، کے نزول کے بعد انسان کی ترقی میں یکسانیت اور ٹھہراؤ آجانا چاہیئے اور ہر طرح کے تنزل کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو جانی چاہیئے۔یہی وجہ ہےکہ ایک کامل شریعت اس کائنات کی ابتداء میں نازل نہ کی گئی اور آخر کیونکر اس کو آپ ﷺ کے زمانے تک مؤخر کردیا گیا۔

موجودہ سورۃ ان دونوں سوالات کے جوابات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس سورۃ کا اپنی سابقہ سورۃ سے ایک فوری تعلق بھی ہے۔ سابقہ سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ انسان ایک نطفہ سے پیدا ہوا ہے جو اس کے باپ کے صلب سے پیدا ہوتا ہے اور اپنا رزق اپنی ماں کی چھاتیوں سے حاصل کرتا ہے۔ اس میں انسان کی تدریجی ترقی کی طرف ایک اشارہ کرنا مقصود تھا۔ ہمیں بتایا گیا ہےکہ جسمانی تدریجی ترقی کی طرح انسان کی روحانی ترقی بھی تدریجاً ہوتی ہے۔ آپ ﷺ موجودہ اور اگلی سورۃ (الغاشیہ) کو نماز جمعہ اور نماز عید کے موقع پر تلاوت فرماتے تھے۔

سورۃ الغاشیہ (88 ویں سورۃ)
(مکی سورۃ ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 27 آیات ہیں)
وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ بھی اپنی سابقہ سورۃکی طرح مکہ میں نازل ہوئی۔ ابتدائی مستند علماء جن میں حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابن زبیر ؓشامل ہیں، کا بھی یہی مؤقف ہے۔ مشہور جرمن مستشرق نوڈلکے نے اس سورۃ کا وقت نزول چار نبوی میں بتایا ہے۔ موجودہ سورۃ اور چند سابقہ سورتیں مسلمانوں کے حالات زندگی جو آپ ﷺ کے دور میں تھے، کو بیان کرتی ہیں اور آئندہ کے حالات کو بھی، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ اس سورۃ کو نماز جمعہ اور نماز عید میں تلاوت فرماتے۔ سابقہ چند سورتوں میں یہ بیان کیا گیاہے کہ اسلام محض دنیاوی ذرائع کے حصول سے کامیاب نہیں ہوگا۔ جب مسلمانوں پر تنزل کا زمانہ ہوگا اور قرآن جیساکہ اس کے لئے مقدر تھا زمین سے اٹھ کر آسمان پر چلا جائے گا تو ایک الٰہی مجدد ظاہر ہوگا جو اس کو واپس زمین پر لائے گا اور اس کو پوری آب و تاب سے زمین پر نافذ کرے گا۔ یہ بھی بتایا گیاتھاکہ اسلام کو ہمیشہ ایسے مخلصین ملتے رہیں گے جو اس کے حقیقی پیغام کی تبلیغ کرتے رہیں گے اور بعض ایسے ناقابل بیان حالات (جیسے کتابوں کی بکثرت اشاعت، سفر کی سہولت،جدید ٹیکنالوجی وغیرہ۔مترجم)بھی پیدا ہوں گے جو اسلام کی ترقی اور کامیابی میں ممد اور معاون ثابت ہوں گے۔

موجودہ سورۃ میں یہ بتایا گیاہے کہ مسلمانوں کو شدید مخالفت اور سفاکانہ ظلم و تعدی کا بھی سامنا ہوگا اور اس کڑے امتحان میں ثابت قدم رہنے کے بعد انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔ اگرچہ اس سورۃ کا تعلق ان نشیب و فراز کے بیان سے ہے جن سے مسلمانوں کو اپنی زندگی میں گزرنا پڑتا ہے۔ جیساکہ اس سورۃ کے نام سے ظاہر ہے اس سے مراد قیامت کا دن بھی ہے۔ حساب کتاب کا دن خواہ اس دنیا میں ہو یا اگلےجہان میں ہو، جب ترازو رکھ دئے جائیں گے تو کچھ چہرے مر جھا جائیں گے جن پر افسردگی اور سیاہی چھا رہی ہوگی اور بعض دوسرےچہرے ایسے ہوں گے کہ خوشی سے مہک اٹھیں گےبوجہ اس مشقت کے جو انہوں نے بخوشی اٹھانا قبول کی۔

سورۃ الفجر (89 ویں سورۃ)
(مکی سورۃ ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 31 آیات ہیں)
وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔ تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سورۃ نبوت کے چھٹے سال میں نازل ہوئی، نوڈلکے نے اس سورۃ کا وقت نزول سورۃ الغاشیہ کےمعاً بعد رکھاہےجو چوتھے سال میں نازل ہوئی تھی۔ اس سورۃ میں دوہری پیشگوئی مذکور ہے ایک تو آپ ﷺ کی ذات کے بارے میں اور دوسری مسیح موعود کے بارے میں ہے۔ ایک نہایت خوبصورت تمثیل کے طور پر یہ سورۃ آپ ﷺ کے آخری دس سالہ مکی دور کی مشکلات کی طرف اشارہ کرتی ہے اور آپ کی ہجرت مدینہ کی طرف بھی، جس میں آپ ﷺ کے سب سے قریبی اور مخلص صحابی حضرت ابو بکر ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ شامل تھے نیز مدینہ میں آپ ﷺ کے پہلے سال پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو مشکلات اور شدائد سے پُر تھا۔ اس سورۃ کے مضمون کو ابتدائی تین صدیوں میں مسلمانوں کی ترقی کے بعد انکے دس صدیوں میں اسلام کے تنزل کے مضمون پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے جس کے بعد مسیح موعود نے ظاہر ہونا تھا اور اس کے ظہور کےبعد پہلی صدی میں جو مشکلات اور مصائب اس کو درپیش ہونے تھے اور اس کے مشن اور پیروکاروں کو ملنے والی تکالیف کی طرف بھی اشارہ ہے۔

اس نشیب و فراز کے مختصر تمثیلی ذکر کے بعد جو اسلام کی راہ میں آپ ﷺ اور مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں آنے تھے، اس سورۃ میں فرعون کا ذکر کیا گیاہے تاکہ حق کی مخالفت کی طرف اشارہ کیا جاسکے جن کا ہر دور میں حق کو سامنا ہوتا ہے۔ پھر یہ ذکر ہے کہ حق کی مخالفت کا آغاز طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں رہنے والوں کی طرف سے ہوتا ہے اور اپنی دولت اور طاقت کے غلط اور ناجائز استعمال کے سبب، ان کا تنزل ہوتا ہے۔ اس سورۃ کا اختتام اس بیان پر ہوا ہے کہ صرف چند خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جو الٰہی پیغام کو قبول کرتے ہیں اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے خدا کی خوشنودی حاصل کرلیتے ہیں اور نتیجۃً ناکامی اور نامرادی کے خوف سے آزاد ہو جاتے ہیں اور خدا کے مخلص لوگوں میں شامل ہونے کےبعد ہمیشگی والی جنت کے وارث بن جاتے ہیں۔

(مترجم: ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جولائی 2021