• 9 اگست, 2022

یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ سوائے اس طریق کے جو اچھا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس کے بعد میں اب اگلے حکم پر آتا ہوں جو اُس سے اگلی آیت میں بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ (الانعام: 153) اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ سوائے اس طریق کے جو اچھا ہے۔ اب یہاں خدا تعالیٰ معاشرے کے کمزور ترین طبقہ کے حق کی حفاظت کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔ اگر صرف یہی ہو کہ تم نے یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں جانا تو یتیم کے سرمائے یا جائیداد کے ضائع ہو جانے کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یتیم کے مال تک تمہاری پہنچ احسن طریق پر ہو۔ اس طرز پر یتیم کے مال کو دیکھو کہ حتی الوسع کسی نقصان کا احتمال نہ ہو۔ یتیم کی جائیداد کو اُجاڑنے اور ختم کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ یتیم کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اُس کی جائیداد اور مال کا استعمال کرو۔

پس یہ لازمی حکم ہے کہ یتیم کے مال کی حفاظت کا انتظام تم نے کرنا ہے۔ ایک امین کی حیثیت سے قریبی عزیزوں نے، یا جس کے سپرد بھی یتیم کی ذمہ داری کی جائے، اُس نے یتیم کے مال کی حفاظت کرنی ہے، اُس کا خیال رکھنا ہے۔ جماعت نے اُس کے مال کی حفاظت کرنی ہے اور خیال رکھنا ہے۔ معاشرے نے اور ملک کے قانون نے اُس کے مال کی حفاظت کرنی ہے اور خیال رکھنا ہے۔ کس طرح حفاظت کرنی ہے؟ اُس کے لئے بہت ساری صورتیں ہیں۔ یتیموں کے مالوں کو اس طرح استعمال کرو یا کاروباروں میں لگاؤ کہ وہ مال بڑھیں تا کہ یتیموں کو، اُس گروہ کو جو ابھی اتنی عقل نہیں رکھتا، اُن بچوں کو جن کے ماں باپ کا سایہ اُن کے سر پر نہیں ہے فائدہ ہو۔ جن کی جائیدادیں ضائع ہونے کا خطرہ ہے، اُن کو احسن طریق پر اس طرح استعمال کرو، اس طرح انویسٹ (Invest) کرو، اس طرح کاروباروں میں لگاؤ کہ وہ مال بڑھے۔ پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو یتیم کے مال کی حفاظت کا حکم دے کر عزیزوں اور معاشرے پر ڈالی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتے اور بہانے بہانے سے یتیم کے مال کو کھانے کی کوشش کرتے ہو، تو اس کی بڑی سخت سزا ہے۔ فرمایا اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡیَتٰمٰی ظُلۡمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ نَارًا (النساء: 11) اور جو لوگ ظلم سے یتیموں کے مال کھاتے ہیں، وہ یقینا اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔ اور پھر فرمایا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا (النساء: 11) اور وہ یقینا شعلہ زن آگ میں داخل ہوں گے۔

قرآنِ کریم کے احکامات ایسے نہیں کہ صرف ایک فریق کا حق دلائیں تو دوسرے کا حق غصب کر لیں۔ اگر یہ حکم ہے کہ یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھا کے اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہو تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے امانت اور دیانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر یتیم کے مال میں سے کچھ خرچ کر رہے ہو تو پھر یہ ظلم نہیں ہے۔ فرمایا کہ یتیم کی پرورش پر جو خرچ ہوتا ہے، اُس کی تعلیم پر، اُس کی تربیت پر جو خرچ ہوتا ہے، یہ خرچ کرنے کی تو اجازت ہے لیکن دیکھو ظلم نہ کرنا۔ امانت میں خیانت کرنے والے نہ بننا۔ فرمایا لَا تَاْکُلُوْھَآاِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا (النساء: 7) اُن کے جوان ہونے کے خوف سے اُن کے مال ناجائز طور پر اور جلدی جلدی نہ کھا جاؤ۔ فرمایا وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ (النساء: 7) اور جو کوئی صاحبِ حیثیت اور مالدار ہو، وہ اس مال سے بکلّی اجتناب کرے۔ لیکن اگر کوئی مجبور ہے، تعلیم اور جو دوسرے اخراجات اُس پر ہو رہے ہیں، وہ برداشت نہیں کر سکتا تو اُس کے بارے میں فرمایا کہ فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء: 7) پس وہ مناسب طور پر اس مال میں سے لے سکتا ہے۔ اور مناسب کیا ہے؟ اُس یتیم پر جو اصل خرچ ہو رہاہے وہ یا اگر کسی کی بالکل ہی فقیری کی حالت ہے اور گزارہ بھی نہیں ہوتا اور پرورش کی وجہ سے اُس کی ذمہ داری چوبیس گھنٹے اُس کی نگہداشت پر ہے تو معمولی حق الخدمت لیا جا سکتا ہے۔ پس اس مال کے خرچ کی اس حد تک اجازت ہے۔ لیکن جو اُس مال کی حفاظت اور اُسے بڑھانے کا حکم ہے اُسے ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے اور سچے امین اور سچے نگران کا حق ادا کرنا چاہئے۔ فرمایا حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ (الانعام: 153)یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت اور مضبوطی کی عمر کو پہنچ جائیں اور اپنے مال اور جائیداد کا انتظام و انصرام سنبھال سکنے والے ہوں۔ پس یہ حق ہے جو یتیم کا قائم ہے۔ ایک کمزور طبقے کا قائم ہے کہ اُس کے عاقل بالغ ہونے تک اُس کی جائیداد کی، اُس کے مال کی حفاظت کی جائے اور پھر جب وہ اُسے سنبھالنے کے قابل ہو جائے تو اُسے اُس کا مال لَوٹا دیا جائے۔ یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ بعض دفعہ کوئی یتیم بالغ ہونے کے بعد عقل کے لحاظ سے اس سطح پر نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مال کی حفاظت کر سکے۔ تو پھر اُس وقت تک، جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے، یا اگر بالکل ہی غبی ہے تو پھر مستقل طور پر اُس کے مال کی حفاظت فرض بنتا ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو باوجود غبی ہونے کے شادی کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر اُن کی شادی ہو جاتی ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے تو پھر اولاد کے جوان ہونے تک عزیزوں کا یا معاشرے کا اور جماعت کا یہ کام ہے کہ اس ذمہ داری کو نبھائیں اور ان کے مال کی حفاظت کریں۔

(خطبہ جمعہ 2؍اگست 2013ء بحوالہ الاسلام)

پچھلا پڑھیں

نماز جنازہ حاضر و غائب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جولائی 2022