• 15 اگست, 2022

فقہی کارنر

بیویوں کے در میان اعتدال ضروری ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔
کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو، تین تین، چار چار کر کے ہی آ رہے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔ اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جاوے یا آ مدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز کرنا نہیں چاہئے۔ ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ (البقرہ: 191) غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر انسان بیویوں ہی کا بندہ ہو جائے، تو بھی غلطی کرتا ہے۔ ہر ایک شخص اللہ تعا لیٰ کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس کا یہ منشاء نہیں کہ با لکل زن مرید ہو کر نفس پر ست ہی ہو جاؤ اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبا نیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کاروائیوں میں نہ ڈالو۔

(الحکم 6 مارچ 1898 صفحہ2)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

نماز جنازہ حاضر و غائب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جولائی 2022