• 14 اگست, 2022

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام (قسط 28)

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام
یا بدرنا یا آیۃ الرحمٰن
قسط 28

سب بہادروں سے بہادر
یا بدرنا یا آیۃ الرحمٰن
اھدی الھداۃ و اشجع الشجعان

(عربی سے ترجمہ) اے ہمارے کامل چاند اور اے رحمان کے نشان سب رہنماؤں کے رہنما اور سب بہادروں سے بہادر

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ591)

انبیاء کی بعثت کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب بحرو بر میں فساد برپا ہوچکا ہوتا ہے۔ نبی کو گمراہوں کو راہ راست پر لانے کے لئے غیرمعمولی جرأت مندانہ انقلابی اقدام کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں غیر معمولی ہمت، حوصلہ، جرأت، شجاعت، دلیری اور مردانگی عطا فرماتا ہے۔ اور اپنی تائیدونصرت کا یقین دلاتا ہے۔

وَلَا تَہِنُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾

(اٰل عمران: 140)

اور کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو جبکہ (یقیناً) تم ہی غالب آنے والے ہو، اگر تم مومن ہو۔

وَلَنۡ یَّجۡعَلَ اللّٰہُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا

(النساء: 142)

اور اللہ کافروں کو مومنوں پر کوئی اختیار نہیں دے گا۔

حضرت نبی کریمﷺ کی مبارک حیات میں آپؐ کی دلیری و شجاعت کے ان گنت واقعات۔ میں سے چند ایک مثال کے طور پر پیش ہیں

میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا

آپؐ کے والد صاحب، والدہ صاحبہ اور دادا جان کی وفات کے بعد چچا جان سہارا بنے تھے اور اب یہ محسن چچا ابو طالب اپنے ہاتھوں کے پالے آنحضرتﷺ سے مکہ کے سب سرداروں کے اصرار اور دباؤ پر ایک فرمائش کر رہے تھے۔

’’اے میرے بھتیجے! اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے۔ اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی، تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کہ شر البریّہ کہا اور ان کے قابلِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزمِ جہنم اور وقود النار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رِجس اور ذریتِ شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیرخواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا‘‘

’’آنحضرتﷺ نے جواب میں کہا کہ اے چچا ! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے۔ اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوںمیری زندگی اسی راہ میں وقف ہے میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رک نہیں سکتا اور اے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کاخیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہوجا۔ بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر باربار زندہ ہوکر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہاء لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں‘‘

’’آنحضرتﷺ یہ تقریر کررہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقّت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرتﷺیہ تقریر ختم کرچکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہوگئے اورکہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے جا اپنے کام میں لگا رہ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیراساتھ دوں گا‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ110-111)

چلو مَیں تمہارے ساتھ چلتا ہوں

ایک دفعہ اراشہ نامی شخص مکّہ میں کچھ اونٹ بیچنے آیا اور ابو جہل نے اس سے یہ اونٹ خرید لئے۔ مگر اونٹوں پر قبضہ کرلینے کے بعد قیمت ادا کرنے سے انکاری ہو گیا یا ٹال مٹول سے کام لینے لگا۔ اس پر وہ شخص جو مکّہ میں اکیلا تھا، مسافر تھا، کوئی اس کا دوست ساتھی نہیں تھا بے یارو مددگار تھا، بہت پریشان ہوا اور چند دن تک اسی طرح ابو جہل کے پیچھے پھرتا رہا، اس کی منّت سماجت کرتا رہا۔ مگر ہر دفعہ اس کو اسی طرح ٹال مٹول سے جواب ملتا رہا، آخر ایک دن وہ کعبہ میں جہاں قریش سردار بیٹھے ہوئے تھے گیا، اور کہنے لگا کہ اے معززین قریش! آپ میں سے ایک شخص ابو الحکم ہے۔ اس نے میرے اونٹوں کی قیمت دبا رکھی ہے مہربانی کرکے مجھے اس سے دلوا دیں۔ قریش کو شرارت سوجھی، انہوں نے مذاقاًکہا کہ ایک شخص ہے محمد بن عبداللہ نامی وہ تمہیں یہ قیمت دلوا سکتا ہے، تم اس کے پاس جاؤ۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ آنحضرتﷺ کے پاس جب یہ جائے گا تو آپؐ ہر حال میں انکار کریں گے۔ اور جب آپؐ انکار کریں گے تو ان لوگوں کو ایک تو مذاق اڑانے کا موقع ملے گا، دوسرے باہر سے آنے والے لوگوں کو آپؐ کی حیثیت کا پتہ لگ جائے گا۔ بہرحال جب یہ اراشہ وہاں پہنچا، آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اپنا مدعا بیان کیا کہ اس طرح مَیں نے ابو جہل سے رقم لینی ہے۔ قریش نے اس آدمی کے پیچھے بھی اپنا ایک آدمی بھیج دیا کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ بہرحال اس نے جب آنحضرتﷺ کو اپنی کہانی سنائی اور یہ ذکر کیا کہ ابو الحکم نے میری رقم دبا رکھی ہے اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپؐ ہی ہیں جو میری رقم دلوا سکتے ہیں۔ آپؐ کی بڑی منت کی کہ مجھے یہ رقم دلوا دیں۔ آپؐ فوراً اٹھے اور کہا چلو مَیں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازے پر دستک دی، اس کو باہر بلوایا۔ وہ با ہر آیا تو آپؐ کی شکل دیکھتے ہی ایک دم حیران پریشان ہو گیا۔ آپؐ نے کہا تم نے اس آدمی کی یہ رقم دینی تھی وہ تم ادا کردو۔ اس نے کہا ٹھہریں مَیں ابھی رقم لے کے آتا ہوں۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت ابو جہل کا رنگ بالکل فق ہو رہا تھا۔ کہا محمد! ٹھہرو مَیں ابھی اس کی رقم لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ رقم لے کر آیا اور اسی وقت اس شخص کے حوالے کر دی۔ اور وہ بھی آنحضرتﷺ کا شکریہ ادا کرکے چلا گیا۔ پھر وہ قریش کی مجلس میں دوبارہ گیا اور ان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ تم نے مجھے صحیح آدمی کا پتہ بتایا تھا جس کی وجہ سے مجھے رقم مل گئی ہے۔ اس پر وہ جو سار ے رؤسا بیٹھے تھے بڑے پریشان ہوئے۔ پھر جب وہ آدمی جس کو پیچھے بھیجا تھا آیا تو اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ اس نے یہ سارا قصہ سنایا تو یہ سب لوگ بڑے حیران تھے۔ تھوڑی دیر بعد ابو جہل خود بھی وہاں اس مجلس میں آ گیا تو اس کو دیکھتے ہی لوگوں نے پوچھا یہ تم نے کیا کیاکہ فوری طور پر اندر گئے اور ساری رقم واپس کر دی۔ اس قدر تم محمدسے ڈر گئے تھے۔ اس نے کہا خدا کی قسم! جب مَیں نے محمد کو اپنے دروازے پر دیکھا تو مجھے یوں نظر آیا کہ اس کے ساتھ لگا ہوا ایک مست اور غضب ناک اونٹ کھڑا ہے اور مَیں سمجھتا تھا کہ مَیں نے اگر ذرا بھی چون وچرا کیا تو وہ اونٹ مجھے چبا جائے گا۔

(بحوالہ سیرت خاتم النبیین صفحہ162-163 السیرۃ النبویۃ لأبن ھشام صفحہ281زیر أمر الأراشی الذی باع اباجھل ابلہ)

آنحضرتؐ کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے

حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
’’مَیں رسول کریمﷺ کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دکھائی دئیے۔ اس پر مَیں نے رسول کریمﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اگر کوئی نظر نیچے کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا اے ابو بکر! ہم دو ہیں اور ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔ تو جہاں یہ واقعہ خداتعالیٰ کی ذات پر یقین کا اظہار کرتا ہے۔ وہاں آپؐ کی جرأت و شجاعت کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔ آپؐ خاموشی سے اشارہ بھی کر سکتے تھے کہ خاموش رہو۔ باہر لوگ کھڑے ہیں بولو نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ کی ذات پر یقین کی و جہ سے آپؐ میں جوجرأت تھی اس کی و جہ سے دشمن کے سر پر کھڑا ہونے کے باوجود اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابو بکر فکر نہ کرو، خداہمارے ساتھ ہے‘‘

(بخاری کتاب مناقب الانصار باب ہجرۃ النبیؐ واصحابہ الی المدینۃ)

اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’آپؐ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیق صادق صدیق رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہیں لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبہ: 40) یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہرکرتے ہیں کہ آپؐ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں، اشارہ سے کام نہیں چلتا، باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں، اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے، یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔ خداتعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔ آنحضرتﷺ کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ250-251 ایڈیشن 1988ء)

آپؐ کو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی

پھر دشمن کے چلے جانے کے بعد اور یہ اطمینان ہو جانے کے بعد کہ اب غار سے نکل کر اگلا سفر شروع کیا جا سکتاہے۔ آپؐ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار سے نکلے اور جو بھی انتظام کیا تھا اس کے مطابق وہاں سواریاں پہنچ گئی تھیں۔ ان پر سوار ہوئے اور سفر شروع ہو گیا۔ لیکن کفار مکّہ نے آپؐ کے پکڑے جانے کے لئے 100اونٹ کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ اور اس کے لالچ میں کئی لوگ آپﷺ کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ ان میں ایک سراقہ رضی اللہ عنہ بن مالک بھی تھے تو ان کا بیان ہے کہ:
’’مَیں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریمﷺ کے اس قدر نزدیک ہو گیا کہ میں آپؐ کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ آپؐ دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے تھے ہاں حضرت ابو بکرؓ بار بار دیکھتے جاتے تھے۔ تو اس حالت میں بھی آپؐ کو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی بلکہ آرام سے کلام الٰہی کی تلاوت فرما رہے تھے‘‘

(بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃالنبیؐ واصحابہ الی المدینۃ)

دشمن کے حملوں کے وقت آپؐ جرأت و بہادری کے حیران کن اعلیٰ جوہر دکھا رہے ہوتے تھے۔ صحابہ ر ضی اللہ عنہم بھی بہت بہادر تھے مگر آپؐ ان سب سے آگے صفِ اول میں تھے۔ چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:
’’خدا کی قسم جب شدید لڑائی شروع ہو جاتی تو ہم رسول کریمؐ کو ڈھال بنا کر لڑتے تھے۔ اور ہم میں سے بہادر وہی سمجھا جاتا تھا جو رسول کریمؐ کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔‘‘

(مسلم کتاب الجہاد باب غزوۃ حنین)

آپؐ خطرے کے وقت
دوسروں کے لئے ڈھال بن جاتے

پھر جنگ بدر کے موقع پر آپؐ کی جرأت و بہادری کا ایک واقعہ ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ:
’’رسول کریمﷺ کے صحابہؓ مدینے سے روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے میدان میں پہنچ گئے۔ پھر مشرکین بھی پہنچ گئے۔ تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آگے نہ بڑھے جب تک مَیں اس سے آگے نہ ہوں‘‘

(مسند احمد بن حنبل جلد3 صفحہ136-137 مطبوعہ بیروت)

غزوہ احد میں بعض اوقات آنحضرتﷺ قریباً اکیلے ہی رہ جاتے تھے۔ کسی ایسے ہی موقعہ پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مشرک بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ایک پتھر آپؐ کے چہرہ مبارک پر لگا جس سے آپؐ کا ایک دانت ٹوٹ گیا اور ہونٹ بھی زخمی ہوا۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اور پتھر جو عبداللہ بن شہاب نے پھینکا تھا اس نے آپؐ کی پیشانی کو زخمی کیا۔ اور تھوڑی دیر کے بعد تیسرا پتھر جو ابن قمئہ نے پھینکا تھا آپؐ کے رخسار مبارک پر لگا جس سے آپؐ کے خود کی دوکڑیاں آپؐ کے رخسار میں چبھ گئیں۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام غزوۃ احد مالقیہ الرسول یوم احد)

جنگ اُحد میں رسول اللہﷺ زخمی ہونے کے بعد جب صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ابی بن خلف نے رسول اللہﷺکو دیکھ کر للکارتے ہوئے پکارا کہ اے محمدﷺاگر آج تم بچ گئے تو میری زندگی عبث ہے، فضول ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اس کی طرف بڑھے رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اسے چھوڑ دو اور راستے سے ہٹ جاؤ۔ اسے میری طرف آنے دو جب وہ رسول اللہﷺ کے قریب آیا تو حضورﷺنے نیزہ تھام لیا اور آگے بڑھ کر اس کی گردن پر ایک ہی وارکیا جس سے وہ چنگھاڑتا ہوا مڑا اور اپنے گھوڑے سے زمین پر گر گیا، قلا بازیاں کھانے لگا۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، غزوۃ احد، مقتل ابی بن خلف)

غزوہ اُحد کے اگلے دن جب رسول کریمﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مدینہ پہنچے تو آپؐ کو یہ اطلاع ملی کہ کفار مکّہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ بعض قریش ایک دوسرے کو یہ طعنے دے رہے تھے کہ نہ تو تم نے محمدکو قتل کیا۔ (نعوذ باللّٰہ)۔ اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قبضہ کیا۔ اس پر رسول کریمﷺ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔ حضورﷺ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کا تعاقب کریں گے اور اس تعاقب کے لئے میرے ساتھ صرف وہ صحابہ رضی اللہ عنہم شامل ہوں گے جو گزشتہ روز غزوۂ اُحد میں شامل ہوئے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ذکر عدد مغازی رسول اللہ غزوۃ رسول اللہﷺ حمراء الأسد)

ایک دفعہ ایک شخص حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے جنگ حنین کے موقع پر دشمن کے مقابلے پر پیٹھ پھیرلی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مَیں سب کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں آنحضرتؐ کے بارے میں ضرور گواہی دوں گا کہ آپؐ نے دشمن کے شدید حملے کے وقت بھی پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہوازن قبیلے کے خلاف جب مسلمانوں کا لشکر نکلا تو انہوں نے بہت ہلکے پھلکے ہتھیار پہنے ہوئے تھے یعنی ان کے پاس زرہیں وغیرہ اور بڑا اسلحہ نہیں تھا اور ان میں بہت سے ایسے تھے جو بالکل نہتّے تھے۔ لیکن اس کے مقابل پر ہوازن کے لوگ بڑے کہنہ مشق تیر انداز تھے۔ جب مسلمانوں کا لشکر ان کی طرف بڑھا تو انہوں نے اس لشکر پر تیروں کی ایسی بوچھاڑ کر دی جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر حملہ کرتی ہے۔ اس حملے کی تاب نہ لا کر مسلمان بکھر گئے۔ لیکن اُن کا ایک گرو ہ آنحضرتﷺ کی طرف بڑھا۔ حضورﷺایک خچر پر سوار تھے جسے آپؐ کے چچا ابو سفیان بن حارث لگام سے پکڑے ہوئے ہانک رہے تھے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح بکھرتے ہوئے دیکھا تو آپؐ کچھ وقفے کے لئے اپنے خچر سے نیچے اترے اور اپنے مولا کے حضور دعا کی۔ پھر آپؐ خچر پر سوار ہو کر مسلمانوں کو مددد کے لئے بلاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے اور آپؐ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ
اَنَا ابْن عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

میں خداکا نبی ہوں اور یہ سچی بات ہے لیکن میں وہی عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ یعنی میری غیر معمولی جرأت دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ میں کوئی فوق البشر چیز ہوں۔ ایک انسان ہوں اور اسی طرح جرأت دکھا رہا ہوں۔ اور آپؐ یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ نَزِّلْ نَصْرَکَ اے خدا! اپنی مدد نازل کر۔ پھر حضرت براء نے کہا کہ حضورﷺکی شجاعت کا حال سنو کہ جب جنگ جوبن پر ہوتی تھی تو ہم لوگ اس وقت حضورﷺ کو ہی اپنی ڈھال اور اپنی آڑ بنایا کرتے تھے اور ہم میں سے سب سے زیاہ وہی بہادر سمجھا جاتا تھا جو حضورﷺ کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔

(صحیح مسلم کتاب الجہاد باب غزوۃحنین)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ:
’’نبی کریمﷺ سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب انسانوں سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔ کسی طرف سے کوئی آواز آئی اور لوگ آواز کی طرف دوڑے۔ تو سامنے سے نبی کریمﷺ آتے ہوئے ملے۔ آپؐ بات کی چھان بین کرکے واپس آرہے تھے۔ اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔ آپؐ نے اپنی گردن میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔ آپؐ نے ان لوگوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ڈرو نہیں، ڈرو نہیں مَیں دیکھ کر آیا ہوں کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔ پھر آپؐ نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اس کو تیز رفتاری میں سمندر جیسا پایا۔

(صحیح بخاری- کتاب الجہاد- باب الحمائل وتعلیق السیف بالعنق)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آپؐ کی جرأت و شجاعت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
’’ایک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ تیرو تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔ سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔ حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض رسول اللہﷺ کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خداتعالیٰ نے دکھا دیا ہے۔ اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے۔ اس کا پھل، اس کا پھول اور اس کی چھال، اس کے پتے غرضیکہ ہر چیز مفید ہو۔ آنحضرتﷺ اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام او رپناہ لیتی ہے۔ لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرتﷺ کے پاس ہوتا تھا۔ کیونکہ آپؐ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔ سبحان اللہ !کیا شان ہے۔ اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے۔ اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا قصور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کوبخش دیا بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تا رسول اللہﷺ کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپؐ نبوت کا دعویٰ کرتے تھےکہ محمد رسول اللہ میں ہوں کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پر ستر زخم لگے مگر زخم خفیف تھے۔ یہ خُلقِ عظیم تھا۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ84 جدید ایڈیشن- رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 152-153)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپؐ کے اسوہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جہاد بالقلم

حضرت نبی اکرمﷺ کے روشن سنہرے دور پر صدیاں گزرتی گئیں۔ اسلام کی حالت نبی سے دوری پر کمزور ہوتی گئی اور طاغوتی طاقتیں بتدریج ان پر تسلط حاصل کرتی رہیں۔ چودہ سو سال ہوگئے بحرو بر میں فساد پھیل گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے پیش خبریوں کے مطابق اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لئے اپنی تائیدو نصرت کے ساتھ ایک فنا فی اللہ جَرِی اللہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو نبیوں کے لبادہ میں شیطان سے جنگِ روحانی کے لئے بھیجا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کی۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس نے آپ اپنے مکالمہ میں اس عاجز کی نسبت فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا اور میں کبھی امید نہیں کرسکتا کہ وہ حملے بغیر ہونے کے رہیں گے گو ان کا ظہور میرے اختیار میں نہیں۔ میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں سچا ہوں۔ پیارو! یقیناً سمجھو کہ جب تک آسمان کا خدا کسی کے ساتھ نہ ہو ایسی شجاعت کبھی نہیں دکھاتا کہ ایک دنیا کے مقابل پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور ان باتوں کا دعویٰ کرے جو اس کے اختیار سے باہر ہیں جو شخص قوت اور استقامت کے ساتھ ایک دنیا کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے کیا وہ آپ سے کھڑا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اس ذات قدیر کی پناہ سے اور ایک غیبی ہاتھ کے سہارے سے کھڑا ہوتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام زمین وآسمان اور ہر ایک روح اور جسم ہے سو آنکھیں کھولو اور سمجھ لو کہ اس خدا نے مجھ عاجز کو یہ قوت اور استقامت دی ہے جس کے مکالمہ سے مجھے عزت حاصل ہے۔‘‘

(آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد4 صفحہ333)

’’مجھے اُس خدائے کریم و عزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کا نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اُس کے حکم سے کھڑا ہواہوں اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کر لے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے‘‘

(اربعین حصہ دوم، روحانی خزائن جلد17 صفحہ348)

آپ علیہ السلام نے فرمایا۔
’’میرے پر ایسی رات کوئی کم گزرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلّی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد17صفحہ49)

ہندوستان میں حضرت اقدس علیہ السلام ایک مذہبی سکالر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے اور عام مسلمان سمجھتے تھے کہ یہی شخص اس تاریک دور میں اسلام کے دفاع کے لئے علم اور صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر جوں ہی آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماموریت کا اعلان فرمایا اور سب ادیان پر اسلام کی حقانیت ثابت کی تو ہندو، سکھ، عیسائی اور متعصب مسلمان سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ فرد واحد غیر معمولی جواں مردی کے ساتھ خم ٹھونک کے میدان میں آگیا۔ اللہ پاک نے اسےاس دور کے لئے یضع الحرب کا ارشاد فرمایا تھا اور تیرو تلوار کی جگہ دعا، قلم اور قرآنی علوم سے لیس کیا تھا یہی وہ ذوالفقار تھی جو حق و باطل کی جنگ میں ہتھیار بنی۔ زندہ خدا، زندہ قرآن اور زندہ رسولﷺ کا تعارف کرایا۔ اسلام کی حمایت اور دفاع میں براہین احمدیہ تصنیف کی۔ جو جنگ روحانی کے لئے اسلحہ خانہ تھا۔

کوتاہ اندیش مولوی جن کو اپنی جہالت کی دکانیں بند ہونے کا خوف پیدا ہوگیا تھا آپ کے معاون و مددگار بننے کی بجائے آپ کی مخالفت میں اُٹھ کھڑے ہو گئے۔ یہی وہ دشمن دین تھے جنہیں ہر میدان بدر و احد میں آپؐ کی غیرت دینی اور جوش و تپش نے دعا اور دلائل علمی کی تیز تلوار سے دندان شکن شکست دی۔

جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے
میں غریب اور ہے مقابل پر حریفِ نامدار
اے خدا ! شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ
وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار

آپؐ وہ شجاع تھے کہ للکار للکار کر مقابلے کی دعوت دیتے۔ اور تحّدی سے اپنی فتح کا قبل از وقت اعلان فرماتے۔ ان مہمات دینیہ میں سرفروشی اور فتح کا یقین آپؐ کے ہی پُر شوکت الفاظ میں درج ہے:
’’اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی۔ اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اُٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہو گا۔دیکھو! میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانو! تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسّر اور محدّث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اوربلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں۔ اُٹھو! اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔ پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شانیں یعنی شانِ عیسوی اور شانِ محمدی مجھ میں جمع ہیں۔ اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہوں گی اور ذوالبروزین ہو گا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا۔ مجھے خدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی نشان دکھلاؤں یا شانِ محمدی کی طرز سے حقائق و معارف اور نکات اور اسرارِ شریعت بیان کروں اور میدانِ بلاغت میں قوتِ ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اُسی کے ارادے سے زمین پر بجز میرے ان دونوں نشانوں کا جامع اور کوئی نہیں ہے۔ اور پہلے سے لکھا گیا تھا کہ ان دونوں نشانوں کا جامع ایک ہی شخص ہو گا جو آخر زمانہ میں پیدا ہو گا اور اُس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہوگا اور آدھا حصہ محمد ی شان کا سو وہی مَیں ہوں جس نے دیکھنا ہو دیکھے جس نے پرکھنا ہو پرکھے مبارک وہ جو اب بخل نہ کرے۔ اور نہایت بدبخت وہ جو روشنی پا کر تاریکی کو اختیار کرے۔‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد14 صفحہ407-408)

نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’چونکہ میں حق پر ہوں اور دیکھتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر میری ساری قوم کیا پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا روم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام اور اُن کے علماء اور اُن کے فقراء اور اُن کے مشائخ اور اُن کے صلحاء اور اُن کے مرد اور اُن کی عورتیں مجھے کاذب خیال کر کے پھر میرے مقابل پر دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا اُن میں۔ اور آسمانی دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر۔ اور وہ محبوب حقیقی اپنی خاص عنایات اور اپنے علوم لدنیہ اور معارف روحانیہ کے القاء کی وجہ سے میرے ساتھ ہے یا اُن کے ساتھ۔ تو بہت جلد اُن پر ظاہرہوجائے گا کہ وہ خاص فضل اور خاص رحمت جس سے دل مورد فیوض کیاجاتا ہے اسی عاجز پر اس کی قوم سے زیادہ ہے۔ کوئی شخص اس بیان کو تکبّر کے رنگ میں نہ سمجھے بلکہ یہ تحدیث نعمت کی قسم میں سے ہے وَذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ۔‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ478تا47)

ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دین احمدؐ پر تبر
کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور ان کے وہ وار
کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج
اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار
قرآنی علوم اور فصاحت و بلاغت پر نا قابل شکست عبور

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں
’’مجھے ایک دفعہ یہ الہام ہوا کہ الرَّحمٰن علّم القراٰن۔ یَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔ یعنی خدا نے تجھے اے احمد! قرآن سکھلایا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ اور اس الہام کی تفہیم مجھے اِس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبان قرآن کی نسبت دو طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔ (1) ایک یہ کہ معارف عالیہ فرقان حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جن میں دُوسرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ (2) دوسرے یہ کہ زبانِ قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی کہ اگر تمام علماء مخالفین باہم اتفاق کرکے بھی اِس میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو ناکام اور نامراد رہیں گے اور وہ دیکھ لیں گے کہ جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسان عربی مع التزام حقائق و معارف و نکات میری کلام میں ہے وہ ان کو اور ان کے دوستوں اور ان کے استادوں اور ان کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔ اس الہام کے بعد میں نے قرآن شریف کے بعض مقامات اور بعض سورتوں کی تفسیریں لکھیں اور نیز عربی زبان میں کئی کتابیں نہایت بلیغ و فصیح تالیف کیں اور مخالفوں کو ان کے مقابلہ کے لئے بلایا بلکہ بڑے بڑے انعام ان کے لئے مقرر کئے اگروہ مقابلہ کرسکیں اور ان میں سےجو نامی آدمی تھے جیسا کہ میاں نذیر حسین دہلوی اور ابوسعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السُّنہ ان لوگوں کو بار بار اس امر کی طرف دعوت کی گئی کہ اگر کچھ بھی ان کو علم قرآن میں دخل ہے یا زبان عربی میں مہارت ہے یا مجھے میرے دعویٰ مسیحیت میں کاذب سمجھتے ہیں تو ان حقائق و معارف پُر از بلاغت کی نظیر پیش کریں جو میں نے کتابوں میں اِس دعویٰ کے ساتھ لکھے ہیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بالاتر اور خدا تعالیٰ کے نشان ہیں مگر وہ لوگ مقابلہ سے عاجز آگئے۔ نہ تو وہ ان حقائق معارف کی نظیر پیش کرسکے جن کو میں نے بعض قرآنی آیات اور سورتوں کی تفسیر لکھتے وقت اپنی کتابوں میں تحریر کیا تھا اور نہ اُن بلیغ اور فصیح کتابوں کی طرح دو سطر بھی لکھ سکے جو میں نے عربی میں تالیف کرکے شائع کی تھیں۔ چنانچہ جس شخص نے میری کتاب نورالحق اور کرامات الصادقین اور سرّالخلافۃ اور اتمام الحجّۃ وغیرہ رسائل عربیہ پڑھے ہوں گے اور نیز میرے رسالہ انجام آتھم اور نجم الہدیٰ کی عربی عبارت کو دیکھا ہوگا وہ اِس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ ان کتابوں میں کس زور شور سے بلاغت فصاحت کے لوازم کو نظم اور نثر میں بجا لایا گیا ہے اور پھر کس زور شور سے تمام مخالف مولویوں سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ علم قرآن اور بلاغت سے کچھ حصہ رکھتے ہیں تو ان کتابوں کی نظیر پیش کریں ورنہ میرے اس کاروبار کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میری حقّیت کا نشان اس کو قرار دیں لیکن افسوس کہ ان مولویوں نے نہ تو انکار کو چھوڑا اور نہ میری کتابوں کی نظیر بنانے پر قادر ہوسکے۔ بہرحال ان پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہوگئی اور وہ اُس الزام کے نیچے آگئے جس کے نیچے تمام وہ منکرین ہیں جنہوں نے خدا کے مامورین سے سرکشی کی۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ230-231)

ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے

آپ علیہ السلام کے بیان میں شان اور شوکت پائی جاتی ہے۔فرماتے ہیں:
’’میں عربوں کے دعویٰ ادب و فصاحت و بلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں۔ یہ لوگ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے آپ کو اہل زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں۔ ان کے قلم توڑ دیئے جائیں گے اور اگر ان میں کچھ طاقت ہے اور قوت ہےتو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔ پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ ناواقف کہا کرتے ہیں کہ عربوں کو ہزار ہا روپے کے نوٹ دے کر کتابیں لکھائی جاتی ہیں۔ اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے جو ایسی فصیح و بلیغ کتاب اور ایسے حقائق و معارف سے پر لکھ سکتا ہے۔ جو کتابیں یہ ادب و انشا کا دعویٰ کرنے والے لکھتے ہیں ان کی مثال پتھروں کی سی ہے کہ سخت، نرم، سیاہ، سفید پتھر جمع کر کے رکھے جائیں مگر یہ تو ایک لذیذ اور شیریں چیز ہے جس میں حقائق اور معارف قرآنی کے اجزا ترکیب دیے گئے ہیں۔ غرض جو بات روح القدس کی تائید سے لکھی جاوے اور جو الفاظ اس کے القا سے آتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک حلاوت رکھتے ہیں اور اس حلاوت میں ملی ہوئی شوکت اور قوت ہوتی ہے جو دوسروں کو اس پر قادر نہیں ہونے دیتی۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ375 ایڈیشن1984ء)

’’میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلبِ ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں پھر اگر سنّت انبیاء علیہم السلام کے مطابق مَیں نے پورا ثبوت نہ دیا تو مَیں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں‘‘

(تحفۃ الندوہ، روحانی خزائن جلد19 صفحہ101)

حیات مسیح کے عقیدے کو جڑ سے اکھاڑ دیا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری ٹھہر نہیں سکتا اور میرا رُعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ اُن کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آسکیں۔ چونکہ خدا نے مجھے رُوح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے اس لئے کوئی پادری میرے مقابل پر آہی نہیں سکتا یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ آنحضرتﷺ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور اب بُلائے جاتے ہیں پر نہیں آتے اس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اورکچھ نہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد17 صفحہ149-150)

اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا
اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن

دائمی فتح کا اعلان

حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے کس تحّدی اور جلال کے ساتھ فرمایا ہے:
’’اے تمام لوگو ! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔ اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فو ق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے گی ….میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ66-67)

یہ فتوحاتِ نمایاں یہ تواتر سے نشاں
کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکاروں کا کار

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

نماز جنازہ حاضر و غائب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جولائی 2022