• 15 اگست, 2022

اسلام کا پانچواں رُکن حج

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’پہلا گھر جو بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے بنایا گیا وہ ہے جو بکّہ میں ہے۔ وہ تمام جہانوں کے لئے مبارک اور موجبِ ہدایت ہے۔ اس میں کھلے کھلے نشانات ہیں یعنی ابراہیم کا مقام۔ اور جو بھی اسمیں داخل ہوا امن پانے والا ہے۔ اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ وہ اس کے گھر کاطواف کریں۔

(اٰل عمران: 97-98)

حج کی تعریف اور فلسفہ

مذہبِ اسلام میں حج ایک ایسی عبادت ہے جو تمام دوسری عبادات کا مجموعہ ہے۔ کلمہ کہنا اور خدا کا ذکر کرنا لفظی عبادت ہے، نماز اور روزہ جسمانی، زکوٰۃ مالی عبادت ہے مگر اسلام کا یہ پانچواں رکن ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے۔ حج کے لغوی معنی ارادہ کرنا، زیارت کرنا، اور غالب آنا ہیں۔ اسلامی شریعت کی اصطلاح میں سال میں ایک مرتبہ ایک خاص مقررہ وقت میں مخصوص افعال سے، ایک خاص مکان (جسے بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر کہتے ہیں) کی زیارت کرنے کو حج کہتے ہیں۔ ابراہیمی حج جس کی تاریخ تقریباً تین ہزار سال پرانی ہے۔ اصل میں حضرت ابراہیمؑ اور اُن کے خاندان کی اپنے خالق و مالک سے بے پناہ محبت، فرمانبرداری اور فرمانبرداری کے نتیجے میں دی گئی قربانیوں کی بے مثال داستان ہے۔ خدائے بزرگ وبر تر نے اس خاندان کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے حجِ بیت اللہ کو اسلامی شریعت کے ارکان میں شامل کر کے ہمیشہ ہمیش کے لئے امر کر ڈالا ہے۔ وہ خاندان کس کا تھا؟ اسمیں کون کون شامل تھا؟ اور وہ قربانیاں کیسی تھیں؟ یہ ایک لمبی دلگداز داستان ہے۔ اس کا مختصر بیان یوں بنتا ہے کہ یہ داستان عاشق اور معشوق کی سچّی کہانی ہے جس میں معشوق ایک واحد ذات ہے مگر اسکے عاشق تین ہیں جنہوں نے اپنے معشوق کے عشق میں خارق عادت اعمال کئےہیں۔ اللہ تعالیٰ جو اپنی بے پناہ صفات میں ایک صفت قدر دانی کی بھی رکھتا ہے نے اسی بیابان میں جہاں اس کا ایک عاشق اور فرمانبردار بندہ ابراہیم علیہ السلام اپنی پہلوٹھی اولاد اسماعیلؑ اور اپنی جوان بیوی ہاجرہ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چھوڑ گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے اسی بیابان میں ان کے رزق کے ایسے سامان کر دیئے جو رہتی دنیا تک نشان بن گئے۔

امتحانات اور آزمائشوں کے ساتھ ساتھ چلنے والی نوازشات کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ بیابان میں کم سن بچے کی ماں حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی قربانی قبول کی۔ حضرت ہاجرہؑ چلچلاتی دھوپ میں دو پہاڑیوں پر بےچینی کے عالم میں چڑھتی اور اترتی رہیں۔اس بے چینی اور اضطراب کے دوران ہی اللہ تعالیٰ نے پیاس سے بے حال تڑپتے ننھے بچے کے پیروں تلے چشمہ پھوڑ دیا۔اور بے چین ماں کے دونوں پہاڑیوں کےدرمیان بھاگنے کے عمل کو ہمیشہ کے لئے اسلامی فریضے کا حصہ بنا دیا۔

ننھا اسماعیلؑ کچھ اور بڑا ہوا تو ابراہیمؑ کو حکم ہواکہ اپنے اسی بیٹے کو اپنے خدا کی راہ میں قربان کردو، اللہ کا حکم پاکر باپ قربان کرنے کو اور بیٹا قربان ہونے کو تیار ہو گیا۔ شیطان نے باپ کو اپنے خالق ومالک کی بات ماننے پر ورغلایا مگر ابراہیمؑ نے شیطان کی ایک نہ مانی اور زمین سے کنکر اُٹھا کر اس کے منہ پر دے مارے۔ حضرت ابراہیمؑ اس امتحان میں بھی پورے اترے۔

باپ بیٹے کی یہ ادا آسمانوں کے خالق کو اتنی پسند آئی کہ باپ بیٹے کی قربانی کو ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیا اور رہتی دنیا تک کو قربانی کو حج کے فریضہ میں شامل کر لیا۔ اور کنکر مارنے کا عمل ایسا خدا کو بھایا کہ اسنے سچے اور قائم رہنے والے دین کے ایک رکن میں اسے لازم کر دیا۔ قدر دان خدا نے اپنا پہلا گھر بنام، خانہ کعبہ جو نہ جانے کب سے زمین میں چھپا پڑا تھا، اسے ڈھونڈ کردیواریں کھڑی کرنے کا اعزازی ذمّہ بھی اسی خاندان کو سونپا۔ اور اضافی فضیلت کے لئے اپنی جناب سے ایک بابرکت سیاہ پتھر نصب کروایا،۔ کام سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابراہیمؑ نےجہاں کھڑے ہو کر اپنے رب سے اس گھر کے لئے عزت و شرف مانگا اسے بھی مقدس بنا دیا۔ جس پتھر پر کھڑے ہو کر دیواریں اونچی کی گئیں، اسی پتھر کو ساری مسلم دنیا کے لئے دعا اور مناجات کی جگہ بنا یا گیا۔ لہٰذا اس مقدس چہار دیواری کی دیواریں اٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا جو قرآن پاک کی سورہ الحج میں درج ہے۔

’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دُور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی اُن اُونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے) دُبلی ہوگئی ہوں۔‘‘ (سورۃ الحج) قرآنِ پاک میں اس پتھر کی جگہ پر نماز پڑھنے اور اسے نماز کی جگہ بنانے کی تلقین بھی کر دی۔ مختصر یہ کہ ابراہیمؑ، ہاجرہؓ، اور اسماعیلؑ تینوں نے اپنے خالقِ حقیقی سے ایسا عشق کیا کہ ان کی یہ عشقیہ داستان کو زندہ جاوید کرنے کے لئے خدائے بزرگ وبر تر نے انہیں کے کئے ہوئے اعمال کو دینِ ابراہیم کی عبادت کا حصہ بنا دیا۔ اور ابراہیمؑ کے خاندان کی عبادت کی ادائیں آنے والے پیروکاروں کے خون میں ایسے سرائت کر چکی ہیں کہ جب بھی کوئی مسلمان روح اس عبادت کا قصد کرتی ہے تو، آٹھ ذوالحج سے لے کر بارہ ذوالحج تک اسکی ذہنی اور جسمانی حالت ایک مجنون عاشق جیسی ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو رہتی دنیا تک رکھنے کے لئے، ابراہیمی دعا کو ایسے سنا کہ اس بے آب وگیاہ وادی کو مکّہ مکرمہ بنا کر اسماعیلؑ کی نسل سے ایسا پرشوکت نبی ﷺ اتارا جس نے ابراہیم کے دین حنیف کو تکمیل دی اور بنی نوع انسان کو قیامت تک نور ہدایت سے فیض یاب کر دیا۔ احرام میں لپٹے مردو زن بکھرے بالوں کے ساتھ ’’میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں‘‘ کہتے ہوئے کبھی کسی دیوار کو چومتے ہیں تو کبھی کسی کونے سے جا لپٹتے ہیں، کبھی شمالی کونے میں لگے کالے پتھر کو چومنے کی کوشش میں اپنے ہی جیسوں کو دھکے دے دے کر پیچھے ہٹاتے ہوئے رستہ بناتے ہیں تو کبھی اس گھر پر پڑے غلاف کو چومنا شروع کر دیتے ہیں، ایسا دیوانہ پن ہے کہ طواف کرنے والا بالکل جنونی لگتا ہے۔ حج کی عبادت بجا لانے والا وجود جونہی احرام باندھ لیتا ہے اسکی اندرونی، اور روحانی حالت بالکل بدل جاتی ہے، اسکے پاوٴں تیز تر ہوجاتے ہیں اور زبان محض لبّیک لبّیک پکار رہی ہوتی ہے، طواف کے وقت، حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے حطیم میں سجدے کرتے ہوئے، خانہ کعبہ کی مبارک دیواروں اور پردوں سے لپٹتے ہوئے اسے اپنے آس پاس اور کچھ نظر نہیں آتا، اُس کی حالت کسی دیوانے سے کم نہیں ہوتی، صرف اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ شعائراللہ کو چھونا، انہیں محسوس کرنا، انہیں آنکھوں میں بھرنا اور اپنے رب سے تڑپ تڑپ کر دعائیں اور استغفار کرنا ہی جیسے اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ بس اسی چیز کا نام حج ہے۔

اور اگر اس کو اجتماعی طور پر دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے توحید پرستوں پر اسے عبادت کے طور پر رائج کر کے اُمّت کے لئے بہت سے فائدے اور برکات کے رستے کھولے ہیں۔

ایک خوبصورت حدیثِ مبارکہ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے ایک خطاب میں فرمایا ’’اے لوگوں تم پر اللہ نے حج فرض کیا ہے۔ اس لئے تم حج کیا کرو۔ اس پر ایک آدمی نے عرض کی یا رسول اللہ !کیا ہر سال حج کرنا ضروری ہے؟ آپؐ خاموش رہے۔ سوال تین مرتبہ دہرایا گیا تو آپؐ نے فرمایا ’’اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر کسی پر ہر سال فرض ہو جاتا۔ اور تم، ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتے۔ پھر فرمایا بلا وجہ باتیں پوچھنے کی حرص نہ کرو۔کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے کثرت سے سوالا ت کرتے مگر پھر ان کی خلاف ورزی کر کے ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتے۔ جب میں خود تمہیں کچھ کرنے کا کہوں وہ کرو! اور جس چیز سے منع کروں اسے چھوڑ دو۔

حج کی صورت میں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع مقرر ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبادت کے علاوہ، ایک مقصد رکھتا تھا تاکہ دور دراز کے مسلمان، عوام و خواص مختلف رنگوں، نسلوں، زبانوں کے بولنے والے، مختلف الانواع تہذیب و ثقافت، تمدن کے حامل مگر ایک دین کے پیروکار اس عالمی اجتماع میں ایک دوسرے سے ملیں۔ باہمی تعارف ہو، ایک دوسرے کے مسائل و مشکلات سے آگاہ ہوں اور یہی ان کا بین الاقوامی مرکز قرار پائے۔ چونکہ اس عبادت کا حکم اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو ایسے دیا تھا کہ اعلان کر دو کہ دور ونزدیک سے دینِ حنیف پر قائم فرزندانِ توحید بشرطِ توفیق ہر سال یہاں آیا کریں اور اس مقدس گھر کا طواف کیا کریں۔ لہٰذا تقریباً تین ہزار برس سے حج اور طواف کا یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔ حضرت ابراہیمؑ کے بعد کچھ عرصہ تک حج کے مناسک جوں کے توں چلتے رہے، مگر پھر آہستہ آہستہ بت پرستی اور شرک اور بدعات نے عرب کے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانی شروع کر دی۔ یہاں تک کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تو حج کے مناسک میں شرک اور دیگر بہت سے لا یعنی حرکات واعمال ڈال دئے گئے جو کہ کسی طور پر بھی دینِ حنیف سے وابستہ نہیں تھے۔ مگر پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ رحم کرتے ہوئے نویں ہجری میں اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل کر کے حضرت ابراہیمؑ کی ہی نسل اور دعاوٴں سے آنے والے نبیؐ نے دینِ حنیف کی تکمیل کرتے ہوئے وہ جائز اور درست مناسک جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اتارے تھے رائج کئے جو آج تک رائج ہیں اور قیامت تک ر ہیں گے۔ ان شاء اللہ۔

عبادتِ حج اصل میں اللہ تعالیٰ کے اس احسانِ عظیم پر تشکر کا بے اختیار اظہار ہے، جو خدائے عزّو جل کی طرف سے حضرت ابراہیمؑ اور ان کے خاندان کی قربانیوں اور حضرت ابراہیمؑ کی دعاوٴں کی قبولیت کی صورت میں تمام بنی نوع انسان کے لئے اُتاری گئی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام حج کے متعلق فرماتے ہیں۔
’’محبّت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا ہے۔ اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو! یہ میرا گھر ہےاور یہ حجرِاسود میرے آستانہ کا پتھر ہے۔ اور ایسا حکم اس لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محّبت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا حج کرنے والے حج کے مقام پر جسمانی طور پر اس گھر کے گرد گھومتے ہیں۔ ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔

اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کر کے بوسہ دیتے ہیں۔ مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجرِ اسود سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ خدا کا قرار دادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھتا ہے۔ جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں لیکن وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔ مگر وہ سجدہ اس پتھر کے لئے نہیں‘‘

حج کی فرضیت کس پر فرض ہے؟

حج اس عاقل بالغ صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات کے اخراجات، نیز اہل وعیال کے مناسب اخراجات پورے ہونے کے علاوہ اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کے ضروری اخراجات پورے کر سکتا ہو۔

حضرت مسیحِ موعودؐ نے حج کی تاکید کے سلسلے میں فرمایا۔
اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق سے پورے کرو، ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔ (کشتی نوح صفحہ15) ایک موقعہ پر حضرت مسیحِ موعودؑ نے فرمایا! ’’حج اُس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو، پھر راستہ میں امن ہو، پیچھے جو متعلقین ہیں اُن کے گزارے کا بھی معقول انتظام ہو‘‘۔

(الحکم ۱ 3جولائی، صفحہ6)

قارئین کے لئے ایک ضروری بات کہ حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، اسکے بعد ادا کرنے والا حج نفلی عبادت ہوگی۔

حج مسلمان امّت کا اجتماع گاہ

ہر جماعت اور قوم کا ایک اجتماع گاہ ہوتا ہے اور ایک مرکز ایسا ضرور ہوتا ہے جہاں ایک مسلک کو ماننے والےاکھٹے ہوتے اور اپنے مسلک اور نظریات کو تقویت دیتے ہیں، معاشرتی اور معاشی تعلقات آگے بڑھاتے ہیں۔ اور باہمی یگانگت سے مخالفتوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جہاں اجتماعی ثقافت اُبھرے، تجارت اور مفید جدو جہد کے مواقع پیدا ہوں۔ امّت کے لوگ آپس میں یگانگت پیدا کریں۔ دینِ اسلام جو آخری مذہب اور دینِ متین ہےاور تمام دنیا کے لئے اُترا ہے، جس میں تمام پہلی شریعتیں ضم ہو گئی ہیں اس کی مضبوطی استقامت، اور بقاکامرکز مکّہ کی یہ وادی اور اس وادی میں ہونے والے ہزار ہا نشانات مقرر فرمائے ہیں۔جہاں ہر سال خدائے بزرگ وبر تر کی عظمت اور دینِ اسلام کے استحکام کے لئے اور غیر دنیا پر اسلام کے اتّحاد کا رعب بٹھانے کے لئے ایک خاص بابرکت مہینے میں لاکھوں پرستانِ توحید کا اجتماع ہوتا ہے۔ جہاں اجتماعی ثقافت اُبھرے، اجتماعی اور مفید تجارت کے مواقع پیدا ہوں۔ امّت کے لوگ آپس میں یگانگت پیدا کریں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سورہ الحج، آیت 53 میں فرماتا ہے کہ ’’ہر قوم کے لئے ہم نے ایک مرکز بنایاہے جہاں لوگ اللہ کو یاد کرنے کے لئے اکھٹے ہوتے ہیں‘‘۔ لہٰذا اسلام میں حج کی عبادت بطور نمونہ مقرر کی گئی ہے۔ تاکہ مسلمان سال میں ایک مرتبہ اکھٹے ہو کر غیر کو اجتماعیت کا نمونہ دکھائیں۔ عزّت والا رب جو حکیم بھی ہے اور علیم بھی اُس نے کرہّ ارض کے وسط میں ایک بیابان علاقے میں اپنا گھر بنوایا، اور اپنے پیارے بندوں کے ذریعے اسے بتدریج آباد کروایا، یہ محض اتفاق تو نہیں! اس کے پیچھے کائنات بنانے والے رب کی حکیمانہ تدبیر چھپی ہوئی ہے۔

مکّہ کی بستی کا چپّہ چپّہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جیسے خدا کا پیارا بندہ (ابراہیمؑ) امتحانات میں پورا اُترا ہے، اسکے لئے یہی انعام ہونا چاہئے تھا۔ کہ دنیا کے کونے کونے سے توحید پرست یہاں آ ئیں او ریہ خطّہ آنے والے زمانے میں تمام دنیا کے لئے ہدایت کا مرکز بنے۔

اسلامی حج کب فرض ہوا؟
پہلے حج کی ادائیگی کی مختصر تاریخ

بیت اللہ، بیت العتیق، بیت المعمور یا خانہ کعبہ جو خدائے عزّو جل کا پہلا گھر ہے جس کا مبارک وجود قبل از تاریخ ثابت ہے، مگر حضرت ابراہیمؑ کے وقت میں جس کی بنیادیں چونکہ زمین کے نیچے چھپ چکی تھیں اور خدا کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ نے ہی ڈھونڈ کر دوبارہ چہار دیواری کھڑی کی تھی۔

اور اس تعمیر کے بعد چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو تمام لوگوں کو بلانے اور یہاں آکر رکوع، طواف اور اعتکاف کرنے کی دعوت دینے کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسلئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اصل میں حج اس دن سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ اور عملاً برس ہا برس حج کی ادائیگی ہوتی رہی۔

وقت کے ساتھ ساتھ عرب میں مختلف قسم کے مذاہب بشمول دہریت اور شرک کے جمع ہوچکے تھے جس کی وجہ سے دینِ ابراہیمؑ کا حج یا عبادات کی اصل روح بالکل مفقود ہو گئی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہجرتِ مدینہ کے چھٹے برس آنحضورﷺ کو ایک روٴیا میں دکھایا کہ آپ ﷺ حج فرما رہے ہیں، اور پھر ہجرت کے نویں برس میں باقاعدہ حج کو اسلام کے ارکان میں شامل کر دیا گیا۔

مکّہ فتح ہو چکا تھا اور اب یہ مسلمانوں پر فرض ہونے والا پہلا حج تھا جس کے لئے حضرت ابوبکرؓ کو آنحضور ﷺ نے امیر بنا کر بھیجا تھا۔

حضرت ابوبکرؓ نے حضور ﷺ سے خبر پاکر مسلمانوں کو باقاعدہ مناسک حج کی تعلیم دی اور مسائلِ حج بیان فرمائے۔ گویا اس حج میں سنّتِ ابراہیمی کے مطابق یعنی اسلامی رنگ میں حج کا قیام ہوا اور حج ادا کیا گیا۔

ابھی حضرت ابوبکرؓ کا قافلہ مکّہ میں داخل نہیں ہو اتھا کہ آنحضورﷺ پر سورہ توبہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں مشرکین کے ساتھ نیا معاہدہ لکھنے کا حکم ہوا۔

حضرت علیؓ بحکم رسول اللہ ﷺ یہ پیغام لے کر حضرت ابوبکرؓ کے قافلے کے پیچھے گئے اور تمام حاضرین کو پڑھ کر سنایا، جس کی رُو سے مشرکین کے ساتھ نیا معاہدہ ہونا تھا۔

اور اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ تھی۔

اور نہ ہی کسی کو عریاں ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرنے کی اجازت تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے ایسا ہوتا تھا۔

مناسکِ حج

مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو سعود ی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی زیارت کے لیے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادت انجام دیتے ہیں،

اس مجموعہ عبادات کو اسلامی اصطلاح میں حج اور ان انجام دی جانے والی عبادات کو مناسک حج کہتے ہیں۔

مناسک حج کی ابتدا ہر سال 8 ذوالحجہ سے ہوتی ہے۔

  1. حج کا ارا دہ رکھنے والے اپنے متعین میقات سے احرام باندھ کر کعبہ کی زیارت کو جاتے ہیں جہاں ابتدائی عمرہ ادا کرتے ہیں
  2. اس کے بعد عازمینِ حج منیٰ روانہ ہوجاتے ہیں جہاں ایک رات عبادت میں گزارتے ہیں
  3. نویں ذوالحج کی صبح کو قافلوں یا انفرادی جیسے بھی کسی کا انتظام ہوتا ہےعازمینِ حج میدانِ عرفات کی طرف چل پڑتے ہیں۔ میدان عرفات میں عصر کی نماز تک عبادت میں گزارتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں۔ اس دن کو یومِ عرفہ بھی کہتے ہیں یہ وہی مقامِ بابرکت ہے جہاں آنحضور ﷺ نے حجۃالوداع کا خطبہ بھی ارشاد فرمایا تھا۔
  4. میدان عرفات سے مغرب سے پہلے روانہ ہوکر راستے میں ایک مقام مزدلفہ پر رکنا ہوتا ہے یہاں عازمینِ حج رات کھلے آسمان کے نیچے گزارتے ہیں، شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئےاس کی قریبی پہاڑی سے کنکر جمع کرنا بھی عازمین حج کا ایک کام ہوتا ہے۔ یہاں رات بھر عبادت کی جاتی ہے۔ اور صبح ہوتے ہی واپس منیٰ کی طرف سفر شروع ہوجاتا ہے۔
  5. منیٰ میں تین راتیں اور دن گزارنا ہیں۔ منیٰ پہنچتے ہی جمرات جسے شیاطین بھی کہا جاتا ہے کو کنکر مارنا ہوتا ہے، دسویں ذوالحج کو صرف بڑے شیطان کو کنکر مارے جاتے ہیں۔ کنکر مارنے کو ’’رمی‘‘ کرنا بھی کہا جاتا ہے۔
  6. کنکر مارنے کے بعد اگر قربانی کا جانور ذبح ہو چکا ہو تو اُس کے بعد عازمینِ حج کو نہانے اور لباس تبدیل کرنے کی اجازت ہوتی ہے
  7. اسی دن شام کو یا پھر اگلے روز گیارویں ذوالحج کو واپس مکہ جاکر حج کا طواف کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ دسویں ذوالحج کو جاتے ہیں اور کچھ لوگ گیارویں ذوالحج کو جاتے ہیں۔ مکہ سے واپس آ کر دو دن مسلسل ’’رمی‘‘ یعنی شیطان کو پتھر مارنا ہے۔ اس طرح شیطان کو پتھر مارنے کے دن تین بنتے ہیں، شیطان کو تین دن مسلسل کنکر مارنا مناسک حج کا حصہ ہیں۔ بارہ ذوالحج کو منیٰ سے واپس مکہ کی طرف روانہ ہو کر خانہ کعبہ میں الوداعی طواف کرنا ہے۔ یوں آٹھ ذوالحج سے لے کر بارہ ذوالحج تک حج کے مناسک بالترتیب پورے ہوجاتے ہیں۔

دورانِ حج قابلِ زیارت مقامات

دورانِ حج بہت سے مقامات اور جگہیں ہیں جہاں عازمینِ حج کے لئے زیارت کرنا لازمی ہے۔ کچھ مقامات مکہ کے اندر ہیں اور کچھ حد سے باہر ہیں۔ عازمینِ حج یا عمرہ کی زیارت کرنے والے مسلمان ان مقامات پر کی زیارت بہت جوش، محبت اور عقیدیت سے کرتے ہیں۔

مکّہ کے اندر مندرجہ ذیل مقامات ہیں:۔
بیت اللہ، یعنی وہ گھر جو ہمیشہ سے اللہ میاں نے اپنے نام زمین پر لگا یا ہوا ہے۔ اور جو حضرت ابراہیمؐ اور ان کے بیٹے اسماعیلؐ نے زمین میں دبا ہوا نکال کر تعمیر کیا۔ یہ تمام عالم کا قبلہ ہے جو مسجدالحرام کے اندر ہے۔

حطیم۔ خانہ کعبہ کے شمال طرف کمان کی صورت میں ایک خالی جگہ ہے، یہ کسی وقت خانہ کعبہ کا حصہ ہوتی تھی، مگر ایک وقت میں جب قریش اس کے متولی تھے، خانہ کعبہ کو بارشوں کی وجہ سے بہت نقصان پہنچا۔ تعمیر دوبارہ کرنا پڑی مگر چھت کی لکڑی کم ہوگئی تو اتنا حصہ چھوڑ دیا گیا۔ اس وقت سے یہ حصہ جوں کا توں کھلا ہے، زائرین یہاں داخل ہوتے اور نمازیں پڑھتے ہیں

حجرِ اسود۔ خانہ کعبہ کے دروازے کےساتھ مشرقی کونے میں ایک سیاہ رنگ کا پتھر لگا ہوا ہے، جسے حجرِ اسود کہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے، آنحضور ﷺ اسے بوسہ دیتے تھے۔ مسلمان بھی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے متبرک سمجھتے ہیں۔ اور طواف کے دوران اسے بوسہ دیتے ہیں۔

ملتزم۔ خانہ کعبہ کے دروازے اور حجرِ اسود کی درمیانی دیوار کو ملتزم کہتے ہیں۔ زائرین کعبہ کے اس حصہ کو سینے سے لگاتے ہیں۔

مطاف۔ خانہ کعبہ کے ارد گرد سنگِ مر مر کا بنا ہوا دائرہ ہے، یہاں طواف کیا جاتا ہے۔

مقامِ ابراہیم۔ بیت اللہ کے دروازے کے ایک گنبد نما قبہ ہے جس پر غالباً بادشاہ عبدالعزیز نے پیتل چڑھا دیا تھا۔ یہ وہ پتھر ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ نے کھڑے ہو کر دعائیں کی تھیں۔ زائرین اسکے پاس دو نفل ادا کرتے ہیں۔

زمزم۔ خانہ کعبہ کی مشرقی دیوار سے چند گز دور جہاں ہاجرہؑ کے ننھے بچے کے پیروں سے پایس کی شدت سے زمین پر ایڑیاں مارنے کی وجہ سے چشمہ پھوٹا تھا، یہ شعائراللہ ہے۔ اب وہاں پر فرش بنا دیا گیا ہے مگر نیچے تہ خانے میں اسی جگہ پر پانی کا انتظام ہے،

صفا و مروہ۔ مسجد الحرام کے ساتھ ہی شرقاً غرباً دو پہاڑیاں، صفا اور مروہ کے نام سے ہیں، یہ شعائراللہ ہیں اللہ تعالیٰ کلام پاک کا ان کا تذکرہ کیا ہے اور ان پر بی بی ہاجرہؑ کی یاد میں تیز تیز چڑھتے اور اترتے ہیں، یہ عمل عمرہ اور حج کا حصہ ہیں۔ اس عبادت کو سعی کہتے ہیں۔

مکّہ سے باہر کے مقامات

مکّہ سے باہر کے مقامات میں، منیٰ، میدانِ عرفات، مقامِ مزدلفہ، جمرات، شامل ہیں جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج کرنے اور اس کی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(نبیلہ رفیق فوزی۔ناروے)

پچھلا پڑھیں

نماز جنازہ حاضر و غائب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جولائی 2022