• 20 ستمبر, 2020

مسلمانوں کی ابترحالت کی وجہ

کیا اللہ تعالیٰ جس سے محبت کرے اس کا یہی حال ہوتا ہے جو آجکل کے مسلمانوں کا ہے۔ علماء جن کو عامّۃ المسلمین عام طور پر اللہ تعالیٰ کا پیارا سمجھتے ہیں، اس کے قریب سمجھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ دنیا میں فساد پیدا کر رہے ہیں۔ اب تو خود پاکستان میں بعض تجزیہ نگار اور کالم نویس اخباروں میں بھی لکھنے لگ گئے ہیں، دوسرے میڈیا پر بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت ان نام نہاد علماء نے ایسی کر دی ہے۔ پس اس وقت مسلمان علماء کی عمومی حالت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی قرآن اور سنت کی حقیقت بتانے والا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق بھیج دیا ہے۔ لیکن علماء نہ خود اس کی بات سننا چاہتے ہیں، نہ عوام کو سننے دیتے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کے خلاف کفر کے فتوے دے کر ایک عمومی خوف و ہراس اور فتنہ و فساد کی صورت پیدا کر دی ہے۔

یہ الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہر روز لگتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ دنیاوی خواہشات کی تکمیل اور اپنی بڑائی کے لئے جماعت کا قیام کیا ہے۔

بہرحال ہم جانتے ہیں کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی تجدید و تکمیل اشاعت کے لئے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا۔ قرآن کریم کے علوم و معارف کا فہم وادراک آپ کے ذریعہ سے ہی ہمیں حاصل ہوا۔ آپ نے ہر موقع پر قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ چنانچہ اس آیت قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ کو مختلف مواقع پر مختلف زاویوں اور معانی کے ساتھ آپ نے پیش فرمایا اور یہی وہ باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاکر، اس کا پیارا بنا کر فتنہ و فساد کی حالت سے نکالنے والی بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے لئے اپنی بقا کو قائم رکھنے کے لئے، اپنے ملکوں میں امن قائم رکھنے کے لئے، اسلام کی شان و شوکت کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے کوئی اور راستہ نہیں۔ نیک نتائج اس وقت قائم ہوں گے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پیروی ہو گی ورنہ لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کا نعرہ بھی کھوکھلا ہے اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا نعرہ بھی کھوکھلا ہے۔

(خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 ستمبر 2020