• 29 ستمبر, 2020

اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارہ میں ایک عیسائی سے آپ کی بحث ہو رہی تھی۔ سوال جواب ہو رہے تھے۔ اس عیسائی نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام کے بارے میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے بارے میں یہ کہتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ ’’میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندہ ہو کہ مَیں تمہیں آرام دوں گا‘‘ اور یہ (بھی کہا عیسیٰ علیہ السلام نے) کہ ’’میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں۔ میں زندگی اور راستی ہوں۔‘‘ (یعنی میں روشنی ہوں۔ میں رستہ دکھانے والا ہوں۔ میں زندگی دینے والا ہوں۔ میرے پاس آؤ۔ تو عیسائی نے سوال کیا کہ) ’’کیا بانیٔ اسلام (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں؟‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ’’قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گزشتہ اقوال پر غالب ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔‘‘ (مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ روشنی پاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ آپ اعلان کریں کہ جو میری پیروی کرے گا وہ اللہ کا محبوب بن جائے گا اور گناہ بھی بخشے جائیں گے۔) فرماتے ہیں کہ ’’پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوبِ الٰہی بنا دیتا ہے اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے‘‘۔

(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 372)

یہ وہ زمانہ تھا جب ہر طرف عیسائی پادری عیسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے۔ ہندوستان میں لاکھوں مسلمان عیسائی ہو چکے تھے۔ مسلمان علماء اور دوسرے لیڈروں کو توفیق نہیں تھی کہ اسلام کا دفاع کر سکیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور شان کو ایسے رنگ میں بیان کریں کہ غیر مسلموں کے منہ بند ہو سکیں۔ ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کا مقابلہ کیا۔ آپ ہی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اور پھر ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عیسائی پادریوں کے اسلام پر حملے کو اللہ تعالیٰ کے اس پہلوان نے، اس جری اللہ نے دلائل اور براہین سے روکا۔ اور نہ صرف روکا بلکہ پسپا کیا اور اس بات کا اظہار اس وقت کے مسلمانوں نے کیا۔ تاریخ میں ہمیں ملتا ہے بلکہ اِس زمانے کے علماء جو ہمارے مخالف ہیں انہوں نے بھی اس بات کا اقرار کیا۔ چنانچہ چند سال پہلے ڈاکٹر اسرار احمد جو فوت ہو گئے ہیں انہوں نے بھی اس بات کا اقرار کیا تھا کہ اُس زمانے میں حقیقت میں اسلام کا دفاع حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ہی کیا تھا۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح آپ نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بلند کیا کسی اور مسلمان عالم کو اس کی توفیق نہیں ملی۔

پھر قُلْ اِنْ کُنْتُمْ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی خوبصورت استدلال آپ نے پیش فرمایا۔ عربوں میں تو خاص طور پر اب بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھا جاتا ہے اور یہ ان کا بڑا راسخ نظریہ ہے۔ بہرحال اس کا ردّ کرتے ہوئے اس دلیل سے آپ فرماتے ہیں کہ:
’’میرے نزدیک مومن وہی ہوتا ہے جو آپ کی اِتّباع کرتا ہے اور وہی کسی مقام پر پہنچتا ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ یعنی کہہ دو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اِتّباع کرو تا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنا لے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اب محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کے فعل کے ساتھ خاص موانست ہو‘‘۔ (خاص اُنس ہو۔ ایک تعلق ہو۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’اور مرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔‘‘ (یعنی آپ کی وفات ہوئی۔) ’’آپ نے مر کر دکھا دیا۔ پھر کون ہے جو زندہ رہے یا زندہ رہنے کی آرزو کرے؟ یا کسی اور کے لئے تجویز کرے کہ وہ زندہ رہے؟‘‘۔ (اگر کوئی حقیقی طور پر آپ کو ماننے والا ہے تو نہ وہ زندہ رہ سکتا ہے، نہ کوئی آرزو کرے گا اور نہ ہی اس کو کسی اور کے زندہ رہنے کے نظریے پر یقین رکھنا چاہئے۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’محبت کا تقاضا تو یہی ہے کہ آپ کی اِتّباع میں ایسا گم ہو کہ اپنے جذباتِ نفس کو تھام لے اور یہ سوچ لے کہ مَیں کسی کی اُمّت ہوں۔ ایسی صورت میں جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں وہ کیونکر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت اور اِتّباع کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اس لئے کہ آپؐ کی نسبت وہ گوارا کرتا ہے کہ مسیح کو افضل قرار دیا جاوے اور آپؐ کو مُردہ کہا جاوے۔ مگر اُس کے لئے وہ پسند کرتا ہے کہ زندہ یقین کیا جاوے‘‘۔

(ملفوظات جلد 8صفحہ 228-229۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا، آپ کی اِتّباع کا دعویٰ۔ دوسری طرف یہ کہہ کر کہ مسیح زندہ ہے اس کو افضل قرار دیا جا رہا ہے۔

پس آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہر لحاظ سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا ہے اور آپ کی شان کو بلند فرمایا ہے اور یہی آپ کی بعثت کا مقصد تھا جس پر علماء کو ہر وقت اعتراض رہتا ہے۔

اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ زندہ نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ فرماتے ہیں:
’’غور کر کے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلافِ قرآن و سنّت کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں تو پادریوں کو نکتہ چینی کا موقع ملتا ہے اور وہ جھٹ پٹ کہہ اٹھتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مر گیا اور معاذ اللہ وہ زمینی ہے‘‘۔ (اور یہی کچھ ٹی وی چینلوں پر ہوتا رہا ہے جس پر عرب دنیا میں بڑی بے چینی پیدا ہوتی رہی ہے۔ آخر کار جب ہماری دلیلیں سنیں، ’’حِوار‘‘ کے پروگرام سنے، ایم ٹی اے پر عربی پروگرام سنے، تب بہت سارے لوگوں نے اس کو پسند کیا اور ان دلائل کے قائل ہوئے۔ لیکن علماء پھر بھی قائل نہیں ہو رہے۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عیسیٰ زندہ اور آسمانی ہے اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے کہتے ہیں کہ وہ مردہ ہے‘‘۔ ان کی یہ باتیں ہیں کہ وہ جھٹ کہتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مر گیا معاذ اللہ وہ زمینی ہے۔

(خطبہ جمعہ 20؍ اکتوبر 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 ستمبر 2020