• 1 اکتوبر, 2020

ذکر خدا پہ زور دے ظلمتِ دل مٹائے جا

ذکر خدا پہ زور دے ظلمتِ دل مٹائے جا
گوہر ِشب چراغ بن دنیا میں جگمگائے جا

دوستوں دشمنوں میں فرق دابِ سلوک یہ نہیں
آپ بھی جامِ مے اڑا غیر کو بھی پلائے جا

خالی امید ہے فضول سعئِ عمل بھی چاہیے
ہاتھ بھی تو ہلائے جا ،آس کو بھی بڑھائے جا

جو لگے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے
میرا نہ کچھ خیال کر زخم یونہی لگائے جا

مانے نہ مانے اس سے کیا بات تو ہوگی دو گھڑی
قصۂ دل طویل کر بات کو تو بڑھائے جا

کشورِدل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں؟
آئیں گے وہ یہاں ضرور تو انہیں بس بلائے جا

منزلِ عشق ہے کٹھن راہ میں راہزن بھی ہیں
پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تُوآگے قدم بڑھائے جا

عشق کی سوزشیں بڑھا جنگ کے شعلوں کو دبا
پانی بھی سب طرف چھڑک آگ بھی تو لگائے جا

(کلام محمود صفحہ197-
اخبار الفضل جلد 2 ۔ 9جولائی 1948ء۔ لاہور پاکستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 ستمبر 2020