• 18 اکتوبر, 2021

مارخور پاکستان کا قومی جانور

اشیاء کو قومی تشخص بنانے کی روایت کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔اس روایت کا محرک اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ مذکورہ چیز کو تحفظ فراہم کیا جائے یا پھر اسے فروغ دینا مقصود ہو۔ شاید اسی غرض سے اشیاء کو قومی قرار دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ’’قومی‘‘ قرار دی گئی چیز نایاب ہو جیسے کہ کنول ’’پاکستان کا قومی پھول‘‘ ہے لیکن نایاب نہیں ہے۔ البتہ مارخور ضرور نایاب ہو رہا ہے۔ مار خور پاکستان کا قومی جانور ہے اور جیسے اس کا شکار کیا جا رہا ہے عنقریب یہ نایاب سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

وجہ تسمیہ

مارخور فارسی نام ہے، مار کے معنیٰ سانپ اور خور یعنی کھانے والا۔ لیکن یہ سانپ بالکل بھی نہیں کھاتا اس کا تعلق چرندوں کے خاندان سے ہے۔ پھر جانے اسے مار خور کیوں کہا جاتا ہے۔ شاید کوبرا سانپ کے پھن کے مشابہ بل دار سینگوں کی وجہ سے اسے مارخور کہا جانے لگا ہو۔

مقامی طور پر اس کے بارے میں کئی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ مار خور سانپ کو مار کر چبا جاتا ہے اور اس جگالی کے نتیجے میں اس کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے جو نیچے گر کر خشک اور سخت ہو جاتی ہے۔ لوگ یہ خشک جھاگ ڈھونڈتے ہیں اور اس کو سانپ کے کاٹے کے علاج میں استعمال کرتے ہیں۔

بود و باش

مارخور جنگلی بکرے کی ایک قسم کا چرندہ ہے جو پاکستان میں گلگت بلتستان، ضلع چترال، وادی کالاش اور وادئ ہنزہ سمیت دیگر شمالی علاقوں کے علاوہ وادئ نیلم کے بالائی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مارخور بھارت، افغانستان، ازبکستان،تاجکستان اور کشمیر کے کچھ علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

جسمانی خد و خال

جنگلی حیات کے ماہرین اسے جنگلی بکرا ہی شمار کرتے ہیں۔بکروں کی نسل میں یہ سب سے بڑا بکرا ہے۔اس کا وزن 32 تا 110 کلو گرام تک ہوتا ہے۔ رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ مارخور کی ٹھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے میں زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں۔ مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے، جسم اور ٹھوڑی کے بال چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ گردن پر بال نہیں ہوتے۔اس میں سب سے نمایاں چیز اس کے سینگ ہوتے ہیں جو دیکھنے والے کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں۔نر اور مادہ دونوں کے سینگ بل دار ہوتے ہیں، جو سر کے قریب بالکل ساتھ ساتھ جبکہ اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے الگ ہو جاتے ہیں۔ نر کے سینگ مادہ کے مقابلہ میں بڑے ہوتے ہیں۔مارخور کے جسم کی بو عام گھریلو بکرے کے مقابلے میں بہت تیز ہوتی ہے جو اسے شکاری جانوروں سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس بدبو کے باعث شکاری جانور اس کے پاس نہیں آتے۔

عادات و اطوار

مارخور بنیادی طور پر ایک پہاڑی جانور ہے اور 600 سے 3600 میٹر تک کی بلندی پر پائے جاتے ہیں۔یہ دن میں چرنے پھرنے والا جانور ہے اور زیادہ تر صبح سویرے یا سہ پہر کے وقت نظر آتا ہے۔ ان کی خوراک موسم کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ موسم گرما اور بہار میں یہ گھاس چرتے ہیں جبکہ سردیوں میں درختوں کے پتے کھاتے ہیں۔ جوڑے بنانے کا عمل سردیوں میں شروع ہوتا ہے اور نر ایک دوسرے کے سینگوں میں سینگ پھنسا کر ایک دوسرے کو پچھاڑتے ہیں۔ مادہ کا حمل 135 سے 170 دن تک ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایک، دو اور بعض اوقات تین تک میمنے پیدا ہوتے ہیں۔ مارخور ریوڑ کی شکل میں رہتے ہیں جس کی تعداد 9 تک ہو سکتی ہے۔ ریوڑ میں بالغ مادائیں اور ان کے بچے شامل ہوتے ہیں۔ بالغ نر عموماً اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی آوازیں بکری سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ موسم سرما کے اوائل میں نر اور مادہ ایک ساتھ کھلے گھاس کے میدانوں میں پائے جاتے ہیں، جبکہ گرمیوں میں نر اکیلے اور مادائیں اکھٹی اور نروں سے الگ رہتی ہیں۔

اقسام

اب تک مارخور کی تین اقسام عالمی طور پر تسلیم کی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں:
بخارائی مارخور: مارخور کی یہ قسم بالائی آمو دریا اور پیانج دریا کے شمالی کناروں پہ واقع جنگلات میں پائی جاتی ہے جو ترکمانستان سے تاجکستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔

کابلی مارخور: کے سینگ بل دار اور مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ 1978 تک کابلی مارخور صرف افغانستان میں کابل کے سلسلوں، کوہ سلیمان، کوہ صافی اور ان کے درمیان موجود تھے۔ کثیر تعداد میں شکار کی وجہ سے اب یہ صوبہ کابل کے انتہائی دور دراز اور نا رسا علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

استور مارخور: مارخور کی یہ نسل پاکستان میں چترال، گلگت بلتستان، کوہستان اور ہنزہ کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔پاکستان کے علاوہ یہ انڈیا اور افغانستان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے سینگ بڑے اور چپٹے ہوتے ہیں جو تقریباً سیدھے ہوتے ہیں۔

پالتو بکروں سے تعلق

کچھ محققین نے مارخور کو عام پالتو بکرے کے اجداد کی صف میں شامل کیا ہے۔ چارلس ڈارون کے مطابق موجودہ بکرا مارخور اور پہاڑی بکروں کی آپس میں افزائش نسل کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ بعض محققین نے سینگوں میں مشابہت کی وجہ سے مارخور کو چند مصری بکروں کی نسل کا بانی قرار دیا ہے۔ لداخ اور تبت میں موجود پشمینہ بکری بھی مارخور کے خاندان میں تصور کی جاتی ہے۔

خطرات

چونکہ یہ بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اس لیے ان کا شکار ایک چیلنج سمجھ کر کیا جاتا ہے اور ٹرافی ہنٹنگ کے لیے اسے مارا جاتا ہے۔ پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں مارخور کا شکار خوراک کے علاوہ ان کے سینگوں کی وجہ سے بھی کیا جاتا ہے جنہیں مختلف دیسی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی عالمی تنظیم بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت کے مطابق مارخور کو ایسے جانوروں کی صف میں شمار کیا جاتا ہے جن کا وجود خطرے میں ہے۔ یعنی اگر ان کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل قریب میں یہ نسل کرہ ارض سے ہمیشہ کےلئے ناپید ہو سکتی ہے۔ کھلے جنگل میں ان کی تعداد دو ہزار سے چار ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔

مارخور ان 72 جانوروں میں شامل ہے جن کی تصاویر عالمی تنظیم برائے جنگلی حیات (WWF) کے 1976 میں جاری کردہ خصوصی سکہ جات کے مجموعے میں شامل ہے۔قدرت اور قدرتی وسائل کی حفاظت کی عالمی تنظیم کے مطابق اس نوع کو ان جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے جن کا وجود خطرے میں ہے۔ جس کی بڑی وجہ قانونی و غیر قانونی شکار ہے۔

(منصور احمد رند)

پچھلا پڑھیں

مطالعہ کتب حضرت مسیح موعودؑ حصول برکات کا ذریعہ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 اکتوبر 2021