• 27 جنوری, 2021

ارشاد باری تعالیٰ

اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْاِنۡسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اِقْرَاۡ وَ رَبُّکَ الْاَكْرَمُ۔ الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ کَلَّاۤ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَیَطْغٰۤی ۔ اَنۡ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی۔ اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی۔

(سورۃ العلق۔ آیات 2تا9)

ترجمہ: پڑھ اپنے ربّ کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ۔ اس نے انسان کو ایک چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ، اور تیرا رب سب سے زیادہ معزّز ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ خبردار! انسان یقیناً سرکشی کرتا ہے۔ (اس لئے) کہ اس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھا۔ یقیناً تیرے ربّ ہی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

سب سے پہلے حضور ﷺ کو سچی خوابیں آنے لگیں