• 20 مئی, 2024

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍دسمبر 2022ء

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 30؍دسمبر 2022ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

آنحضور صل الله علیہ و سلم کی حسین اداؤں پر جب نظر پڑتی تو دل سینہ میں اچھلتا ہے اور فریفتہ ہونے لگتا ہے اور بے اختیار دل سے یہ آواز اٹھتی ہے کہ ہماری جانیں ، ہمارے اموال، ہماری اولادیں تیرے قدموں پر نثار ! اے الله کے رسولؐ! تجھ پر لاکھوں درود اور کروڑوں سلام، اے وہ کہ جس کے حسن و احسان کا سمندر بے کنارہ تھا اور لا فانی تھا۔ اے الله کے رسولؐ! تجھ پر لاکھوں درود اور کروڑوں سلام، زمین و آسمان کے واحد و یگانہ خدا کی قسم! زمین و آسمان میں اِس کی تمام مخلوق میں تُو واحد و یگانہ ہے، تجھ سا کوئی تھا، نہ ہے، نہ ہو گا

حضور انور ایدہ الله نے تشہد، تعوذ اور سورۃالفاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا! حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے ذکر کے اختتام پر مَیں نے بتایا تھا کہ بدری صحابہ کا ذکر تو اب ختم ہوا لیکن بعض صحابہ جن کے بارہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اُن کی کچھ باتیں یا تفاصیل بعد میں سامنے آئیں ہیں جنہیں یا تو مَیں کسی وقت بیان کروں گا یا جب اِن کی اشاعت ہو گی اُس میں آ جائیں گی۔

بعض لوگ لکھ رہے ہیں ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے

اِس تاریخ کو سن کر، خطبات میں بھی حصہ بیان ہو جائے، اِس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ اِسے بھی چند خطبات میں بیان کر دوں تا اِس ذریعہ سے بھی لوگوں کے علم میں یہ باتیں آ جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ یہ باتیں سن سکیں۔ بہرحال اِس ضمن میں پہلا ذکر حضرت حمزہ رضی الله عنہ کا ہے۔ آپؓ آنحضرتؐ کے چچا اور آپؐ کے بہت پیارے تھے، جس کا اظہار آپؐ کی مختلف باتوں اور حضرت حمزہؓ کی شہادت کے وقت آپؐ کے رد عمل سے ہوتا ہے۔

نبی کریمؐ کو حمزہ نام بہت پسند تھا

حضرت جابر بن عبدالله رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو اُنہوں نے پوچھا کہ ہم اِس کا نام کیا رکھیں؟ آپؐ نے فرمایا! اِس کا نام حمزہ بن عبدالمطلب کے نام پر رکھو جو کہ مجھے سب ناموں سےزیادہ پسندیدہ ہے۔

ازواج و اَولاد

الطبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ حضرت حمزہؓ کی ایک شادی الملہ بن مالک جو قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے اُن کی بیٹی سے ہوئی جن سے یعلیٰ اور عامر پیدا ہوئے، اپنے بیٹے یعلیٰ کے نام پر ہی آپؓ کی ایک کنیت ابو یعلیٰ تھی، آپؓ کی دوسری زوجہ خولہ بنت قیس انصاریہ سے عمّارہ کی ولادت ہوئی جن کے نام پر آپؓ نے اپنی کنیت ابو عمّارہ رکھی تھی۔ آپؓ کی ایک شادی حضرت اسماءؓ بنت عمیس کی بہن حضرت سلمیٰ بنت عمیس سے ہوئی جن کے بطن سے ایک بیٹی حضرت اُمامہ کی پیدائش ہوئی، یہ وہی اُمامہ ہیں جن کے بارہ میں حضرت علی، حضرت جعفر اور حضرت زیدبن حارثہ رضی الله عنہم میں نزاع ہوا تھا، اِن میں سے ہر ایک یہی چاہتا تھاکہ حضرت اُمامہ اُس کے پاس رہیں مگر نبی کریمؐ نے حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کے حق میں فیصلہ فرمایا تھا کیونکہ حضرت اُمامہ کی خالہ حضرت اسماء ؓ بنت عمیس آپؓ کی زوجیت میں تھیں۔ آپؓ کے بیٹے یعلیٰ کی اولاد میں عمّارہ ، فضل، زبیر ، عقیل اور محمد تھے مگر سب فوت ہو گئے اور آپ کی نہ ہی اولاد زندہ رہی اور نہ ہی نسل چل سکی۔

خالہ بمنزلہ ماں ہے

بعدازاں حضور انور ایدہ الله نے مؤخر الذکر تینوں اصحابؓ کے مابین نزاع کے پس منظر کی تفصیل مذکورہ از بخاری بیان کی نیز بطور تصفیہ اُمامہ کے بارہ میں نبی کریمؐ کے فیصلہ کا تذکرہ کیا کہ وہ اپنی خالہ کے پاس رہے اور خالہ بمنزلہ ماں ہے اور علیؓ سے کہا! تم میرے ہو اور مَیں تمہارا ہوں اور جعفرؓ سے کہا! تم سیرت اور صورت میں مجھ سے ملتے جلتے ہو اور زیدؓ سے کہا! تم ہمارے بھائی ہو اَور دوست ہو۔علیؓ نے کہا! کیا آپؐ حمزہؓ کی بیٹی سے شادی نہیں کر لیتے؟ آپؐ نے فرمایا! وہ میرے دودھ بھائی کی بیٹی ہے، مَیں اُس کا چچا ہوں۔ حضور انور ایدہ الله نے تصریح فرمائی! یہ چھوٹے چھوٹے مسائل بھی اِن واقعات میں حل ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ قضاء میں مقدمے آتے ہیں کہ خالہ کے پاس کیوں جائے، نانی کے پاس کیوں جائے تو یہ فیصلے ہو گئے یہاں۔

حضرت حمزہ ؓ کے قبول اسلام کے متعلق الرّوض الاُنف میں لکھا ہے ابن اسحٰق رحمہ الله کے علاوہ بعض نے آپؓ کے اسلام لانے کے متعلق ایک بات کا اضافہ کیا ہے، آپؓ بیان فرماتے ہیں: جب مجھ پر غصہ غالب آ گیا (لونڈی کے کہنے پر) اور مَیں نے کہہ دیا کہ مَیں آپؐ کے دین پر ہوں، بعد میں مجھے ندامت ہوئی کہ مَیں نے اپنے آباء و اجداد اور قوم کے دین کو چھوڑ دیا ہے اور مَیں نے اِس عظیم معاملہ کے متعلق شکوک و شبہات میں اِس طرح رات گزاری کہ لمحہ بھر سو نہ پایا، پھر مَیں خانہ کعبہ کے پاس آیا اور الله تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کی کہ وہ میرے سینہ کو حق کے لئے کھول دے اور مجھ سے شکوک و شبہات کو دُور کر دے، مَیں نے ابھی دعاء ختم بھی نہ کی تھی کہ باطل مجھ سے دُور ہو گیا اور میرا دل یقین سے بھر گیا۔ پھر صبح کومَیں رسول اللهؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اَور اپنی تمام حالت بیان کی جس پر آپؐ نے میرے حق میں دعاء فرمائی کہ الله تعالیٰ مجھے ثبات قدم بخشے۔

مختلف غزوات میں سعادت علمبرداریؐ

مزید برآں حضور انور ایدہ الله نےغزوۂ ابواء(وہ مقام جہاں آنحضرتؐ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا اور وہ پہلا غزوہ جس میں آپؐ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی)، غزوۂ عُشیرہ اور غزوۂ بنو قینقاع میں آپؓ کی شرکت اور سعادت علمبرداری رسول اللهؐ (سفید رنگ کا جھنڈا اٹھایا تھا آپؓ نے)نیز غزوۂ بدر میں انفرادی مبارز طلبی پر اپنے مد مقابل عُتبہ کے علاوہ طُعیمہ بن عدی سردار قریش کو بھی قتل کرنے کا تذکرہ فرمایا۔

غزوۂ اُحد میں شہادت

اِس کی خبر پہلے ہی الله تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو بذریعہ رؤیا دے دی تھی چنانچہ حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے: آپؐ نے فرمایا! مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک مینڈھے کا پیچھا کر رہا ہوں اور یہ کہ میری تلوار کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے تو مَیں نے یہ تعبیر کی کہ قوم کے مینڈھے کو قتل کروں گا (یعنی اُن کے سپۂ سالار کو) اور تلوار کے کنارے کی تعبیر مَیں نے یہ کی کہ میرے خاندان کا کوئی آدمی ہے ۔ پھر آپؓ کو شہید کر دیا گیا اور رسول اللهؐ نے علمبردار مشرکین طلحٰہ کو قتل کیا۔

آپؓ کا مُثلہ کیا گیا تھا

شکل بگاڑی گئی تھی، ناک، کان کاٹے گئے تھے، پیٹ چاک کیا گیا تھا۔ جب نبی کریمؐ نے اُن کی یہ حالت دیکھی تو آپؐ کو شدید رنج ہوا اَور فرمایا! اگر الله نے مجھے قریش پر کامیابی دی تو مَیں اُن کے تیس آدمیوں کا مُثلہ کروں گا جبکہ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے قسم کھا کر فرمایا! اُن کے ستر آدمیوں کا مُثلہ کروں گا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۷﴾ (النّحل: 127) اور اگر تم سزاء دو تو اِتنی ہی سزاء دو جتنی تم پر زیادتی کی گئی تھی اور اگر تم صبر کرو تو یقینًا صبر کرنے والوں کے لئے یہ بہتر ہے، اِس پر رسول اللهؐ نے فرمایا! صبر کریں گے اور اپنی قسم کا کفارہ اداء کر دیا۔

حمزہ جنت میں تخت پر ٹیک لگائے ہوئے

حضرت ابن عبّاس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهؐ نے فرمایا! کل رات جب مَیں جنت میں داخل ہوا (نظارہ دیکھا آپؐ نے) تو مَیں نے دیکھا کہ جعفر فرشتوں کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں جبکہ حمزہ تخت پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔

آنحضرتؐ کے اِس واقعہ سے خلق عظیم کا بھی پتا چلتا ہے

آنحضرتؐ کی آپؓ کی شہادت اور نعش دیکھ کراظہار جذبات اور نمونۂ صبر نہ صرف خود دکھانا بلکہ آپؓ کی بہن اور اپنی پھوپھی کو بھی اِس کا پابند کرنا پھر نوحہ کرنے والی انصاری عورتوں کو نوحہ سے روکنے کا واقعہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرّابعؒ (قبل از خلافت تقریر برموقع جلسۂ سالانہ) حضور انور ایدہ الله نے پیش کیا: آنحضورؐ کو حضرت حمزہ ؓسے جو پیار تھا اِس کا اظہار اِن الفاظ سے ہوتا ہے جو اُحد کی شام آنحضورؐ نے حضرت حمزہؓ کی نعش پر کھڑے ہو کر فرمائے۔ اے حمزہ! مجھے آج جو غصہ ہے اور جو تکلیف تیرے مقتل پر کھڑے ہو کر پہنچی ہے، الله آئندہ کبھی مجھے ایسی تکلیف نہ دکھائے گا۔۔۔

آنحضورؐ کے قدموں پر ہماری جانیں نثار ہوں

کس شان کا معلّم اخلاق تھا جو روحانیت کے آسمان سے ہمیں دین سکھانے نازل ہوا ، کیسا صاحب بصیرت اور زیرک تھا یہ نصیحت کرنے والا جس کی نظر انسانی فطرت کے پاتال تک گزر جاتی تھی، اگر اُس وقت آنحضورؐ انصار بیبیوں کو نوحہ کرنے سے منع فرما دیتے جب وہ اپنے شہیدوں کا نوحہ کر رہی تھیں تو بعض شاید دلوں پر یہ شاق گزرتا اور یہ صبر اُن کے لئے صبر آزماء ہو جاتا لیکن دیکھو! کیسے حکیمانہ انداز میں پہلے اُن کے ماتم کا رخ اپنے چچا حمزہؓ کی طرف پھیرا، پھر جب نوحہ سے منع فرمایا توگویا اپنے چچا کے نوحہ سے منع فرمایا۔ الله کا انتخاب، الله کا انتخاب ہے ۔ دیکھو! اپنی مخلوق کے لئے کس شان کا نصیحت کرنے والا بھیجا الله تعالیٰ نے جو انسانی فطرت کی باریکیوں اور لطافتوں سے خوب آشنا تھا اور اپنے غلاموں کے لطیف جذبات کا کیسا خیال رکھنے والا تھا۔

الله تعالیٰ نئے سال کی ساری برکات سے ہمیں نوازے

خطبۂ ثانیہ سے قبل حضور انور ایدہ الله نے ارشاد فرمایا! پرسوں نیا سال بھی اِنْ شَآءَ اللهُ شروع ہو رہا ہے، دعائیں کریں الله تعالیٰ نئے سال کی ساری برکات سے ہمیں نوازے، جماعت کے لئے بھی ہر لحاظ سے یہ بابرکت ہو، دشمن کے تمام منصوبوں کو الله تعالیٰ خاک میں ملا دے اور دنیا میں پھیلی ہوئی جماعتوں کو الله تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر اپنے مقصد پیدائش کو پورا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اِسی طرح دنیا کے لئے عمومی طور پر دعاء کریں کہ جنگوں سے الله تعالیٰ اِن کو بچائے، حالات خطرناک سے خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اور تباہی منہ کھولے کھڑی ہے، کچھ پتا نہیں ہر ایک اپنے مفادات چاہتا ہے، الله تعالیٰ ہی رحم فرمائے۔ اور اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے بھی بہت دعاء کریں کہ الله تعالیٰ آئندہ سال میں ہر قسم کے ظلم اور تعدی سے جماعت احمدیہ کو محفوظ رکھے۔

(قمر احمد ظفر۔ نمائندہ الفضل آن لائن۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی