• 27 فروری, 2021

حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب، حضرت چوہدری عبد الحکیم صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت ماسٹر محمد پریل صاحبؓ ساکن کمال ڈیرہ سندھ لکھتے ہیں کہ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہ۔ اما بعدُ۔ یہ عاجز اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جولائی 1905ء میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء پر دست بیعت ہوا تھا۔ اُس زمانے میں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔ چار پانچ آدمی صف میں بیٹھتے تو جگہ بھر جاتی تھی۔ اُس ماہ میں بہت گرمی تھی یعنی جولائی میں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب مسجد میں تشریف آور ہوتے تو مَیں پنکھا چلاتا تھا، (ہاتھ کا پنکھا جھلا جاتا تھا)۔ مولوی محمد علی صاحب کا دفتر مسجد مبارک کے اوپر تھا۔ ایک دن مولوی محمد علی صاحب کو کچھ حضور کے آگے گزارش کرنی تھی، (اُن کا خیال تھا کہ بیٹھ کر گزارش کروں) مگر بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ کہتے ہیں یہ عاجز حضرت اقدس کے زانوئے مبارک سے اپنے زانو کو ملا کر پنکھا چلاتا تھا۔ مولوی محمد علی نے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس کو پیچھے ہٹنے کے لئے اشارہ کرو۔ کہتے ہیں مَیں اشارے پر پیچھے ہٹنے لگا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے زانوپر ہاتھ مار کر فرمایا: مت ہٹو، بیٹھے رہو اسی طرح۔ یہ عاجز پھر پنکھا چلانے لگا۔ اور مولوی محمد علی صاحب نے کھڑے ہو کر اپنی گذارش کی۔ حضرت اقدس نے ان کو مناسب جواب دیا۔ مولوی صاحب تحریر کر کے (لکھ کے) چلے گئے۔ لکھتے ہیں کہ اُس زمانے میں تو اس بات کا خیال نہیں رہا۔ اب اس بات سے بہت سُرور اور لذّت آتی ہے کیونکہ مَیں ایک ادنیٰ آدمی اور بے سمجھ اردو بھی پوری طرح نہیں آتی تھی اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے اور عالم تھے مگر نبی اللہ کی نظر میں ادنیٰ اور اعلیٰ ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ عاجز پندرہ دن صحبت میں رہا اور ہر ایک دن میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا نورانی چہرہ روشن دیکھنے میں آتا تھا۔ اس عاجز کو یہ ہی معلوم ہوتا تھا کہ اب حمام خانہ سے غسل کر کے آ گئے ہیں اور سرِ مبارک کے بالوں (جو کندھے کے برابر تھے) سے گویا موتیوں کے قطرے گر رہے ہیں۔ اس عاجز نے پندرہ روز میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک میں غم نہیں دیکھا۔ جب بھی مجلس میں آتے خوش خندہ پیشانی ہوتے۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر3 صفحہ92 روایت حضرت ماسٹر محمد پریل صاحبؓ۔ غیرمطبوعہ)

پھر حضرت چوہدری عبد الحکیم صاحب ولد چوہدری شرف الدین صاحب ساکن گھاکڑ چیماں تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ لکھتے ہیں کہ ’’1902ء کی گرمیوں کا موسم تھا۔ مَیں ان دنوں ملتان چھاؤنی ریلوے سٹیشن پر بطور سگنلر (signaler) ملازم تھا۔ میرے خیالات اہلحدیث کے تھے اور میں مولوی عبدالجبار اور عبدالغفار اہلحدیث جو دونوں بھائی تھے اور ملتان شہر کے قلعے کے پاس ان کی کتابوں کی دکان تھی اُن سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا کہ اتفاقاً میری ملاقات مولوی بدرالدین احمدی سے ہوئی جو شہر کے اندر ایک پرائیویٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ انہوں نے مجھے اخبار الحکم پڑھنے کو دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اخبار الحکم کے پہلے صفحے پر لکھا ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی اور کلماتِ طیبات امام الزمان۔ مَیں ان کو پڑھتا تھا اور میرے دل کو ایک ایسی کشش اور محبت ہوتی تھی کہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمتِ اقدس میں پہنچوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہوا اور باوجود اہلحدیث کے مولویوں کے بہکانے اور ورغلانے کے میں نے تھوڑے ہی عرصے میں احمدیت کو قبول کر لیا۔ مولوی بدر الدین صاحب نے مجھے قادیان فوراً جانے کا مشورہ دیا۔ اور میرے ساتھ ایک اور اہلحدیث مولوی بھی تیار ہو گئے۔ وہ مولوی سلطان محمود صاحب اہلحدیث کے شاگردِ خاص تھے۔ کہتے ہیں غربت کی حالت تھی۔ پندرہ روپے میری تنخواہ تھی۔ مَیں نے رخصت لی اور ریلوے پاس کا حق نہیں تھا۔ مَیں نے بمعہ دوسرے دوست کے امرتسر کا ٹکٹ لیا۔ کیونکہ ہمارے پاس قادیان کا کرایہ پورا نہ تھا۔ امرتسر پہنچ کر ہمارا ٹکٹ ختم ہو گیا۔ اور ہم نے بٹالے والی گاڑی میں سوار ہونا تھا مگر ہمارے پاس صرف آٹھ آنے کے پیسے تھے۔ اس لئے ہم نے دو دو آنے کا ’ویرکہ‘ کا ٹکٹ لے لیا اور گاڑی میں سوار ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ یہ بھی وہاں سوار ہونے کے بعد پھر ہمیں خیال آیا کہ بٹالے جانا ہے اور ٹکٹ بھی اتنا نہیں ہے۔ خیر ہم بیٹھے رہے۔ اس دوران میں ٹکٹ چیکر آ گیا۔ اس نے ٹکٹ ہمارا چیک کیا۔ لیکن ٹکٹ اچھی طرح چیک کرنے کے باوجود ہمیں ٹکٹ چیک کر کے واپس کر دیا کہ ٹھیک ہے۔ اور اسی طرح سٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے ٹکٹ چیک کرنے والے نے ٹکٹ چیک کیا اور ہمیں کچھ نہیں کہا۔ ہم یہی دعا کرتے رہے کہ ایک نیک مقصد کے لئے ہم جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی بے عزتی سے بچا لے۔ تو کہتے ہیں کہ اس ٹکٹ نے ہمیں آخر تک پہنچا دیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے لئے ایک پہلا معجزہ جو ہم نے دیکھا وہ یہی تھا۔ لیکن بہر حال نیت نیک تھی۔ مجبوری تھی اس کی وجہ سے انہوں نے ٹکٹ لیا نہ کہ ارادۃً دھوکہ دینے کے لئے۔ تو بہر حال لکھتے ہیں کہ بٹالے سے پھر پیدل قادیان چلے گئے۔ قادیان جب ہم مسجد مبارک میں داخل ہوئے اُسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے۔ میرے ساتھ جو دوست تھا وہ ایک اہلحدیث عالم تھا۔ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتے ہی ایک سوال کیا کہ جب قرآن اور حدیث ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے تو آپ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے؟ حضور اُسی وقت وہیں کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع فرمائی۔ ابھی حضور کی تقریر ختم نہ ہوئی تھی کہ معترض ساتھی نے عرض کیا کہ حضور میری تسلی ہو گئی ہے۔ مَیں بیعت کرتا ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ ابھی ٹھہرو اور پوری تسلی کر لو۔ شاید آپ کو دھوکہ نہ لگ جائے۔ پھر نماز ظہر پڑھا کر گھر تشریف لے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر کے خاتمے پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا کہ اخباروں میں سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ (یعنی یہ سوال جواب پہلے ہو چکے ہوئے ہیں جو اس نے کیا تھا کہ کیا ضرورت ہے قرآن اور حدیث کی موجودگی میں کسی اور کی بیعت کرنے کی؟)۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر باہر سے آنے والے لوگ حضور کی خدمت میں سوال کر کے تکلیف دیتے ہیں اور اخبار کو نہیں پڑھتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! تقریر تو میں کرتا ہوں اور تکلیف آپ کو ہوتی ہے۔ حضور ہر سوال کرنے والے کا بڑی خندہ پیشانی سے جواب فرمایا کرتے تھے۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمر 3 صفحہ 121 تا 124 روایت حضرت چوہدری عبدالحکیم صاحبؓ۔ غیر مطبوعہ)

(خطبہ جمعہ 17؍ دسمبر 2010ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 فروری 2021