• 19 اپریل, 2021

اے مولویو کچھ تو کرو خوف خدا کا

اے مولویو کچھ تو کرو خوف خدا کا
کیا تم نے سنا تک بھی نہیں نام حیا کا
کیا تم کو نہیں خوف رہا روز جزا کا
یوں سامنا کرتے ہو جو محبوب خدا کا
ہر جنگ میں کفار کو ہے پیٹھ دکھائی
تم لوگوں نے ہی نام ڈبویا ہے وفا کا
ٹھہراتے ہیں کافر اسے جو ہادی دیں ہے
یہ خوب نمونہ ہے یہاں کے علما کا
بیٹھا ہے فلک پر جو اسے اب تو بلاؤ
چپ بیٹھے ہو کیوں تم ہے یہی وقت دعا کا
پر حشر تلک بھی جو رہو اشک فشاں
تم ہرگز نہ پتہ پاؤ گے کچھ آہِ رسا کا
وہ شاہ جہاں جس کے لیے چشم بَرَه ہو
وہ قادیاں میں بیٹھا ہے محبوب خدا کا
وحشی کو بھی دم بھرمیں بناتی ہے مہذب
دیکھو تو اثر آ کے ذرا اس کی دعا کا
وہ قوت اعجاز ہے اس شخص نے پائی
دم بھر میں اسے مار گرایا جسے تاکا
محمود نہ کیوں اس کے مخالف ہوں پریشاں
نائب ہے نبی کا وہ فرستادہ خدا کا

(کلام محمود)
(اخبار بدر جلد 6۔14مارچ 1907)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 مارچ 2021