• 18 اپریل, 2024

خشک صحرا میں اُترتے ہیں سمندر رات کو

تیز کانٹوں پر بچھا لیتی ہوں بستر رات کو
لازما میں جھانکتی ہوں اپنے اندر رات کو

جیسے گھر بھر جائے تو نکلے دریچوں سے دھؤاں
یونہی ہو جاتے ہیں کچھ اشعار اکثر رات کو

دن کو جولاں گہ مری گنجائشِ زنجیر تک
بے تکاں اُڑتی ہوں سارے آسماں پر رات کو

آنکھ کے پانی سے دُھل کر فرش ہو جاتا ہے عرش
خشک صحرا میں اُترتے ہیں سمندر رات کو

اُس کی جانب سے بھی خود ہی دیتی رہتی ہوں جواب
گفتگو یونہی ہؤا کرتی ہے اکثر رات کو

فتویٰ ہائے کفر کے ڈر سے لگی رہتی ہے چپ
ورنہ کچھ ہوتا ہے نازل میرے دل پر رات کو

خوف رہتا ہے مجھے اُن کا کہ جو بے خوف ہیں
رات سے دن کو زیادہ، دن سے بڑھ کر رات کو

عیش سے فرصت ملے تو اُن کا دُکھ بھی سوچنا
پیٹ پر جو باندھ کر سوتے ہیں پتھر رات کو

میری یادیں، میری سوچیں، میرے ارماں، میرے خواب
تازہ دم ہو جاتے ہیں مجھ سے لپٹ کر رات کو

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی