• 25 مئی, 2020

کورونا وائرس اور جماعت احمدیہ امریکہ

COVID-19 کرونا وائرس امریکہ میں بھی ایک عظیم بلا بن کر نازل ہوچکی ہے جس کے دن بدن اثرات کئی کئی گنا ہوتے نظر آرہے ہیں اور تقریباً ہر اسٹیٹ میں اس بیماری کی شدّت اور تباہ کاریاں جاری ہیں۔ تمام معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں سڑکوں پر ہو کا عالم ہے لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ ایک لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر معصوم بچے ہیں جو پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے کہ اُن کے ساتھ ہو کیا رہاہے۔امریکہ میں بھی سارے سکول لمبے عرصہ کے لئے بند کر دیئے گئے ہیں۔ مگر طلباء کو تعلیمی نقصان سے بچانے کے لئے ’’ہوم سکولنگ‘‘ کا انتظام کیا گیا ہے۔ ہر طالبعلم کو لیپ ٹاپ دیا جارہا ہے جس پر انٹرنیٹ کی محدود رسائی دی گئی ہے جو صرف درس و تدریس ہی سے متعلق ہے۔ اس لیپ ٹاپ میں متعلقہ کلاس کی جملہ کتابیں اور کورس لوڈ کر دیے گئے ہیں اور بچوں کی کلاسیں اس لیپ ٹاپ کی مدد سے اساتذہ اپنے اپنے گھروں سے ویڈیو کانفرنس کال کے ذریعہ لیتے ہیں۔ اور ایک طرح سکول کا ہی ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تقریباً ہر سکول بورڈ کی طرف سے طلباء کو کلاسز کے کورس ہوم ورک کے طور پر دے دئیے گئے ہیں، جو والدین بچوں کو گھروں میں کروانے کی کوشش میں ہیں۔ اگر سکول کے ہوم ورک کروانے میں والدین کو مشکل پیش آئے تو اُن کی Online مدد کی جاتی ہے۔

کینیڈا میں بھی ایسا ہی انتظام کیا گیا ہے۔ کنیڈین حکومت نے بہت تندہی کے ساتھ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے انتظامات کئیے ہیں۔ امریکہ کی نسبت کینیڈا میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ سارے صوبوں کی حکومتیں مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ لوگ بھی پوری طرح تعاون کر رہے ہیں اور گھروں تک اپنے آپ کو محدود کیا ہوا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ میں ٹیسٹ کے بعد کورونا وائرس کے اثرات پائے گئے تھے اُنہوں نے گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے آپ کو گھر کے ہی ایک حصہ میں قرنطینہ میں الگ کیا ہوا ہے۔ جبکہ وزیراعظم نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر کے دوسرے حصہ میں قرنطینہ میں رکھ کر بند کیا ہوا ہے۔ اور با ہر کی دنیا سے بالکل کٹ کر ویڈیو آڈیو طریق سے Online پورے ملک کی نگرانی کر رہے ہیں اور کار سرکار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وزیر اعظم کینیڈا کے ساتھ چونکہ ان کے چھوٹے بچے بھی قرنطینہ میں ہیں اس لئے وزیراعظم خود ہی بچوں کو روزانہ نہلاتے اور کپڑے پہناتے اُن کو کھانا کھلاتے ہیں۔ نیز بچوں کو تعلیم بھی مذکورہ بالا طریق سے Online دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سب میرے کارِسرکار اور ذمہ داریوں میں ہرگز مخل نہیں ہیں۔

امریکہ کا نظام پچاس ریاستوں پر مشتمل ہے جیسے صوبائی بھی آپ کہہ سکتے ہیں مگر صوبائی نظام حکومت میں صوبے کا اعلیٰ ترین حکمران وزیراعلیٰ ہوتا مگر یہاں ریاستی نظام میں سربراہِ اعلیٰ منتخب گورنر ہوتا ہے جن کو ریاست میں پوری آزادی حاصل ہے پھر ہر شہر کے مئیر کو تو اپنی کونسل کے ساتھ مل کر ہر طرح کے عملی اختیارات ہوتے ہیں۔ اُن میں کوئی حاکمِ بالا ذرہ برابر بھی مداخلت نہیں کرسکتا، مگر ملک کی مرکزی نظام حکومت کے ذرائع چونکہ بہت زیادہ ہیں اس لئے ایمرجنسی کے وقت مرکزی حکومت مدد کے لئے آگے آتی ہے۔ اس کورونا وائرس کی ایمرجنسی میں ساری ریاستوں کے گورنر پوری جدوجہد کر کے اپنی اپنی ریاست میں کرونا وائرس کے خاتمہ اور اس کے بچاؤ کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ مگر مرکز میں صدر ٹرمپ کی حکومت ہے۔ صدر ٹرمپ عجیب اور مختلف طبعیت رکھتے ہیں۔ ریاستی گورنر اس بات سے شاکی ہیں کہ صدر ٹرمپ لوگوں کے لئے اُن کی پوری طرح مدد کرنے کی بجائے بزنس کے نظریہ سے ہر چیز کو دیکھ کر مالی اور سیاسی نفع نقصان کا سوچتے ہیں۔ اس وقت تک صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ کرونا وائرس مسئلہ تو ہے مگر اتنا بڑا نہیں جتنا میڈیا اس کو پھیلا رہا ہے حالانکہ ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے اعداد وشمار تشویش کُن ہیں مگر صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ اس کورونا وائرس کے خلاف ہم جنگ جیت رہے ہیں اس سے زیادہ ہر سال لوگ ٹریفک کے حادثات میں مر جاتے ہیں، گو کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی صورت نہیں بلکہ الله تعالیٰ معاف فرمائے امریکہ اس جنگ کے نتیجے میں شاید سب سے پیچھے رہ جائے، نیک اور صالح لیڈر کا ہونا خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ صدر ٹرمپ کے اپنے سائنسدان اور حکومت میں شامل اعلیٰ عہدیداران اور محکمہ صحت کے اہلکار اُن سے اتفاق نہیں کرتے اورنہ ریاستوں کے گورنر اور نچلی سطح کی حکومتیں صدر ٹرمپ کے نظریہ سے اتفاق کرتیں ہیں۔ عوام الناس اپنی اپنی مقامی اور صوبائی ریاستوں کے ساتھ متفق ہیں اور اُن کے احکامات کے مطابق اپنے آپ کو گھروں میں محدود کئے ہوئے ہیں اور ہدایات پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔

الله تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ہمیشہ کی طرح اپنے پیارے آقا سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ایّده الله کی جانب سے جاری ہدایات پر دل و جان سے عمل کر رہی ہے۔ امیر صاحب امریکہ صاحبزادہ مرزا مغفور احمد کرونا وائرس کے نتیجے میں لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہونے والی صورت حال میں ہمہ تن رہنمائی فرمارہے ہیں۔ اور ہر شہر کی صورت حال اُن کی نگاہ میں ہے اور حسب حال ہدایات دیتے ہیں۔

جماعت احمدیہ امریکہ کا شعبہ امور عامہ بھی امیر صاحب کی ہدایات کی روشنی میں سرگرم عمل ہے، ہر جماعت کو ہدایات اُن کے ذریعہ بروقت پہنچ رہی ہیں اور ہر طرح کی پیش بندی کی کوشش کی جارہی ہے۔ دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ اس لحاظ سے دنیا میں جماعت احمدیہ سب سے مطمئن ترین جماعت ہے جو اپنے امامِ ہمام کی ہدایات کی روشنی میں دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے آگے جُھکی ہوئی اور مصروفِ کار ہے۔ امریکہ میں ہر مقامی جماعت کے سیکرٹری امور عامہ اپنے اپنے دائرہ میں لوگوں کو خود فون کر کے پتہ کرتے ہیں کہ کسی چیز کی گھر میں ضرورت ہو تو اُنہیں اطلاع دی جائے۔ مقامی سطح پر اس مؤثرنظام کو چلانے والے ہر جماعت کے پریزیڈنٹ اور اُن کے جنرل سیکرٹری اور عاملہ ممبران ہیں جو کمیونٹی کی ہر ضرورت پر نظر رکھ کر پورا کر رہے ہیں۔ الحمدُلله

جہاں تک دیگر رفاحی کاموں کا تعلق ہے جماعت احمدیہ امریکہ کے مختلف ادارہ جات اور شعبہ جات بھی اپنے اپنے دائرہ عمل اور مرکزی ہدایات کی روشنی میں پوری طرح امدادی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔

مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ نے ہر شہر میں بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب، ضرورت مند گھروں میں محدود ہوئےلوگوں کی مدد کرنے کے لئے مقامی سطح پر والنٹیرز مہیا کئے ہوئے ہیں جو کالیں کر کے لوگوں کو پوچھتے ہیں کہ اگر اُن کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو اُن سے رابطہ کریں۔

اِسی طرح مجلس انصارالله امریکہ کے مقامی عہدے داران بھی بوڑھوں اور مریضوں کی مدد کے لئے اپنے آپ کو پیش کئے ہوئے ہیں۔ جو کالیں کرکے پوچھتے ہیں کہ کسی کو کھانے یا دوائی یا کسی قسم کی اور مدد کی ضرورت ہو تو اُنہیں مطلع کریں۔ اُن کا فوکس بوڑھوں اور بیماروں کی طرف زیادہ ہے۔ کیونکہ یہی طبقہ اس وقت سب سے زیادہ خطرے کی حالت میں ہے۔

جماعت کی ذیلی تنظیم ہیومینٹی فرسٹ امریکہ نے بھی مقامی حکام سے مل کر ہر جگہ امدادی خدمات پیش کی ہوئی ہیں۔

الله تعالیٰ جماعت کی کوششوں کو قبول فرما کر بہترین نتائج پیدا فرمائے جس سے لوگوں کو جلد از جلد آرام کا سانس لینے کا موقع ملے اور اپنے پیدا کرنے والے خالق اور مالک خدا کی طرف سب جھک جائیں۔ الله تعالیٰ ساری دنیا سے اس ہلاکت خیز دور کو جلد ختم فرمائے۔ آمین۔


(منیر احمد-امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اپریل 2020