• 20 جون, 2021

بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔ تقویٰ کا نُور اس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔ اور بیجا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔مَیں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصّہ کا نقص اب تک موجود ہے تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بُغض پیدا ہو جاتا ہے۔ اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقّت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دُوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اوّل اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہیئے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لئے دردِ دل سے دُعا کرےکہ اللہ تعالےٰ اس کی اصلاح کر دیوے۔ اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھاوے۔۔۔خدا تعالےٰ ہرگز پسندنہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ127-128۔ ایڈیشن 1984ء)

خداتعالیٰ کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ فرماتے ہیں :
ایک عورت نے حضرت مسیح موعود کے گھر سے کچھ چاول چرائے، چور کا دل نہیں ہوتا اس لئے اس کے اعضاء میں غیر معمولی قسم کی بیتابی اور اس کا ادھر ادھر دیکھنا بھی خاص وضع کا ہوتا ہے۔ یعنی وہ چوری کر لے تو اس کے ایکشنز (Actions) اور طرح کے ہو جاتے ہیں۔ کسی دوسرے تیز نظر نے تاڑ لیا اور پکڑ لیا۔ وہ وہاں موجود تھا۔ اس کی تیز نظر تھی اس کو شک ہوا کہ ضرور کوئی گڑ بڑ ہے اور شور پڑ گیا۔ اس کی بغل میں سے کوئی پندرہ سیر کے قریب چاولوں کی گٹھڑی نکلی اور اس کو ملامت اور پھٹکار شروع ہو گئی۔ حضرت مسیح موعود بھی کسی وجہ سے ادھر تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا واقعہ ہے تو لوگوں نے یہ بتایا تو فرمایا :
’’محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اسے دے دو اور فضیحت نہ کرواور خداتعالیٰ کی ستّاری کا شیوہ اختیار کرو۔‘‘

(ماخوذازسیرت حضرت مسیح موعود ؑ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ جلد اول صفحہ 101)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جون 2021