• 20 جون, 2021

دعائے وصل

عرض یوں کرتا ہے محبوب ازل سے خاکسار
اے شہنشاه زمین و آسمان و ہر دو وار
جو بھی خوبی ہے جہاں میں سب تمہارا فیض ہے
کان حسن و چشمہ احساں تم ہی ہو اے نگار
اک نظر فضل و کرم کی اس طرف بھی پھیر دو
ٹکٹکی باندھے کھڑا ہے در پر اک امیدوار
اے مرے سورج ! دکھا دو پھر اسی انداز سے
وہ چمک اور وہ دمک اور وہ جھمک اور وہ بہار
پھر خرام ناز سے دیجے وہی جلوہ دکھا
پھر اسی لطف و ادا سے کیجئے دل کو شکار
اس شب تاریک پر صد مہر و مہ قرباں کروں
جس کی ظلمت میں جھلک اپنی دکھا دے وہ نگار
آئینہ حائل تھامجھ میں اور رخ دلدار میں
ورنہ کب کا راکھ ہو چکتا یہ تن پروانه وار
اے مرے دلبر مرے جاناں مرے دل کے سرور
ایک ہے تم سے دعا میری یہ باصد انکسار
کشتہ حسن و ادا و ناز پر ہو اک نظر
مدتوں سے یہ پڑا ہے بے کفن اور بے مزار
زندگی میں تو ترستا رہ گیا آغوش کو
مرگیا ہے۔ اب تو کرلیجے ذرا اس سے پیار
چادر مہر و مروت میں اسے دیجے لپیٹ
گوشه چشم محبت میں اس لیجے اتار
ایک نفخ روح کر کے اس کو پھر زندہ کریں
اور بسر یہ زندگی ہو از پئے رضوان یار
وصل کی گھڑیاں میسر ہوں ہمیں ہر روز و شب
دور ہوں فضلوں سے تیرے ہجر کی شب ہائے تار

(بخار دل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جون 2021