• 6 اگست, 2021

امام الزماں آخری آخری

یہ زمیں آخری یہ زماں آخری،
اور امام الزماں آخری آخری
اہلِ حق کے لئیے ہے یہ بات آخری،
اِک چمکتا نشاں آخری آخری
تاجدارِ حرم کے پرستار ہیں،
عشق و مستی میں مخمور و سرشار ہیں
مانتے ہیں اُسے خاتمُ الانبیاء،
رحمتِ دو جہاں آخری آخری
جتنے پردے تھے سارے ہٹائے گئے
آخریں اوّلیں سے ملائے گئے
اب خلافت کا ہے دائمی سلسلہ
جو بنا سائباں آخری آخری
ایک ہی دُھن ہے اپنی کہ پیغامِ حق
لے کے پہنچیں زمیں کے کناروں تلک
نیک فطرت ہے جو وہ ضرور آئے گا
ہم نے دے دی اذاں آخری آخری
راہِ حق سے کبھی بھی ہٹیں گے نہیں،
عہد و پیماں سے اپنے پھریں گے نہیں
جب ضرورت پڑی جاں لُٹا دیں گے ہم،
لکھ لو میرا بیاں آخری آخری
ہم جو بے گھر ہُوئے تو کدھر جائیں گے،
تیرے در سے اُٹھیں گے تو مر جائیں گے
اے مسیح الزماں! برکتوں کا نشاں
یہ ترا آستاں آخری آخری
جس کو شک ہے وہ آ کر یہاں دیکھ لے،
نُور ہی نُور ہے طُور ہی طُور ہے
بھر گیا ہے یقیں سے دلِ مُضطرب،
چھٹ گیا ہے گُماں آخری آخری
اِک زمانہ ہُوا دُکھ اُٹھائے ہُوئے، پُھول
دے کر اُنہیں سنگ کھائے ہُوئے
ہونے والا ہے مولیٰ کی تقدیر سے
فیصلہ اب یہاں آخری آخری

(ڈاکٹر فضل الرحمن۔تنزانیہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جولائی 2021