• 1 اکتوبر, 2020

جتنی تربیت علم سے ہوتی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں ہوتی (المصلح الموعودؓ)

جتنی تربیت علم سے ہوتی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں ہوتی (المصلح الموعودؓ)
احمدی خواتین اور لڑکیاں اسلامی تعلیم و اسلامی اخلاق سے آراستہ ہوں

حصول علم کا مرتبہ، اہمیت و فضیلت اور افادیت تو مسلّمہ ہے۔ آنحضورﷺ کے دور مبارک میں صحابہ کرامؓ علم کے حصول کے لیے نمایاں نظر آئے۔ حضرت ابو ہریرہؓ تو دربارِ رسولؐ میں دھونی رما بیٹھے تھے کہ کوئی فرمانِ رسولؐ میرے کانوں سے رہ نہ جائے۔ احادیث کی تلاش میں ہمارے اسلاف نے اُس دور میں جب کہ آمدورفت کے ذرائع بہت مشکل تھے سینکڑوں بلکہ ہزاروں میل کا سفر کیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّيْنِ (الکامل لابن عدی) کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ پھر حصول علم کا کوئی دورزندگی میں مقرر نہیں ہے جیسا کہ مشہور مقولہ ہے اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ اِلَى الْلَحْدِ کہ پنگھوڑے کے زمانہ سے لے کر لحد میں جانے تک علم حاصل کرو۔ آج چونکہ اس اداریہ میں احمد ی خواتین کو حصولِ علم کے حوالہ سے توجہ دلانی ہے جس کےلیے آنحضور ﷺ کا یہ راہنما فرمان موجود ہے فرمایا کہ ’’اپنے دین کا نصف علم اِس حمیراء (یعنی عائشہ صدیقہؓ) سے سیکھو۔‘‘

(زوجات النبیؐ الطّاہرات)

حضرت عائشہؓ کی اس یکتا فضیلت پر جہاں مسلمان خواتین بالخصوص احمدی مسلمان مستورات جس حد تک فخر کریں کم ہے وہاں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے حضرت عائشہؓ کی تقلید میں دینی علم حاصل کریں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بانی تنظیم لجنہ اماء اللہ کو مخاطب ہوکر الہاماً بتایا ہے کہ ’’اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کرلو تو دین حق کو ترقی حاصل ہوجائے گی۔‘‘ کیونکہ عورت کی گود، بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بنیادی درسگاہ ہے جہاں سے تربیت پا کر بچے میدان عمل کے شہسوار بنتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے تلاوتِ قرآن کی آواز اپنی ماں کے پیٹ میں سنی تھی۔ اور پیدائش کے بعد نہ صرف وہ عظیم مفسر ِقرآن بنے بلکہ خلیفۃ المسیح کے مقام پر فائز ہو کر ہزاروں لاکھوں کو دینی تعلیم دینے کا موجب بنے ۔

اسی لئے ماؤں کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ دوران حمل نیک کام بجالائیں۔ نمازیں پڑھیں، دعائیں کریں، تلاوت قرآن کریم کریں تا ان کے نقوش پیٹ میں موجود بچے کے اوپر آویزاں ہوں ۔اگر دوران حمل عورت کو سرسبز اور خوبصورت چیزیں جیسے سینریز (Sceneries) وغیرہ دیکھنے کی ترغیب بچے کی خوبصورتی پر دلالت کر سکتی ہے یا دودھ پینابچے کی رنگت پر اثر انداز ہوسکتا ہے تو دینی کام کا اثر بھی بچے پر نقش ہو گا۔ لہذا ماؤں کو دینی علوم کے حصول کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہیے۔ تا ان علوم کو مدنظر رکھ کر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کر سکیں۔

آج کل جب کہ علوم مختلفہ کا دور دورہ ہے۔ ہماری تو جہ دینی علوم سے ہٹ کر دنیوی علوم کی طرف ہوتی جارہی ہے۔ بعض مائیں بھی اپنے بچوں کے لئے جو توجہ دنیوی علوم کے حصول کی طرف دیتی ہیں اتنی توجہ دینی علوم کے لئے نہیں ہے ۔ اسکولز کے لیے مائیں اپنے بچوں کو صبح جگائیں گی۔ ان کو تیار کریں گی۔ ان کے بستوں اور بیگزکو خود چیک کریں گے اوروہ خود یا بچوں کے باپ انہیں اپنی نگرانی میں اسکولز چھوڑ کر بھی آئیں گے اور پھر Pick بھی کریں گے بلکہ شام کو خصوصیت سے مل بیٹھ کرHome work بھی کروائیں گےاور حسبِ توفیق ٹیوشن بھی لگوائیں گے۔ مگر دینی علوم کے لیے اتنی توجہ نہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیوی علوم کا حصول بھی ضروری ہے۔ لیکن دنیوی علوم کو مزیدسیکل کرنے کے لئے دینی علوم سے آشکار ہونا اور بچوں کو کروانا ضروری ہے۔ جس کی طرف ماؤں کو اور گھر میں موجود بہنوں اور خواتین کو خصوصیت سے توجہ دینی چاہیے۔ بچے علی الصباح بیدار ہوکر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد تلاوت قرآن کریم کریں اور ممکن ہو تو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔ اگر ممکن ہو تو روزنامہ الفضل لندن آن لائن سے ایک حدیث، ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ارشاد دربارخلافت پڑھ کر سنائیں جو ہر روز دن اور وقت کی مناسبت سے اخبار کے پہلے صفحے کی زینت بنتے ہیں۔ ہمارے والدین اور بزرگوں کا یہی طریق رہا ہے۔ بعض مائیں پُرانے زمانہ میں ان پڑھ ہوا کرتی تھیں اور وہ اپنے بچوں سے فرمائش کرتی تھیں کہ وہ اخبارالفضل یا کسی تنظیمی رسالہ کا پہلا صفحہ پڑھ کر سنائیں۔ مکرم ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام یافتہ ایک ایسی ہی ماں کی کوکھ سے پلے تھے جنہوں نے اپنی اولاد کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی روشناس کروایا اورڈاکٹر صاحب نے اپنی نوبل انعام یافتہ تھیوری کی بنیاد کو قرآن کریم میں قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ میں نے قرآن کریم سے سیکھا ہے ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 27سمبر 1920ء کو حاضرین جلسہ سالانہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’تم بے شک ظاہری علوم پڑھو مگر دین کا علم ضرور حاصل کرو اور اپنے اندر دین کی باتیں سمجھنے اور اخذ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔ اس لئے ایک تو قرآن کریم سیکھو اور دوسرے حضرت صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کی کتابیں پڑھو اور خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحب کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں۔‘‘

(اصلاح نفس، انوار العلوم جلد 5 صفحہ 447)

آج الحمدللہ ثم الحمدللہ جماعت احمدیہ میں دنیا بھر میں ایسی لاکھوں مائیں موجود ہیں جو خود دینی و دنیوی تعلیمات سے آراستہ ہیں اور اپنے بچوں کو انہی لائنوں پر استوار کر رہی ہیں۔ وہ خود حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب جو روحانی خزائن اور قرآن کریم کی تفسیر ہیں کا مطالعہ کرتی ہیں۔ نو ٹس تیار کرتی ہیں۔ تقاریر اور مضامین تیار کرتی ہیں اور پھر جماعت احمدیہ کے تمام بچوں کو اپنی روحانی اولاد سمجھتے ہوئے اس سے ان کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ ایڈیٹر کی حیثیت سے میرے پاس بے شمار احمدی مستورات اور بچیوں کے مضامین آتے رہے ہیں جن میں دینی علوم کو دنیوی علوم پر apply کیا ہوتا ہے اور آگے ان کی اولادیں ان سے فائدہ اٹھا کر ان علوم کو صدقہ جاریہ کے طور پر جاری رکھتی ہیں۔

قادیان میں ایک خاتون ہوا کرتی تھیں۔ افغانستان سے آئی تھیں اور سفید ان پڑھ۔ آپ کا نام مکرمہ اماں عائشہ پٹھانی تھا۔ آپ کی شادی ہو گئی۔ ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ چند سالوں کی جب یہ بچی ہوئی تو اسے کسی احمدی گھرانے میں قرآن پڑھنے کے لئے بھیجا گیا۔ اماں عائشہ نے بھی اپنی بچی کے ہمراہ اس گھر میں حصول تعلیم کے لیے جانا شروع کر دیا۔اُدھر بچی قرآن کی تعلیم کا سہرا پہن رہی تھی اِدھر اس کی ماں بھی تعلیم قرآن سے آراستہ ہو رہی تھی۔ قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کے بعد بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے گھر میں بچوں اور بچیوں کا تانتا بندھنے لگا جو صبح سے شام تک قرآن کریم ناظرہ پڑھتے تھے۔

آج انٹرنیٹ کا دور ہے ہماری بہنیں انٹرنیٹ پر بچیوں اور بچوں کو قرآن کریم اور دیگر دینی تعلیم دے سکتی ہیں بلکہ امریکہ میں بسنے والی احمدی خاتون یورپ میں رہنے والی بچیوں کو باآسانی قرآن کریم ناظرہ سکھلاسکتی ہیں۔ اسلامی تعلیم سے آراستہ کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے بچوں کے حوالے سے دینی تعلیم دینی ہے۔ بانی تنظیم لجنہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر اس شعر کو درج فرما کر بیان فرمایا :

پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

عمومی طور پراس شعر کو ایسے بچوں پر اپلائی کیا جاتا ہے جو بچپن میں ہی راہی بقا ہو جاتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ نہ کیا تو ان کا شمار بھی ان غنچوں میں ہوگا جو بن کھلے مرجھا گئے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 ستمبر 2020