• 23 ستمبر, 2021

پیکرِ تاباں و رخشاں ہیں وہ مثلِ آفتاب

نذرانہ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

وہ سراسر خندگی اور لطف سے معمور ہیں
نغمۂ دل ساز اُن کا دل زدوں نے جب سنا
اُس طبیبِ روح و جاں کا نسخۂ معجز نما
اک شجر کے سائے میں دو پل بتانے آئے جو
چشمِ ساقی کر گئی سیراب اُن کو دفعتاً
بھا سکی کچھ بھی نہ پھر رعنائیِ ماہِ تمام
پیکرِ تاباں و رخشاں ہیں وہ مثل ِ آفتاب
بوئے عنبر مُشکِ آہو یا شمیمِ گلستاں
اتّباعِ امرِ جاناں حاصلِ مقصودِ جاں
’’ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف‘‘
اُس حسینِ مصر کے تم نے تو بس قصے سنے
اک زماں سے ہجر میں محمود ؔ اُن کے ہے فگار
ہم ہوئے مسرور اُن سے خود بھی جو مسرور ہیں
پاگئے تسکینِ خاطر اب نہ وہ رنجور ہیں
کر گیا ہر غم غلط اور درد سب کافور ہیں
عمر بھر بیٹھے رہے پھر، دھوپ سے وہ دور ہیں
بن پیے دو گھونٹ بھی وہ بے خود و مخمور ہیں
جب تجلّی اُن کی دیکھی جو سراپا نور ہیں
کر رہے نابود سب ظلمات اور دیجور ہیں
اُس معطر ذات میں سب نکہتیں مذکور ہیں
رائگاں اِس کے سوا سب حکم اور دستور ہیں
رفعتیں سب اُن کی عالی ذات میں مستور ہیں
ہم جمالِ رشکِ یوسف سے ہوئے مسحور ہیں
دل کے سب زخمِ کُہن اب ہو رہے ناسور ہیں

(م م محمود ؔ)

پچھلا پڑھیں

مرد سربراہ کی حیثیت سے گھر والوں کے حقوق کا خیال رکھے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 ستمبر 2021