• 29 نومبر, 2020

عظیم کولمبیا

1821ءمیں لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کی طرح عظیم کولمبیا نے بھی سپین سے آزادی حاصل کی۔ اس وقت اس اتحادمیں جِسے عظیم کو لمبیا کا نام دیا گیا، کولمبیا کے ساتھ وینز ویلا، ایکواڈور، پیرو، بولیویا اور پانامہ بھی شامل تھے۔ لیکن 1829ءمیں وینز ویلا اور 1830ءمیں ایکواڈوراس اتحاد سے نکل گئے اور بقیہ ریاست کو New granada(نیا غر ناطہ)کانام دیا گیا۔ لیکن 1863ءمیں اس کا نام بدل کر صرف کولمبیا کر دیا گیا۔ یہ ملک سیا سی مصروفیات کا مرکز بن گیا۔ 30سال یہاں پر لبرل پارٹی نے حکومت کی اور پھر کنزرویٹوپارٹی غالب آگئی اور انہوں نے یہاں کا آئین پیش کیاجس میں سوسال تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ لبرل پارٹی کی بغاوت نے1899ءمیں ملک میں سول وار کا آغازکردیا۔

با لآخرلبرل پارٹی1902ءمیں شکست کھا گئی۔ اس دوران یہاں کوئی ایک لاکھ افراد مارے جا چکے تھے۔ 1930ء میں پانامہ نے بھی امریکن دباؤ کی وجہ سے آزادی کااعلان کردیا۔ اس کے بعد 40سال تک حالات پُرامن رہے ۔

1948ءسے1957ءتک اس کی وجہ سے 3لاکھ اشخاص مارے جا چکے تھے۔ 1957ءمیں دونوں پارٹیاں ایک صدر کے تحت اس شرط پر کام کر نے کے لئے تیار ہو گئیں کہ سیاسی دفا تر میں نصف اقتدار تقسیم ہو۔ چنانچہ اس فارمولے کے تحت 16سال تک استحکام رہا۔ 1978ءمیں یہ معاہدہ ختم ہوا مگر اس کی تجدید پر اتفاق کیا گیا اور 1986ء تک یہ معاہدہ قائم رہا اور اس پر عمل کیا جا تا رہا۔ 1986ءمیں لبرل کے امیدوار Virigilio Braco نے صدارتی انتخاب جیت لیا۔ FARCکے گوریلوں نے ایک سیاسی پارٹی بنا ئی اور 10سیٹیں کانگریس میں حاصل کیں۔ لیکن دائیں بازو والوں نے اس پارٹی کو ماننے سے انکار کر دیا اور 1990ءمیں ان کے مشترکہ امیدوارِصدارت (گوریلاپارٹی+لبرل پارٹی) Luis Carlos Galan کو قتل کر دیا گیا اور ملک میں پھر بد امنی کی صورت پیدا ہو گئی اور افواج اور گوریلوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

منشیات کا کاروبار

کولمبیا میں دو علاقے ہیں Medellinاور Cali۔ ان دوعلاقوں میں منشیات کا عالمی کاروبار ہوتا ہے اور یہ تمام جرائم کے مراکز ہیں۔ دونوں علاقوں کاطریقہ کار مختلف ہے۔ میڈیلین والے تشدّد پسندہیں اور کالی والے خاموش پسند ،اورمصلحت پسندی سے اپنا کام نکالتے ہیں ۔آپ اس سے ہی اندازہ لگا لیں کہ Sampresکی انتخابی مہم کے دوران (1979ءتا1995ء) کالی کے لوگوں نے 6 ملین ڈالر کی امداد دی۔ مارچ 1996ءمیں امریکہ نے کولمبیا کو ان ممالک کی لسٹ میں شامل کیا جہاں کی حکومت منشیات کے خلاف کو ئی کارروائی نہیں کرتی۔ جس پر سامپرس نے کالی کے بڑے بڑے کاروباریوں کوپکڑا اور جیل میں ڈال دیا۔ مگر عجیب بات تو یہ ہے کہ منشیات کے وڈیروں نے جیل سے بھی اپنے کاروبار کو جاری رکھا جس پر امریکہ نے کولمبیا کی امداد بند کردی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں جرائم کی تعداد بڑھ گئی اور گوریلا تنظیمیں FARCاورELNپھر سے برسرِپیکار ہو گئیں۔ یہاں پر 60قبائلی گروپ سے تعلق رکھنے والے 4لاکھ افراد آباد ہیں۔تعلیم بھی مفت ہے مگر دیہات میں بچے سکول ہی نہیں جا تے۔

معاشیات

کہنے کو تو یہاں کی معیشت برازیل کے بعد آتی ہے اور یہاں کی روایتی پیداوار یہ ہیں :کافی(عربی کافی )، گنا، روئی، کیلا، ٹیکسٹائل اور پھول۔ جو اشیاء باہربھجوائی جا تی ہیں ان میں ادویات، باربرداری کی مشینری، سیمنٹ، دھات کا سامان اور کاغذ ہیں ۔شعبہ کان کنی میں کوئلہ، نِکل، چاندی، سونا اور قیمتی پتھر، پلا ٹینم شامل ہیں۔ نیز یہ ملک سونا اور پلاٹینم اور قیمتی پتھر پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے۔ تیل بھی ان کی برآمدات کاایک چوتھا ئی ہے۔ گوریلا کی مہمات کی وجہ سے تیل کی پیداوار اور تقسیم میں کا فی دقّت پیدا ہو تی رہتی ہے۔

اگر یہاں منشیات پر کچھ کنٹرول ہوتا تو یہ اپنے بیرونی قرضوں پر نظر ثانی کا متحمل ہوتا۔ لیکن یہاں کی معیشت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔قدرتی وسائل کی یہاں پر کو ئی کمی نہیں ہے مگر اس کے انتظامات میں کمزوری ہے اور گورنمنٹ کا گوریلازپر کنٹرول نہ ہونے اور اکثر ہڑتالوں کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہو تا ہے۔ بینکنگ کی حالت بھی 1982ء سے مشکلات کا شکار ہے۔ 1999ء تک 20 فیصد لوگ فارغ تھے اور معاشی بدحالی کی وجہ سے ملکی محصولات میں بھی کافی کمی واقع ہو جا تی ہے اوراس خلا کو پُر کر نے کے لئے وقتاًفوقتاًیہ ڈالر کے بالمقابل اپنی کرنسی کی قیمت میں کمی کر دیتے ہیں

گورنمنٹ

ان کا صدر مقام Bogola ہے۔ سینٹ کی 102 اور اسمبلی کی 163سیٹیں ہیں۔ چار سال کے لئے ایک صدر منتخب ہوتا ہے جسکا انتخاب دوبارہ نہیں ہو سکتا۔ 1991ءمیں ہی تجدید کے 1886ء کا آئین جاری کیا گیا۔ یہ ملک 23حصوں میں منقسم ہے۔ یہاں آزادی تحریر وتقریر ہر کسی کو حاصل ہے۔ سرکاری زبان سپینش ہے۔ مذہباً اکثریت عیسائی رومن کیتھولک ہیں۔ آئینی طور پرمذہبی آزادی ہے ۔

2۔ وینز ویلا Venezuela

یہ ملک پہلے عظیم کولمبیا کا حصہ تھا۔ 1830ءمیں علیحدہ ہوا اور یہا ں کی پارٹیوں لبرل اور کنزرویٹو میں بذریعہ انتخابات امورِ سلطنت سر انجام دیئے جاتے رہے۔ 1998ءمیں صدرکرنل HugoChavez نے وینزویلا کی معیشت میں اصلاحات کرنے کا اعلان کیا اور تیل پر آزادی دی، چاہے جو مرضی کاروبار کرے۔ سیاست اور تیل کے کاروبار کوعلیحدہ علیحدہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے ملک خرابیوں اورغیرمستعدی کی طرف بڑھنے لگا۔

آبادی

یہاں کی زیا دہ تر آبادی سپینش اور انڈین کی مخلوط ہے۔1950ء میں یہاں یورپ سے 8لاکھ افراد نے ہجرت کی۔ اس طرح تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد خالص انڈین اوریجن کےہیں۔ یہ لوگ ایمازوما برازیل کے ساتھ ساتھ yanomameاورWayuir-Bariاورکولمبیا کے بارڈر کے ساتھ ساتھ آباد ہیں۔ یہ ملک اپنی دولت کے باوجود بہت سے سوشل مسائل کا شکار ہے۔ بہت سے دیہا تی شہروں میں منتقل ہو گئے ہیں ۔اور اس کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہو ئے ہیں عجیب بات تو یہ ہے کہ یہاں کے کسان ملک کو اتنی خوراک بھی مہیا نہیں کرتے کہ یہ خود کفیل ہو جائے۔ انہیں لوبیہ اور چاول بھی باہر سے درآمد کرنے پڑتے ہیں۔

معاشیات

یہ ملک قدرتی وسائل میں بہت امیر ہے اور مغربی کرّۂ ارض میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر یہاں موجود ہیں۔ Marcaibo اور Orinoco میں 1.5ٹریلین بیرل ریزرو ہیں اور اس کے علاوہ 356تریلین کیوبک میٹرقدرتی گیس کے ریزرو موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 500ملین ٹن کوئلہ کے ریزروہیں۔ ZuliaاورTachiraکے صوبوں میں Guri ڈیم جو شہر Gayana کے پاس ہے، اس سے کافی ہا ئیڈروالیکڑک توانائی حاصل ہوتی ہے۔ کان کنی میں ان کے پاس لوہے، کو ئلہ اور نِکل کے علاوہ سونا بھی ہے۔ یہ ملک سستی انرجی کی وجہ سے بھاری صنعتیں لگا سکتا ہے۔ یہاں دُنیا کا سب سے زیادہ ایلیمو نیم پیدا ہوتا ہے۔ سٹیل اور ایلیمو نیم کی 24 کے قریب کمپنیاں ہیں جو پرائیوٹ سیکٹر کو دی گئیں ہیں اور 345بلین ڈالر سالانہ پیدا کر تی ہیں۔ زرعی پیدا وار نہ ہو نے کے برابر ہے۔ دوسرے ملکوں کی طرح مکئی ان کی بنیادی پیداوار ہے۔ گنا بہت ہے۔ شوگر کی برآمدات کافی ہوتی ہیں۔ کوکوا اور کاٹن باہر بھجوائی جاتی ہے مگر غذائی کمی ہے اور ملک غذائی ضروریات میں خود کفیل نہیں۔ روپے کی کمی ہے اور کان کنی کے لئے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ تیل کے ذخائر کی وجہ سے 1980ء میں باوجودیہ کہ ان کے ذخائر 20 بلین ڈالرتھے مگر ملک مقروض تھا۔ 1982ء میں21بلین ڈالر کا قرضہ ری شیڈول کیا گیا، جس کی وجہ سےتیل کی قیمتوں میں کمی آئی اور محصولات 44فیصدی کم ہو گئے۔ نئی انتظامیہ نے 1989ء میں دوبارہ ورلڈ بنک اور IMFکی طرف رجوع کیا۔ 1999ء میں صدر Chavez کی حکومت نے اپنا یہ مطمح نظر بنا یا کہ عام انسان کی غربت کو دُور کیا جا ئے گا ۔اس نے بدعنوانی اور دیگر خرابیوں کو دُور کرنے کے لئے مہم جوئی شروع کی اور ضیاع کو ختم کیا۔ غیر مؤثر ملکی دفاتر کو بند کیا۔ تیل، گیس اور کان کنی کے شعبہ جات کو پرائیوٹ Investment کے لئے کھول دیا۔ پیٹروکیمیکل میں زیادہ توجہ دی۔ Crud تیل کابرآمد شروع کیا جس کی وجہ سے عمدہ نتا ئج کی امید کی جاسکتی ہے

حکومت

یہ فیڈرل ری پبلک ہے۔ 22 ریا ستیں اور ایک فیڈرل ضلع ہے۔ سینٹ کی 49 اور اسمبلی کی 201 سیٹیں ہیں۔ 23 جنوری 1961ء کاآئین لاگو ہے۔ ووٹ دینا ہر ایک کے لئے لازمی ہے۔ ووٹ دینے کی عمر18 سال ہے۔

3۔ ایکواڈور Ecuador

اس ملک میں جنوبی امریکہ کے تمام ملکوں سے زیادہ گنجان آبادی ہے۔ 48 فیصدی لوگ ساحلی علاقوں میں اور 47 فیصدی لوگ کوہِ Anden میں رہتے ہیں 1989ء کی شماریات کے مطابق یہاں 40 فیصدی لوگ وہ ہیں جو امریکنوں کے ساتھ مخلوط ہیں۔ 40 فیصدی وہ ہیں جو دیگر یورپیئن کے ساتھ مخلوط ہیں۔ 15 فیصدی خالص سفید فام، 5 فیصدی سیاہ فام ہیں اور 3 ملین کچوازبان بولنے والے اور بلند پہاڑیوں پر رہنے والے انڈین ہیں او ر 70 ہزار ڈھلانوں پر رہنے والے انڈین ہیں۔ یہاں پر Cholo سلسلہ کوہ میں اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو سفید فام کیساتھ مخلوط ہو ئے ہوں۔ پیرو میں بھی ان کے لئے یہی لفظ بولا جاتا ہے۔ ایک اور لفظ ہے جو ان کے لئے استعمال کیا جا تا ہے جو تین طرح سے مخلوط ہو تے ہیں اور montorico کہلاتے ہیں۔

معاشیات

1972ء سے قبل تو یہ زرعی ملک تھا یا ماہی گیری کی جاتی تھی لیکن پھر تیل نکل آنے کی وجہ سے ان کی خوش قسمتی شروع ہوئی۔ ایک تہائی لوگ ابھی بھی زراعت میں ہی مصروف رہتے ہیں اور45 فیصدی آمدنی غیر ملکوں سے حاصل کرتے ہیں۔ کیلے، کافی، کوکوا، پھل، سبزیاں، مچھلی خاص طور پر Tunaاور سارڈین اور دیگر sea food یہاں کی پیداواریں ہیں۔ کان کنی ابھی یہاں اتنی فائدہ بخش نہیں ہے zamozaکے علاقہ میں 700 ٹن گولڈ کے ریزرو ملے ہیں غیر ملکی کمپنیاں بھی یہاں پر سونے، چاندی، سکّے، زنک، اور تانبے میں (جنکا جنوب میں امکان ہے پا ئے جا تے ہیں) بہت دلچسپی لے رہی ہیں۔ 1980ءمیں یہ ملک بھی مقروض ملکوں کی صف میں شا مل ہو گیا۔ 1987ءکے زلزلے میں تیل کی پائپ کو کا فی نقصا ن پہنچا جس کی وجہ سے پبلک فائنا نس پر کافی بو جھ قرضے کا بڑھ گیا ہے۔

اس ملک کا نام اس میں خط استوا ہو نے کی وجہ سے رکھ دیا گیا ہے۔ جو پہاڑ اس ملک میں پا ئے جا تے ہیں ان میں دُنیا کا بیدار ترین مرکز زلزلہ پایا جاتا ہے۔ اس بلقان سے لگا تار دھواں خارج ہوتا رہتا ہے۔ یہاں بہت سے انڈین کے ایسے گروپ رہتے ہیں جو برازیل کےAmazon کولمبیا اور پیرو کی طرف سے (Commen)مشترک ہیں کیونکہ اُن ممالک کی سرحدیں بھی اس کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہاں کا دارالخلا فہ Guayagui کہلاتا ہے۔ اس ملک کے 21 صوبے ہیں۔ 1978ء کے آئین کے تحت صدر اور نائب صدر 4 سال کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں جو دوسری دفعہ بھی منتخب کئےجا سکتے ہیں۔ ایک ہی اسمبلی 77 ممبر ان پر مشتمل ہوتی ہے جن میں 65 صوبائی اور 12 قومی نمائندے ہوتے ہیں۔ 1994 ء میں آئین کی تجدید کی گئی تھی، یہاں کے شہری دوہری شہریت رکھ سکتے ہیں۔

4۔ پیرو۔ Peru

یہ لا طینی امریکہ کا تیسرا بڑا ملک ہے اور یہ فرانس کے دوگنے سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اس کا مغربی سا حل تمام ریگستان ہے جہاں بہت کم بارش ہوتی ہے۔ پھر یہاں سے سلسلۂ کوہ مشرق کی طرف آہستہ آہستہ بلند ہوتا جاتا ہے اور جونہی بلند ہوتا ہے، برفا نی ہو جا تا ہے اور پھر اس کی ڈھلانوں پر ایمازون کے وسیع میدانی جنگلات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کی ریگستانی پٹی 2250 کلو میٹر لمبی ہے اور تمام ملک کا 11فیصدی ہے جہاں پر ملک کی44 فیصدی آبادی رہتی ہے۔ یہ علاقہ معاشی اعتبار سے ملک پیرو کا دل ہے۔ جو زیادہ تر درآمدات خرچ کرتے اور نصف برآمدات کا مہیا کرتے ہیں۔ دریا جب آبپاشی کریں تو اس کی وادیاں سونا اُگلتی ہیں۔ یہاں روئی، گنا، چاول اور قیمتی سبزی Asparagus بہت ہوتی ہے۔ شمال کی جانب انگور، زیتون اور جنوب کی طرف مچھلی بہت ہوتی ہے۔ پیرو کے ساحلوں پر دُنیا کے دیگرتمام ساحلوں سے زیادہ مچھلی پکڑی جاتی ہے۔
اس کی بلندیاں ملک کا 26 فیصدی ہیں جو 3000 میٹر تک بلند ہیں اور ملک کی 50 فیصدی آبادی ان میں رہتی ہے۔ دریا جو اس سلسلۂ کوہ سے نکلتے ہیں ایمازون کے بڑے دریا میں جا شا مل ہوتے ہیں۔ یہ سلسلۂ کوہ گھاس سے ڈھکا ہوا ہے جہاں ریوڑ پائے جاتے ہیں جن سے اُون اکٹھی کی جاتی ہے۔ یہاں13 ملین ہیکٹر پر کھیتی با ڑی ہوتی ہے۔ روئی سے کپڑے بنانے کی صنعت نے ترقی کی، اسی طرح گوشت پیدا کرتے ہیں۔ ایک جانور یہاں پایا جاتا ہے جسےLlamasکہتے ہیں جو ٹرانسپورٹ کے کام آتا ہے۔ خوراک میں یہ لوگ خود کفیل ہیں۔ 1990ء میں 80 ہزار مزدورکانوں میں کام کر رہے تھے۔ ملک کا 62 فیصدی جنگل سے ڈھکا ہے مگر اس میں صرف 5 فیصدی آبادی رہتی ہے۔ دریا جو بڑے ہیں ان میں کشتی رانی کے ذریعے باربرداری کی جاتی ہے۔ لکڑی کے ریزرو میں ربڑ۔ پٹ سن، پھل کافی پائی جاتی ہیں۔ ریوڑپالتے ہیں اور تیل کے ذخائر بھی یہاں پر پا ئے جاتے ہیں۔ کوہ اندسن کے سلسلہ میں یہ بات بھی جاننے کے قابل ہے کہ یہاں دسمبر سے اپریل تک موسم گرما ہے اور مئی سے نومبر تک موسم سرما ہے۔

معاشی حالات

یہاں کے لوگ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے ذریعے سے کما تے ہیں۔ 1995ء کے ایک قا نون میں زمین کی ملکیت کو محدود کیا گیا تھا، اب اس قید کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ کوئی جتنی چا ہے زمین رکھے اور اس طرح سے زراعت میں زیادہ سے زیادہ رقم لگا نے کا حوصلہ بڑھے اور اس طرح سے زرعی اجناس کی برآمدات بڑھیں۔ فصلیں روئی چاول شوگر اور پھل اور قیمتی سبزی asparagus ہیں۔ 1991ء سے 1996ء کے درمیان 1.78 ملین ٹن مچھلی کا گوشت انہوں نے مہیا کیا تھا۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ Inea لوگوں کے وقت کی خود کفا لت کو حاصل کیا جا سکے۔

کان کنی یہاں روایتی طور پر ہے۔ گوریلوں کی مہمات اور پڑتالوں سے یہ پیشہ بہت متأثر ہو تا ہے۔ 1992 ءمیں کان کنی کے قانون بنائے گئے اور اس پیشہ کو پُر کشش بنا نے کی کو شش کی گئی چنا نچہ اس میں تر قی ہوئی ہے۔ 80کان کن کمپنیاں یہاں کام کر رہی ہیں۔ جنوبی ساحل سے ملحق سلسلۂ کوہ میں جو کا ن کنی کا علا قہ ہے چاندی۔ سونا۔ زنک۔ تانبا۔ لوہا نکلتا ہے۔ گورنمنٹ کی کمپنیاں پرائیویٹ کمپنیوں کو اپنے اثا ثے فروخت کر رہی ہیں۔ کچھ کانیں امریکہ کی کمپنیوں سے خریدی ہیں۔ یہاں اس ملک میں اعلیٰ درجہ کی تانبے کی کانیں، لاطینی امریکہ ممالک میں سے سب سے بڑی سونے کی کان بھی پائی جا تی ہے جو سالانہ ایک ملین اونس سونا پیدا کرتی ہے۔ پیرو لا طینی امریکہ میں سونا پیدا کرنے والا leading ملک ہے۔ اسی طرح تیل شمال مشرقی جنگلات میں موجود ہے، نئے ریزرو بھی وہاں پر تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ تیل کی پیدا وار 195 ملین بیرل تک ہے۔ قدرتی گیس کے ریزرو condensate کے ریزرو جنگلات میں 11ٹریلین کیوبک فٹ مو جود ہیں اور 600 ملین بیرل Condensate کے ہیں، بنام Petro Peru کمپنی بنائی گئی ہے۔ 1996ء میں اس نے کام شروع کیا یہ Condensate63 گُنا زیادہ تیل کے برابر ہے۔ 1980ءمیں رائل ڈچ تیل والوں نے یہ علاقے دریا فت کئے تھے، یہ ملک بھی اپنے بڑے پرا جیکٹ کے لئےورلڈ بنک اورIMF سے قرضے لیتا رہا اور مقروض ہو گیا۔

حکومت

اکتوبر1993 ءکا آئین لا گو ہے۔ 18 سال کے مرد اور عورتیں ووٹ دیتے ہیں اور60 سال تک ووٹ دینا ضروری ہے جو ووٹ نہ دے اُسے جر ما نہ ہو تا ہے۔ ایک ہی اسمبلی ہے جس کے 80 ممبرز ہیں۔ صدر 5 سال کے لئے منتخب کیا جا تا ہے اور دوبارہ بھی اُسے منتخب کیا جا سکتا ہے۔

5۔ بولیویاBolivia

سلسلۂ کوہ anden اس ملک میں 650کلو میٹر تک پا یاجاتا ہے۔ یہ سلسلۂ کوہ مغربی کنارہ پر بولیویا کو چِلّی سے جُدا کرتا ہے۔ اس میں 5800سے لے کر 6500میٹر تک بلند چو ٹیاں پا ئی جاتی ہیں، جن میں کئی زندہ بلقانی چو ٹیاں ہیں۔ مشرق کی طرف پہاڑ بغیر درختوں کے یعنی چٹیل ہیں۔ اکثر سطح سمندر سے 4000 میٹر بلند ہیں۔ بعد دوپہر خنک ہوائیں چلتی ہیں اور ریت کا طو فان ساتھ لے آتی ہیں۔ یہ بولیویا کے 102300 مربع علاقہ پر مشتمل ہے اور140 سے 840 کلو میٹر تک چوڑا ہے اور ملک کا 10فیصدی مغربی جانب ہموار ہے تو مغربی کنارہ اُسے دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ اس ملک کا شمالی حصہ زیادہ ذرخیزبھی ہے اور آباد بھی۔ البتہ جنوبی حصہ ریگستانی ہے اور آباد بھی نہیں۔ یہاں کچھ چھوٹے شہر ہیں مگر ان کان کنوں پر 70 فیصدی آبادی کا انحصار ہے۔ یہاں کے نصف لوگ دیہاتی ہیں۔ اس کے مشرقی کنارہ کے اندر جھیل Titicaca واقع ہے۔ اس علا قہ میں 6 چوٹیاں 6000 میٹر بلند ہیں اور اس کے شمال مشرقی جانب Amazon کی اُترائی ہے اور درّوں سے راستہ جو Villazon سے ہو تا ہوا ارجنٹائن کی طرف ujuni سے ملتا ہے۔

جھیلTiticaca کیا ہے بس Altiplano کے اختتام پر اندرون علاقہ ایک سمندر ہی ہے جو 8965مربع میٹر اور3810 میٹر کی بلندی پر ہے۔ دُنیا میں سب سے بلند وہ پا نی ہے جس میں کشتی رانی کی جا سکتی ہو۔ اس کی لمبائی 171 کلو میٹر اور چوڑائی 64 کلو میٹر ہے اور زیادہ سے زیادہ گہرائی 280 میٹر ہے۔ ٹمپریچر یہاں کا 10 سنٹی گریڈ ہے اور یہ Aymara انڈین آبادیوں کے لئے بہت مفید ثابت ہو تی ہے کہ اس کے پا نی سے اپنی زمین میں آبپا شی کرتے ہیں اور اپنی بھیڑیں اور اپنے جانور بنام llamas چراتے ہیں جو بار برداری کے کام آتا ہے۔ llamas یہاں ایک جانور ہے جو گدھے جیسا مگر سر چھوٹا اور اس کی گردن لمبی ہو تی ہے اور اس پر سے دو یا اڑھائی کلو اُون بھی اُتر آتی ہے۔ اسی قسم کا ایک اور جانور یہاں پر ہے جو Alpaca کہلا تا ہے۔ llamasسے چھوٹا ہے، صرف اُون پیدا کرنے والا جانور ہے۔ اس علاقہ میں آلو بہت ہو تے ہیں اور کئی قسم کے اجناس بھی اُگائے جاتے ہیں۔ مکئی یہاں کی غذا ہے، مچھلیاں کئی قسم کی ہیں جو جھیل Titicaca نے ان کے لئے جمع کی ہو تی ہیں مثلاBoga مچھلی سفید pijerry اور قوسِ قزح اور سالمون اور ٹراؤٹ وغیرہ۔ یہ اِرد گرد کے علاقوں میں بہت فروخت کی جاتی ہیں۔ یہاں پر انڈین کی کانیں جن میں چاندی کے بہت ذخائر ہیں اس سلسلۂ کوہ کو Cerro Rieo(امیر سلسلۂ کوہ ) کہا جاتا ہے۔ کان کنی کے مراکز La Paz سے 210 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں زیادہ تر کانیں investment کی کمی کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ حالانکہ یہاں پر چاندی، تانبے اور ٹِن، antimony، bismuth، سکے زنک اور سونے کے ذخائر موجود ہیں جہاں سے لو ہا، پوٹا شئیم lithium بھی نکالتے ہیں۔ سپینش لوگوں نے 200 سال تک یہاں سے چاندی نکا لی ہے۔ بولیو یا کے مشرق میں سونے کے مزید ذخائر دریافت ہوئے ہیں San cristoba کی کانوں سے سلور۔ زنک اور سکّہ نکالنے کے لئے 2001 ءمیں دوبارہ کھو لا گیا تھا۔

بولیویا میں مشرقی کنارہ کوہ سے برازیل کی سرحد تک اور شمال مشرق کی جانب پیراگوئے اور ارجنٹائن تک ہموار زمین ہے اور یہ ملک کا70 فیصدی ہے مگر اس علاقہ میں ملک کی 20 فیصدی آ با دی رہتی ہے اس میں بہت گہرا جنگل ہے۔ Jesmita مبلغین نے ان علاقوں میں حکو مت کی اور یہا ں پر san jose de chiguntos کی یاد گار ہے۔ ان مبلغین کو 1767ء میں ان علاقوں سے نکال دیا گیا تھا۔ کیو نکہ ان میں بہت خرابیاں پیدا ہو گئیں تھیں۔ اس علاقہ میں ایک دریا Mdeiraہے جوکہ Amazon میں جا گرتا ہے اور بہت سی آبشا ریں بنا تا ہوا جا تا ہے جس میں کشتی را نی کے ذ ریعہ با ربردا ری ممکن نہیں ہے۔ سڑکیں اب بنا ئی جا رہی ہیں جن کے ذریعہ لا پا ز اور santa eruz کو ملا یا جا رہا ہے۔ ان علا قو ں میں تیل، گیس، سونا اور لو ہا پا ئے جا تے ہیں۔ ان علاقو ں میں انو یسٹمنٹ ہو تو بولیویا بہت ترقی کر سکتا ہے۔

بولیو یا کی سیاست

عظیم کو لمبیا کے سا تھ آزا دی حا صل کی اور ان کے سا تھ شامل رہا۔ chaeo کی جنگ جیت جا نے کے بعد اس علا قے کا تشخص ابھرا۔ نو آ با دیا تی دَور میں ان کی چا ندی کی کا نیں بہت اہم رہی ہیں۔ ان کی تھو ڑی سی فو ج کو کا ن کن کمپنیو ں کی طرف سے بھی کا فی مدد دی جا تی تھی۔ la pazکا شہر جس کے اِرد گرد دکا نیں تھیں سیا ست کا مرکز بن گیا۔ بولیویا بہت بڑا ملک ہو تا مگر انہیں اپنی آزا دی کے اعلا ن سے قبل ہی اپنے کا فی علا قے سے ہا تھ دھو نے پڑ ے۔ سیا ست دا نوں کی کوشش رہی کہ بو لیو یا اور پیرو کا اتحاد قا ئم رہے۔ پیرو کی شکست سے Ataeanکا بہت سا علا قہ جو بو لیو یا میں تھا ان کے ہا تھ سے نکل گیا۔ جب برا زیل نے دخل دیا تو بدلے کے طور پر چِلیّ اس با ت پر را ضی ہو گیا کہ وہ عوض میں اریکا اور لاپاز کے درمیان ریلوے لا ئن بنا کر دے گا اور جب برازیل نےAero کے اہم علاقے میں 1903ء میں آ کر انتظا م سنبھالا تو وعدہ کیا گیا کہ بو لیویا کو ایک اور ریلوے لا ئن بنا کر دی جائے گی۔ لیکن موموری میڈیرا لا ئن کی تکمیل نہ ہو سکی اور بند کر دی گئی اور ایک نا مکمل ریلوے لا ئن بو لیویا کے حصہ میں آئی۔ 1932ء میں پیراگو ئے کے سا تھ چا کو کی زمین کا مسئلہ جنگ کی صو رت ا ختیا ر کر گیا۔ اس جنگ میں نا کا می کی صو رت میں تین چو تھائی چا کو سے ہاتھ دھو نے پڑے۔ بولیویا چا ہتا تھا کہ پیرا گو ئے کے دریا کے ذ ریعہ اس کی رسا ئی سمندر تک ہو جا ئے گی تا کہ تجا رت میں آسانی ہو مگر ایسا نہ ہو سکا۔

حکو مت

یہا ں پر 1967ء کے آ ئین کے مطا بق حکو مت چل رہی ہے۔ صدر 5 سا ل کے لئے منتخب کیا جا تا ہے اور دو سری دفعہ اس کا انتخاب نہیں ہو سکتا۔ سینٹ کے 27 ممبر ہیں اور اسمبلی کی 130 سیٹیں ہیں۔ یہا ں کے دو دا را لخلافے ہیں۔ لاپاز میں گو ر نمنٹ کا مرکز ہے اور Suere میں سپریم کو رٹ ہے۔ 1983ءمیں خشک سا لی نے بہت نقصا ن پہنچا یا ہے اور پھر مشرقی زیریں حصہ کو سیلاب نے بہت نقصان پہنچایا اور زراعت کا ستیا نا س ہو گیا، انفیکشن کا دباؤبڑھ گیا۔ ورلڈ بنک اور آئی۔ ایم۔ ایف سے قرضے لئے گئے اور بعض سا لوں میں 50 فیصدی کے حساب سے اور بعض میں 25 فیصدی کے حساب سے وا پس بھی کئے گئے۔ ان کے بین ا لاقوامی ریزرو 1997ء میں ایک بلین ڈا لر تھے۔ یہ ملک اپنے ہمسا یہ ملکوں کی نسبت کسی قدر بہتر معا شی طاقت کا حا مل ہے۔

(اقبال احمد نجم ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اکتوبر 2020