• 29 نومبر, 2020

قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کئے

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خسر تھے اور حضرت امّ ناصر کے والد تھے، ان کے بارے میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ قربانی میں اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اگر یہ کچھ نہ بھی دیں تب بھی ان کے قربانی کے وہ معیار جو پچھلے ہو چکے ہیں بہت اعلیٰ ہیں، وہ ہی کافی ہیں۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی مقصد کے لئے تحریک فرمائی تو انہوں نے (ڈاکٹر صاحب نے) اپنی تنخواہ جو اُس وقت ان کو ملی تھی فوری طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پوری کی پوری بھجوا دی۔ اُن کے قریب جو کوئی موجود تھے انہوں نے کہا کہ کچھ اپنے خرچ کرنے کے لئے بھی رکھ لیں، آپ کو بھی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے مسیح نے دین کی ضرورت کے لئے رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ میری ضرورتیں دینی ضرورتوں سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ اس لئے یہ ساری کی ساری رقم جو میرے پاس موجود ہے فوری طور پر بھجوا رہا ہوں۔ غرض کہ ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔ ایک دفعہ کسی نے اعتراض کیا کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد کوئی ایسا نہیں ہے جو اتنی قربانی کرنے والا ہو تو اس معترض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولوی نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ رکھتے ہیں۔ دوسرے ایسے اور ایسے ہیں۔ مَیں نہیں جانتا کہ آپ اس افتراء کا خداتعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی زندگی کی یہ بات کر رہے ہیں۔ اور آج اللہ کے فضل سے یہ تعداد کہیں کی کہیں پہنچی ہوئی ہے) اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص اور صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذو نادر میں داخل ہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔ اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔ پھر بھی مَیں ہمیشہ ان کو اَور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگر دل میں خوش ہوتا ہوں‘‘۔

(سیرت المہدی۔ حصہ اوّل صفحہ 165 ایڈیشن دوم مطبوعہ 1935ء)

(خطبۂ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020