• 29 نومبر, 2020

’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا نعرہ


حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس ہمدردیٔ خلق کے بارے میں اسلام کی یہ کیسی خوبصورت تعلیم ہے۔ کیا اس تعلیم کے دینے والے خدا کو چھوڑ کر اور اس زمانے کے فرستادے کو چھوڑ کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آیا ہم کہیں اور جا کر یہ معیار حاصل کر سکتے ہیں؟ کبھی نہیں کر سکتے۔ پس ہر ایک کے لئے ہماری جو محبت ہے یا نفرت کسی سے نہیں جو ہے یہ ایک آخری مقصدنہیں ہے بلکہ خدا کی رضا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کو ہمیشہ ہمیں سامنے رکھنا چاہئے اور اسی کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔

کچھ عرصہ ہوا مجھے احساس ہوا کہ خدمت انسانیت کے لئے ہیومینٹی فرسٹ کے نام سے جو ہمارا ادارہ ہے اس کے کام کرنیو الوں اور شاید انتظامیہ کو یہ خیال ہو گیا ہے کہ دین سے بالکل اپنے آپ کو علیحدہ کرنا ہے اور اگر علیحدہ کر کے خدمت کریں تو شاید ہماری دنیا میں زیادہ آؤ بھگت ہو گی۔ تو میں نے یہاں مرکزی انتظامیہ کو کہا کہ آپ کی اہمیت اس لئے ہے کہ دین سے جڑے ہوئے ہیں۔ جماعت کا کہیں نہ کہیں نام آتا ہے۔ اگر کہیں حسب ضرورت جماعت کا نام بھی استعمال کرنا پڑے تو لینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ پیش نظر رہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے خدمت انسانیت کرنی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کرو اس لئے ہم نے خدمت انسانیت کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اپنی عبادتوں کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے۔ بغیر اس کے خدمت انسانیت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ انہیں تو یہ بات سمجھ آ گئی لیکن باقی ممالک میں جو ہیومینٹی فرسٹ کی شاخیں ہیں ان کے کارکنوں اور انتظامیہ کو جن میں الا ماشاء اللہ تقریباً سارے احمدی ہی ہیں، یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے کام میں برکت اسی وقت پڑے گی جب خدا تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کریں گے اور اپنے کام کو اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے والا بنانے کی کوشش کریں گے اور اپنے کاموں کو دعاؤں سے شروع کریں گے۔ اس کے بغیر ہمارے کسی کام میں برکت نہیں پڑ سکتی، چاہے کوئی اپنی عقل سے منصوبہ بندی کرتا رہے۔ بہرحال یہ بات کہنی بھی ضروری تھی اور آج میں نے اسی ضمن میں بات کی ہے کیونکہ میں سوچ رہا تھا کہ کبھی ہیومینٹی فرسٹ کی انتظامیہ کو توجہ دلانے کے لئے کہوں گا، اس کا ذکر کروں گا تو چاہے ضمناً کہہ لیں یا اس تعلق میں میں کہہ لیں۔ بہرحال اس کا ذکر کرنا ضروری ہے اور اسی لئے مَیں نے یہ بات بیان کی ہے۔

اب میں ’’محبت سب کے لئے‘‘ کے نعرے کی بات جو میں کر رہا تھا اس کی طرف آتا ہوں۔ اور یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بے شک خدمت خلق اور ہمدردیٔ خلق اور محبت پھیلانے اور دشمنیاں ختم کرنے کی نیکی ایک بہت بڑی نیکی ہے لیکن صرف یہی نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نعرہ ہماری زندگی کا مقصد ہے۔ اگر ہمیں یہ خیال آ جائے کہ اگر ہم نے یہ کر لیا تو سب کچھ پا لیا۔

لیکن جیسا کہ پہلے بھی میں بتا آیا ہوں کہ یہ نعرہ اس مقصد کے حصول کا ایک حصہ ہے۔ اس منزل کی طرف بڑھنے کا ایک قدم ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور آپ کی غلامی میں اس زمانے میں اس کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجاہے۔ اور وہ مقصد ہے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح ادراک پیدا کرنا، خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے تمام احکامات پر چلنے کی کوشش کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنا مطمح نظر اور مقصد بنانا اور اس کے حصول کے لئے مقدور بھر کوشش کرنا کیونکہ یہی چیز ہے جس سے ہر قسم کے اعلیٰ اخلاق اور نیکیوں کے حصول کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ مئی 2014ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020