• 30 نومبر, 2020

اسلام اور بانیء اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں۔ دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے
کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے
یہ ثمر باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا
نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے
اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے
تھک گئے ہم تو انہیں باتوں کو کہتے کہتے
ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے
آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے
یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں
وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے
جل رہے ہیں یہ سبھی بغضوں میں اورکینوں میں
باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے
آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے
لو تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نے
آج ان نوروں کا اِک زور ہے اِس عاجز میں
دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے
جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں
ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے
مصطفے ؐپر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت
اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے
ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام
دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں
لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے
مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کے ہم
جب سے عشق اس کاتہِ دل میں بٹھایا ہم نے
زعم میں ان کے مسیحائی کا دعویٰ میرا
افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے
کافر و ملحد و دجّال ہمیں کہتے ہیں
نام کیا کیا غمِ ملّت میں رکھایا ہم نے
گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیض گھٹایا ہم نے
تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؐ
تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے
تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرّہ
اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے
صفِ دشمن کو کیا ہم نے بہ حجت پامال
سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے
نور دکھلا کے تیرا سب کو کیاملزم و خوار
سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے
نقش ہستی تری الفت سے مٹایا ہم نے
اپنا ہر ذرّہ تری راہ میں اڑایا ہم نے
تیرا میخانہ جو اِک مرجع عالم دیکھا
خم کا خم منہ سے بصد حرص لگایا ہم نے

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020