• 29 نومبر, 2020

خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 09؍ اکتوبر 2020ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍ اکتوبر 2020ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

کیا خوش قسمت ہیں یہ لوگ جو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے تھے اور اگلے جہان میں بھی اس کی رضا حاصل کرنے والے ہیں

امین الامّت، عشرہ مبشرہ کی بشارت پانے والے، آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت بدری صحابی حضرت ابو عبیدہ بن جَرَّاح رضی اللہ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

تین مرحومین پروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک صاحب شہید آف پشاور، عزیزم اسامہ صادق ابن محمد صادق صاحب طالبِ علم جامعہ احمدیہ جرمنی اور مکرم سلیم احمد ملک صاحب استاد جامعہ احمدیہ یوکے کا ذکر ِخیر اور نماز ِجنازہ غائب

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

گذشتہ خطبے میں حضرت ابو عبیدہ ؓکا ذکر ہو رہا تھا آج بھی اس کا بقیہ حصہ بیان ہو گا۔

جنگِ یرموک جو جنگ تھی وہ یرموک جوشام کے نواحی علاقے میں ایک وادی کا نام ہے اس کے نام کی وجہ سے یہ یرموک تھی ۔ 15؍ہجری میں شام میں سب سے بڑا معرکہ یرموک کی وادی میں دریائے یرموک کے کنارے ہوا۔ رومی لوگ بَاھَانْ کی قیادت میں اڑھائی لاکھ کے قریب جنگجو میدان میں لائے جبکہ مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب تھی جن میں ایک ہزار صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ان میں ایک سو کے قریب بدری صحابہ تھے۔

مشورے کے بعد مسلمانوں نے عارضی طور پر حِمْص میں سے اپنی فوجوں کو واپس بلایا اور وہاں کے عیسائیوں سے کہا کہ چونکہ ہم عارضی طور پر تمہاری حفاظت سے دست کش ہو رہے ہیں لہٰذا تمہارا جزیہ تمہیں واپس کیا جاتا ہے۔ جو ٹیکس ان سے لیا جاتا تھا واپس کیا جاتا ہے کیونکہ جس مقصد کے لیے یہ جزیہ لیا جا رہا ہے وہ تمہارے کام ہم نہیں کر سکتے۔ چنانچہ حمص والوں کو ان کا جزیہ واپس کیا گیا۔ یہ رقم کئی لاکھ کی تھی۔ جب یہ رقم انہیں واپس کی گئی تو عیسائی مسلمانوں کی حقیقت پسندی اور انصاف کی وجہ سے روتے تھے اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دعائیں کرتے تھے کہ اے رحم دل مسلمان حکمرانو!خدا تمہیں پھر واپس لائے۔ مسلمانوں کے حمص سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے رومیوں کی ہمت اَور بھی بڑھ گئی اور وہ ایک عظیم لشکر کے ساتھ یرموک پہنچ کر مسلمانوں کے مقابلے پر خیمہ زن ہوئے لیکن دل میں وہ مسلمانوں کے جوشِ ایمانی سے خائف بھی تھے اس لیے صلح کے بھی متمنّی تھے، کوشش کر رہے تھے کہ صلح بھی ہو جائے۔ رومیوں کے سپہ سالار بَاھَان نے جارج نامی رومی قاصد کو اسلامی لشکر کی طرف بھیجا۔ جب وہ اسلامی لشکر میں پہنچا تو مسلمان مغرب کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اس نے مسلمانوں کو خشوع و خضوع اور خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوتے دیکھا تو بہت متاثر ہوا۔ اس نے حضرت ابوعبیدہؓ سے چند سوالات کیے جن میں سے ایک یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی کہ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ اِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ اَلْقٰىهَآ اِلٰى مَرْيَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ اِنْتَهُوْا خَيْرًا لَّكُمْ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ سُبْحٰنَهٗٓ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا (النساء:172)

کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ کے متعلق حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ یقیناًً مسیح عیسیٰ ابنِ مریم محض اللہ کا رسول ہے اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف اتارا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے۔ پس اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور تین مت کہو۔ باز آؤ کہ اس میں تمہاری بھلائی ہے۔ یقیناً اللہ ہی واحد معبود ہے۔ وہ پاک ہے اس سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔ اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بحیثیت کارساز اللہ بہت کافی ہے۔

پھر اس کے بعد اگلی آیت پڑھی۔ لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ (النساء:173)

مسیح ہرگز اس امر کو برا نہیں منائے گا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ متصور ہو اور نہ ہی مقرب فرشتے اسے برا منائیں گے۔

جارج نے جب قرآن کریم کی اس تعلیم کو سنا تو پکار اٹھا کہ بےشک مسیح کے یہی اوصاف ہیں اور کہا کہ تمہارا پیغمبر سچا ہے اور مسلمان ہو گیا۔جو نمائندہ بن کے آیا تھا اب وہ اپنے لشکر میں واپس نہیں جانا چاہتا تھا لیکن حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا کہ رومیوں کو بدعہدی کا گمان ہو گا اس لیے تم واپس جاؤ اور فرمایا کہ کل جو سفیر یہاں سے جائے گا اس کے ساتھ آ جانا۔ عیسائی لشکر کو حضرت ابوعبیدہؓ نے اسلام کی دعوت دی اور اسلامی مساوات، اخوت اور اسلامی اخلاق کو ان کے سامنے پیش کیا۔ اگلے دن حضرت خالدؓ ان کی طرف گئے مگر نتیجہ لاحاصل رہا اور جنگ کی تیاری شروع ہو گئی۔ لشکر کے پیچھے مسلمان خواتین تھیں جو جنگ میں لشکریوں کو پانی پلاتیں، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتیں اور غازیوں کو جوش دلاتی تھیں۔ ان عورتوں میں حضرت اَسماء بنتِ ابوبکرؓ،حضرت ہند بنتِ عُتبہؓ،آپ حضرت ابوسفیانؓ کی بیوی تھیں اور فتح مکہ کے موقعے پر مسلمان ہوئی تھیں، حضرت اُمِّ اَبَان وغیرہ تھیں۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے جنگ سے پہلے مسلمان خواتین کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے مجاہدات! خیموں کی چوبیں اکھاڑ کر ہاتھوں میں لے لو۔ پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لو اور مسلمانوں کو قتال کی ترغیب دو۔ ان کو کہو آج تمہارا مقابلہ ہے اور تم نے پیٹھ نہیں دکھانی۔ اگر کامیاب ہوتا دیکھو تو اپنی جگہ پر ہی بیٹھی رہنا۔ اگر دیکھو کہ مسلمان پیچھے ہٹ رہے ہیں تو ان کے مونہوں پر چوبیں مارنا اور پتھر برسا کر انہیں میدان جنگ میں واپس بھیجنا اور اپنے بچے اوپر اٹھانا اور ان سے کہنا کہ جاؤ اور اپنے اہل و عیال اور اسلام کی خاطر جانیں دو۔ اس کے بعد آپؓ مردوں سے یوں مخاطب ہوئے۔ اللہ کے بندو! خدا کی مدد کے لیے آگے بڑھو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو ثبات عطا کرے گا۔ اے اللہ کے بندو! صبر کرو کہ صبر ہی کفر سے نجات کا ذریعہ، خدا کو راضی کرنے کا سبب اور عار کو دھونے والا ہے۔ اپنی صفوں کو مت توڑنا،لڑائی کی ابتدا تم نہ کرنا، نیزوں کو تان لو، ڈھالوں کو سنبھال لو اور زبانوں کو خدا کے ذکر سے تر رکھو تاخدا اپنی منشاکو پورا کرے۔ لڑائی کی ابتدا نہیں کرنی لیکن جب جنگ، حملہ ہو جائے تو پھر پیٹھ نہیں دکھانی۔

دشمنوں کے لشکر کے آگے اس وقت سونے کی صلیب تھی اور ان کے اسلحےکی چمک آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہی تھی۔ دوسرے وہ سر سے لے کے پیر تک لوہے میں ڈوبے ہوئے تھے یعنی زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس دن اپنے پیروں میں بیڑیاں بھی پہن لی تھیں کہ ہم میدانِ جنگ سے بھاگیں گے نہیں۔ یا مار دیں گے یا مر جائیں گے۔ پادری انجیل کے اقتباسات پڑھ کر انہیں جوش دلا رہے تھے۔ لشکرِ کفار سمندر کی لہروں کی طرح آگے بڑھا۔ دو اڑھائی لاکھ کی فوج تھی۔ یہ صرف تیس ہزار تھے۔ اور جنگ شروع ہوئی۔ ابتدا میں رومیوں کا پلڑا بھاری رہا اور انہوں نے مسلمانوں کو دھکیلنا شروع کیا۔

عیسائیوں نے مخفی طور پر یہ پتہ کرا لیا تھا کہ مسلمانوں میں صحابی کون کون سے ہیں اور پھر انہوں نے اپنے کچھ تیر انداز ایک ٹیلے پر بٹھا دیے اور انہیں ہدایت کر دی کہ وہ اپنے تیروں سے خصوصیت کے ساتھ صحابہ کو نشانہ بنائیں۔ وہ جانتے تھے کہ جب بڑے بڑے لوگ مارے گئے تو باقی فوج کے دل خود بخود ٹوٹ جائیں گے اور وہ میدان سے بھاگ جائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کئی صحابہ مارے بھی گئے اور کئی کی آنکھیں بھی ضائع ہو گئیں۔ یہ حالت دیکھی تو عکرمہ، ابوجہل کے بیٹے جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گئے تھے، جنہوں نے فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کی تھی کہ دعا کیجئے کہ اللہ مجھے تلافیٔ مافات یعنی پہلے گزرے ہوئے واقعات کی تلافی کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ اپنے کچھ ساتھیوں کو ساتھ لے کر حضرت ابوعبیدہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی کہ صحابہ بہت بڑی خدمات کر چکے ہیں۔ اب ہم جو بعد میں آئے ہیں ہمیں ثواب حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔ ہم لشکر کے قلب میں یعنی درمیان والے حصہ میں حملہ کریں گے اور عیسائی جرنیلوں کو مار ڈالیں گے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا کہ یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ اس طرح تو جتنے نوجوان جائیں گے وہ سب مارے جائیں گے۔ عکرمہؓ نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے مگر اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیںہے۔ کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ ہم نوجوان بچ جائیں اور صحابہ مارے جائیں۔ اب مسلمان ہوئے تو ایک ایمانی جوش تھا۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر جان قربان کرنے کی ایک تڑپ تھی۔ عکرمہؓ نے بار بار یہ اجازت چاہی کہ وہ چار سو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے لشکر کے مرکزی حصہ پر حملہ کریں۔ آخر حضرت ابوعبیدہؓ نے ان کے اصرار پر انہیں اجازت دے دی۔ اس پر انہوں نے لشکر کے مرکزی حصے پر حملہ کیا اور اسے شکست دے دی لیکن اس لڑائی میں ان میں سے اکثر نوجوان شہید ہو گئے اور مسلمان رومیوں کو ان کی خندقوں کی طرف دھکیلتے ہوئے لے گئے جو ان رومیوں نے اپنے پیچھے بنائی ہوئی تھیں۔ چونکہ انہوں نے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھا بھی ہو ا تھا تا کہ کوئی دوڑ نہ سکے اس لیے وہ پے در پے ان خندقوں میں گرتے گئے۔ ایک گرتا تھا تو دس اور بھی لے کے ساتھ ہی گرتا تھا۔ اسّی ہزار کفار پیچھے ہٹتے ہوئے دریائے یرموک میں ڈوب کر مر گئے۔ ایک لاکھ رومیوں کو مسلمانوں نے میدانِ جنگ میں قتل کیا۔ مسلمان تین ہزار کے قریب شہید ہوئے۔ یہ تھی جنگ یرموک۔

(ماخوذ از روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب، جلد2 صفحہ 21 تا 25)(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد10 صفحہ181)
(معجم البلدان جلد 5 صفحہ 497 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت مصلح موعودؓ خاص طور پر اس کے خاتمے کے وقت کے بارے میں کچھ بیان فرماتے ہیں کہ جب جنگ ختم ہوئی تو مسلمانوں نے خاص طور پر عکرمہؓ اور ان کے ساتھیوں کو تلاش کیا تو کیا دیکھا کہ ان آدمیوں میں سے بارہ شدید زخمی ہیں۔ ان میں ایک عکرمہ بھی تھے۔ ایک مسلمان سپاہی ان کے پاس آیا اور عکرمہ کی حالت دیکھی، بڑی خراب تھی۔ اس نے کہا اے عکرمہ! میرے پاس پانی کی چھاگل ہے تم کچھ پانی پی لو۔ عکرمہؓ نے منہ پھیر کر دیکھا تو پاس ہی حضرت عباسؓ کے بیٹے حضرت فضلؓ زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ عکرمہؓ نے اس مسلمان سے کہا کہ میری غیرت یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت مدد کی جب مَیں آپؐ کا شدید مخالف تھا وہ اور ان کی اولاد تو پیاس کی وجہ سے مر جائے اور میں پانی پی کر زندہ رہوں۔ ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا ایک نیا جذبہ پیدا تھا۔اس لیے پہلے انہیں یعنی حضرت فضل بن عباسؓ کو پانی پلا لو۔ اگر کچھ بچ جائے تو پھرمیرے پاس لے آنا۔ وہ مسلمان حضرت فضلؓ کے پاس گیا۔ انہوں نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ پہلے اسے پانی پلاؤ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔ وہ اس زخمی کے پاس گیا تو اس نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے پہلے اسے پلاؤ پانی۔ اس طرح وہ جس سپاہی کے پاس جاتا وہ اسے دوسرے کے پاس بھیج دیتا اور کوئی نہ پیتا جب وہ آخری زخمی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔ وہ واپس دوسرے کی طرف آیا یہاں تک کہ عکرمہ تک پہنچا مگر وہ سب فوت ہو چکے تھے۔

(ماخوذ از ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے، انوار العلوم جلد 26صفحہ 230-231)

شام کے لوگ مختلف مذاہب کے پیرو تھے۔ زبانوں کا اختلاف تھا۔ ان کی نسلیں مختلف تھیں۔ حضرت ابوعبیدہؓ بن جَرّاح نے ان میں عدل و مساوات قائم کیا۔ داخلی امن و سکون بحال کیا۔ ہر ایک کو مذہبی آزادی دی اور اس اسلامی روح کو جاری کیا کہ تمام لوگ حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور سب بھائی بھائی ہیں اور ان میں انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں یعنی بعض دفعہ یہ بھی غلط الزام لگایا جاتا ہے کہ زبردستی مسلمان بنایا۔ آپؓ نے ان رومیوں کو مذہبی آزادی دی۔ قبیلوں کی پہچان کروائی۔ امن سکون قائم فرمایا۔ مذہبی آزادی قائم فرمائی۔ حضرت ابوعبیدہؓ ہی کی کوششوں سے جو عرب لوگ شام میں آباد تھے اور عیسائی مذہب کے پیرو تھے اسلام کی آغوش میں آ گئے۔ تبلیغ سے آئے، طاقت سے نہیں آئے۔ یا اس کے علاوہ مسلمانوں کا نمونہ دیکھ کے آئے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ رومی اور عیسائی بھی آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام لے آئے۔ یرموک کی فتح سے چند روز قبل حضرت ابوبکرؓ کا وصال ہو گیا، آپؓ کی وفات ہو گئی اور حضرت عمرؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔ حضرت عمر ؓنے شام کی نگرانی اور فوجوں کی قیادت حضرت ابوعبیدہؓ کے سپرد کی۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ کو حضرت عمر ؓکی اس تقریر کا خط پہنچا تو اس وقت جنگ پورے زوروں پر تھی اس لیے حضرت ابوعبیدہؓ نے اس کا اظہار نہ کیا اور حضرت خالد بن ولید ؓکو جب اس کا علم ہوا کیونکہ حضرت خالد بن ولیدؓ اس وقت کمانڈر تھے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ نے اس کو کیوں چھپائے رکھا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا اس لیے کہ ہم دشمن کے بالمقابل تھے اور مَیں کسی طرح آپ کی دل شکنی نہیں چاہتا تھا۔ جب مسلمانوں کو فتح ہوئی تو حضرت خالد کا لشکر عراق واپس جانے لگا تو حضرت ابوعبیدہؓ نے حضرت خالد ؓکو کچھ دیر اپنے پاس روکے رکھا۔ جب حضرت خالدؓ روانہ ہونے لگے تو انہوں نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ اس امّت کے امین تمہارے والی ہیں یعنی حضرت ابوعبیدہؓ۔ اس پر ابوعبیدہؓ نے فرمایا مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ خالد بن ولید خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ غرض اس طرح محبت اور احترام کی فضا میں دونوں قائد ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔

(ماخوذ از روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد 2صفحہ 26-27)

یہ ہے مومن کا تقویٰ کہ نہ نام کی خواہش، نہ نمود کی خواہش، نہ کسی افسری اور عہدے کی خواہش۔ مقصد ہے تو صرف ایک کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم کی جائے۔ پس یہ لوگ جو ہیں یہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔ اور ہر عہدے دار کو بلکہ ہر احمدی کو ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔

فتح بیت المقدس کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ اس کا بھی تعلق حضرت ابو عبیدہؓ کے ساتھ ہے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر فلسطین کی طرف بڑھا۔ انہوں نے جب فلسطین کے شہروں کو فتح کر کے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا تو حضرت ابوعبیدہؓ کا لشکر بھی ان سے آن ملا۔ عیسائیوں نے قلعہ بندی سے تنگ آ کر صلح کی پیشکش کی لیکن شرط یہ رکھی کہ خود حضرت عمر ؓآکر صلح کا معاہدہ کریں۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے عیسائیوں کی اس پیشکش کو حضرت عمرؓ تک پہنچایا، حضرت عمرؓ کو اس کی اطلاع دی۔ حضرت عمرؓ حضرت علی ؓکو اپنے پیچھے امیر مقرر فرما کر ربیع الاول 16؍ ہجری کو مدینے سے روانہ ہو کر جابیہ مقام پر جو دمشق کے مضافات میں ایک بستی ہے وہاں پہنچے جہاں قائدین نے آپ کا استقبال کیا، وہاں قائدین موجود تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میرا بھائی کہاں ہے؟ لوگوں نے پوچھا یا امیر المومنینؓ! آپؓ کی مراد کون ہے؟ آپؓ نے فرمایا ابوعبیدہؓ۔ عرض کیا گیا کہ ابھی آتے ہیں۔ اتنے میں حضرت ابوعبیدہؓ اونٹنی پر سوار ہو کر آئے اور سلام عرض کر کے خیریت دریافت کی۔ حضرت عمر ؓنے باقی سب لوگوں کو جانے کے لیے کہا اور خود حضرت ابوعبیدہؓ کے ساتھ ان کی قیام گاہ پر تشریف لائے۔ گھر پہنچ کر دیکھا کہ وہاں صرف ایک تلوار، ڈھال، چٹائی اور ایک پیالے کے سوا کچھ نہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ابوعبیدہ ؓ!کچھ سامان بھی مہیا کر لیتے۔ گھر میں کچھ تو سامان رکھنا چاہیے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے عرض کی یا امیر المومنین! یہ ہمیں آسائش کی طرف مائل کر دے گا۔ اگرچہ میں سامان تو مہیا کر سکتا ہوں لیکن پھر آسائشوں اور سہولتوں کو دیکھ کر انہی چیزوں میں پڑ جاؤں گا۔ اس لیے مَیں نہیں چاہتا کہ ایسی چیزیں رکھوں۔ اس موقع پر حضرت بلالؓ کی اذان کا ایک روح پرور واقعہ بھی پیش آیا۔ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔ حضرت بلالؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اذان نہ دیتے تھے۔ اس موقعے پر ایک دفعہ نماز کا وقت ہوا تو لوگوں نے حضرت عمر ؓسے اصرار کیا کہ وہ حضرت بلالؓ کو اذان دینے کا حکم دیں۔ حضرت عمر ؓکے حکم پر حضرت بلالؓ نے جب اذان دی تو سب آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور لوگوں میں سب سے زیادہ حضرت عمرؓ روئے کیونکہ اس اذان نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد کرا دیا۔

(ماخوذ از روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد 2صفحہ 28تا 30)
(معجم البلدان جلد 2 صفحہ 106 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

رومیوں کی آخری کوشش کے بارے میں لکھا ہے کہ 17؍ ہجری میں رومیوں نے مسلمانوں سے شام واپس لینے کے لیے ایک آخری کوشش کی اور شمالی شام، الجزیرہ، شمالی عراق اور آرمینیا کے کردوں، بدوؤں، عیسائیوں اور ایرانیوں نے ہرقل سے اپیل کی کہ مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کی جائے۔ انہوں نے اپنی طرف سے تیس ہزار کے لشکر کی پیشکش کی۔ گو کہ اس وقت تک الجزیرہ کا اکثر حصہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فتح کر لیا تھا مگر تاہم وہاں کے بدوؤں پر ابھی تک ان کا قبضہ نہیں ہوا تھا اور قیصرِروم کی بحری طاقت ابھی برقرار تھی۔ اس نے موقعے کو غنیمت جانا اور ایک بڑی بحری فوج کے ساتھ حملہ کر دیا جبکہ بدوی قبائل کے ایک عظیم لشکر نے حِمص کا محاصرہ کر لیا اور شمالی شام کے کچھ شہروں نے بغاوت کر دی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے حضرت عمرؓ کو امدادی کمک کے لیے لکھا۔ حضرت عمر ؓنے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو فوراً کوفہ سے امدادی فوج بھیجنے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ حضرت سعدؓ نے قَعْقَاع بن عمرو کی زیر ِسرکردگی ایک فوج کوفہ سے روانہ کی مگر اس کے باوجود رومی لشکر اور مسلمانوں کے لشکر کی تعداد میں بہت زیادہ فرق تھا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے لشکر کے سپاہیوں سے ایک جوشیلا خطاب کیا اور فرمایا کہ مسلمانو! آج جو ثابت قدم رہ گیا اور اگر زندہ بچا تو ملک و مال اس کوملے گا اور اگر مارا گیا تو شہادت کی دولت ملے گی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ مشرک نہ ہو تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔ دونوں گروہوں میں جنگ ہوئی تو مسلمانوں کے مقابلے میں تھوڑی ہی دیر میں رومیوں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ مَرْجُ الدِّیْبَاج جو شام کے سرحدی علاقے پر ایک شہر مَصِّیْصَہْ ہے اس سے دس میل کے فاصلے پر ایک پہاڑی وادی کا نام ہے وہاں تک بھاگتے چلے گئے اور اس کے بعد کبھی قیصر کو شام کی طرف پیش قدمی کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔

(عشرہ مبشرہ از بشیر ساجد صفحہ 816-817، البدر پبلیکیشنز اردو بازار لاہور، 2000ء)
(سیر الصحابہ از شاہ معین الدین ندوی جلد 2 صفحہ 131، دارالاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان)
(معجم البلدان جلد 5صفحہ 118 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

طاعونِ عَمْوَاسْ: یہ بھی ایک جگہ ہے جو رملہ سے بیت المقدس کے راستے پر چھ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے۔ کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ اسے طاعون عمواس اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں سے اس مرض کا آغاز ہوا تھا۔ اس مرض سے شام میں لاتعداد اموات ہوئیں۔ بعض کے نزدیک اس سے پچیس ہزار کے قریب اموات ہوئیں۔ اس کی تفصیل بخاری کی ایک روایت میں ملتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓسَرْغْ مقام یعنی سرغ وہ ہے جو شام اور حجاز کے سرحدی علاقے میں وادی تبوک کی ایک بستی ہے جو مدینے سے تیرہ راتوں کی مسافت پر ہے۔ پرانی تاریخوں میں اس طرح ہی لکھا ہوتا تھا۔ اس کا مطلب کوئی ہزار میل کے قریب ہوگا، وہاں پہنچے تو آپؓ کی ملاقات فوجوں کے امراء حضرت ابوعبیدہؓ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔ ان لوگوں نے حضرت عمر ؓکو بتایا کہ شام کے ملک میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ حضرت عمر ؓنے اپنے پاس مشورے کے لیے اوّلین مہاجرین کو بلایا۔ حضرت عمرؓنے ان سے مشورہ کیا مگر مہاجرین میں اختلاف رائے ہو گئی۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہاں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جبکہ بعض نے کہا کہ اس لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓشامل ہیں اور ان کو اس وبا میں ڈالنا مناسب نہیں۔ حضرت عمر ؓنے مہاجرین کو واپس بھجوا دیا اور انصار کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا مگر انصار کی رائے میں بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔ حضرت عمر ؓنے انصار کو بھجوایا اور پھر فرمایا کہ قریش کے بوڑھے لوگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے۔ ان کو بلایا گیا۔ انہوں نے ایک زبان ہو کر مشورہ دیا کہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لَوٹ چلیں اور وبائی علاقے میں لوگوں کو نہ لے کے جائیں۔ حضرت عمر ؓنے ان لوگوں میں واپسی کا اعلان کروا دیا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے اس موقع پر سوال کیا کہ اللہ کی تقدیر سے فرار ممکن ہے؟ حضرت عمر ؓنے حضرت ابوعبیدہؓ سے فرمایا اے ابوعبیدہؓ! کاش تمہارے علاوہ کسی اَور نے یہ بات کہی ہوتی۔ ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار ہوتے ہوئے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔ کیونکہ ایک تقدیر سے دور جا رہے ہیں لیکن دوسری تقدیر بھی اللہ کی ہے اس طرف جا رہے ہیں۔ فرمایا کہ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ان کو لے کر ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہوں۔ ایک سرسبز ہو اور دوسرا خشک ہو تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر تم اپنے اونٹوں کو سرسبز جگہ پر چراؤ تو وہ اللہ کی تقدیر سے ہے اور اگر تم ان کو خشک جگہ پر چراؤ تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی آ گئے جو پہلے اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس اس مسئلے کا علم ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں کوئی وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر کوئی مرض کسی ایسی جگہ پر پھوٹ پڑے جہاں تم رہتے ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے باہر بھی مت نکلو۔ اس پر حضرت عمرؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔

(صحیح البخاری کتاب الطب باب ما یُذکر فی الطاعون حدیث نمبر 5729)
(معجم البلدان جلد 4 صفحہ 177-178 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
(معجم البلدان جلد 3 صفحہ 239 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

طاعون عمواس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ
’’حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شام تشریف لے گئے اور وہاں طاعون پڑگئی جو طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہے اور حضرت ابوعبیدہؓ اور اسلامی لشکر نے آپ کا استقبال کیا تو اس وقت صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے اس لیے آپ کو واپس تشریف لے جانا چاہیے۔ حضرت عمرؓ نے ان کے مشورہ کو قبول کر کے فیصلہ کر لیا کہ آپ واپس لوٹ جائیں گے۔ حضرت ابوعبیدہؓ ظاہر پر بڑا اصرار کرنے والے تھے۔ انہیں جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ أَ تَفِرُّ مِنَ الْقَضَاءِ کیا آپ قضائےالٰہی سے بھاگ رہے ہیں؟ حضرت عمرؓ نے کہا أَ فِرُّ مِنْ قَضَاءِ اللّٰہِ اِلٰی قَدَرِ اللّٰہِ۔ مَیں اللہ تعالیٰ کی قضا سے اس کی قدر کی طرف بھاگ رہا ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فیصلہ ہے اور ایک عام فیصلہ۔ یہ دونوں فیصلے اسی کے ہیں۔ کسی اَور کے نہیں۔ پس میں اس کے فیصلہ سے بھاگ نہیں رہا بلکہ اس کے ایک فیصلہ سے اس کے دوسرے فیصلہ کی طرف جا رہا ہوں۔ تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کو جب طاعون کی خبر ملی اور آپؓ نے مشورہ کے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا تو آپؓ نے دریافت فرمایا کہ شام میں تو پہلے بھی طاعون پڑا کرتی ہے۔ پھر لوگ ایسے موقعے پر کیا کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب طاعون پھیلتی ہے تو لوگ بھاگ کر اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں اور طاعون کا زور ٹوٹ جاتا ہے‘‘ یعنی بجائے شہر میں رہنے کے ارد گرد کے علاقوں میں باہر کھلی جگہوں پر چلے جاتے ہیں۔ ’’اسی مشورہ کی طرف آپؓ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک عام قانون بھی بنایا ہوا ہے کہ جو شخص طاعون کے مقام سے بھاگ کر اِدھر اُدھر کھلی ہوا میں چلا جائے وہ بچ جاتا ہے۔ پس جبکہ یہ قانون بھی خدا تعالیٰ کا ہی بنایا ہوا ہے تو میں اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا بلکہ اس کی قضا سے قدر کی طرف لوٹ رہا ہوں۔ یعنی خدا تعالیٰ کے خاص قانون کے مقابلہ میں اس کے عام قانون کی طرف جا رہا ہوں۔ پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں بھاگ رہا ہوں۔ میں صرف ایک قانون سے اس کے دوسرے قانون کی طرف جا رہا ہوں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 170-171)

حضرت عمر ؓمدینہ واپس آ گئے مگر آپؓ کو طاعون کے پھیلنے کی وجہ سے بہت گھبراہٹ اور پریشانی تھی۔ ایک دن حضرت عمر ؓنے حضرت ابوعبیدہؓ کو خط بھجوایا کہ مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے اس لیے جب تمہیں یہ خط پہنچے تو فوراً مدینے کے لیے روانہ ہو جانا۔ اگر خط رات کو پہنچے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرنا اور اگر خط صبح پہنچے تو رات ہونےکا انتظار نہ کرنا۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے جب وہ خط پڑھا تو کہنے لگے کہ مَیں امیر المومنین کی ضرورت کو جانتا ہوں۔ اللہ حضرت عمر ؓپر رحم کرے کہ وہ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے۔ سمجھ گئے کہ کیا گھبراہٹ ہے؟کس وجہ سے ہے؟ پھر اس خط کا جواب دیا کہ یا امیرالمومنین! میں آپؓ کی منشاکو سمجھ گیا ہوں۔ مجھے نہ بلائیے۔ یہیں رہنے دیجئے۔ مَیں مسلمان سپاہیوں میں سے ایک ہوں۔ جو مقدّر ہے وہ ہو کر رہے گا۔ مَیں ان سے کیسے منہ موڑ سکتا ہوں ؟حضرت عمر ؓنے جب وہ خط پڑھا تو آپؓ رو پڑے۔ مہاجرین میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا یا امیر المومنین !کیا حضرت ابوعبیدہؓ فوت ہو گئے۔ آپؓ نے فرمایا نہیں لیکن شاید ہو جائیں۔

(سیر اعلام النبلاء جلد 1 صفحہ 18-19، ابوعبیدہ بن الجراح، مؤسسة الرسالة بیروت لبنان، 1996ء)

پھر حضرت عمر ؓنے حضرت ابوعبیدہؓ کو لکھا کہ مسلمانوں کو اس خطے سے نکال کر کسی صحت افزا مقام پر لے جاؤ۔ جب بھی کوئی مسلمان سپاہی طاعون سے شہید ہوتا تو حضرت ابوعبیدہؓ رو پڑتے اور اللہ سے شہادت طلب کرتے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس وقت آپؓ یہ دعا پڑھتے کہ اے اللہ!کیا ابوعبیدہ کی آل کا اس میں یعنی شہادت میں حصہ نہیں۔ ایک دن حضرت ابوعبیدہؓ کی انگلی پر ایک چھوٹی سی پھنسی نمودار ہوئی۔ اس کو دیکھ کر آپ نے کہا امید ہے کہ اللہ اس تھوڑے میں برکت ڈالے گا اور جب تھوڑے میں برکت ہو تو وہ بہت ہو جاتا ہے۔

عِرْبَاض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوعبیدہؓ طاعون سے بیمار ہوئے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت ابوعبیدہؓ نے میرے سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو طاعون سے مرے وہ شہید ہے۔ جو پیٹ کی بیماری سے مرے وہ شہید ہے۔ جو ڈوب کر مرے وہ شہید ہے اور جو چھت کے گرنے سے دب کر مر جائے وہ شہید ہے۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ کا آخری وقت آیا تو لوگوں سے فرمایا کہ لوگو! مَیں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اگر قبول کرو گے تو فائدے میں رہو گے۔ نصیحت یہ ہے کہ نماز کو قائم کرنا۔ زکوٰة ادا کرنا۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ صدقہ دیتے رہنا۔ حج کرنا۔ عمرہ کرنا۔ ایک دوسرے کو اچھی باتوں کی تاکید کرنا۔ اپنے امراء سے خیر خواہی کرنا۔ انہیں دھوکا نہ دینا۔ دیکھو تمہیں عورتیں تمہارے فرائض سے غافل نہ کر دیں۔ اگر آدمی ہزار سال بھی زندہ رہے تب بھی ایک دن اسے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے جیسا میں رخصت ہوا چاہتا ہوں۔ اللہ نے بنی آدم کے لیے موت مقدر کر رکھی ہے۔ ہر شخص مرے گا۔ عقلمند وہ ہے جو موت کے لیے تیار رہتا ہے اور اس دن کے لیے تیاری کرتا ہے۔ امیر المومنین کو میرا سلام پہنچا دینا اور عرض کرنا کہ میں نے تمام امانتیں ادا کر دی ہیں۔ پھر حضرت ابوعبیدہؓ نے فرمایا کہ مجھے میرے فیصلہ کے مطابق یہیں دفن کر دینا۔ چنانچہ اردن کی زمین میں وادی بَیْسَانمیں آپؓ کی قبر ہے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت ابوعبیدہ بن جَرّاحؓ جَابِیَہ سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے لیے جا رہے تھے تو راستہ میں آپؓ کی وفات کا وقت آ گیا اور دوسری روایت کے مطابق آپؓ کی وفات شام کے علاقہ فِحْلمیں ہوئی اور آپؓ کی قبر بَیْسَان مقام کے پاس ہے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے مرض الموت میں حضرت معاذ بن جبلؓ کو اپنا قائمقام مقرر فرمایا۔ جب حضرت ابوعبیدہؓ کی وفات ہوئی تو حضرت معاذؓ نے لوگوں سے کہا لوگو! آج ہم میں سے وہ شخص جدا ہوا ہے جس سے زیادہ صاف دل،بے کینہ،لوگوں سے محبت کرنے والا اور ان کا خیر خواہ مَیں نے نہیں دیکھا۔ دعا کرو کہ اللہ اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

(ماخوذ از روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد 2 صفحہ 31تا 33)
(سیر اعلام النبلاء جلد1 صفحہ 22-23 ابو عبیدہ بن الجراح، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت لبنان 1996ء)

حضرت ابوعبیدہ بن جَرّاح ؓنے 18؍ہجری میں وفات پا ئی۔ اس وقت آپ کی عمر 58سال تھی۔

(استیعاب جلد2 صفحہ 343 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2010ء)

ایک دفعہ حضرت عمر ؓنے حضرت ابوعبیدہؓ کو چار ہزار درہم اور چار سو دینار بھجوائے اور اپنے قاصد سے فرمایا کہ دیکھنا وہ اس مال کا کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ قاصد یہ مال لے کر حضرت ابوعبیدہؓ کے پاس پہنچا تو حضرت ابوعبیدہؓ نے ساری رقم لوگوں میں تقسیم کر دی۔ قاصد نے یہ تمام واقعہ حضرت عمرؓ سے بیان کیا جس پر حضرت عمر ؓنے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اسلام میں ابوعبیدہؓ جیسے پیدا کیے۔

حضرت عمر ؓنے ایک دفعہ اپنے ساتھیوں سے کہا کسی چیز کی خواہش کرو۔ کسی نے کہا میری خواہش ہے کہ یہ گھر سونے سے بھر جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور صدقہ کر دوں۔ ایک شخص نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ یہ مکان ہیرے جواہرات سے بھر جائے اور میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور صدقہ کر دوں۔ پھر حضرت عمر ؓنے کہا اور خواہش کرو۔ انہوں نے کہا اے امیر المومنین! ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا خواہش کریں۔ حضرت عمر ؓنے فرمایا کہ میری یہ خواہش ہے کہ یہ گھر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ اور سالم مولیٰ ابوحذیفہؓ اور حضرت حذیفہ بن یمانؓ جیسے لوگوں سے بھرا ہوا ہو یعنی ایسے وہ لوگ ہوں۔

(المستدرک علی الصحیحین جلد 3 صفحہ 252 حدیث 5005 کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر مناقب سالم مولیٰ ابی حذیفہ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)

پس کیا خوش قسمت ہیں یہ لوگ جو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے تھے اور اگلے جہان میں بھی اس کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔ آج ان کا ذکر ختم ہوا۔

کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔ ان کا ذکر یوں ہے۔ ایک ہمارے شہیدپروفیسر ڈاکٹر نعیم الدین خٹک صاحب ابن فضل الدین خٹک صاحب ضلع پشاور ہیں جو پچھلے دنوں میں شہید ہوئے تھے۔ 5؍ اکتوبر کو دوپہر ڈیڑھ بجے فائر کر کے ان کو مخالفین نے شہید کر دیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ تقریباً ڈیڑھ بجے سپیریئر سائنس کالج جس میں پڑھاتے تھے وہاں سے پڑھانے کے بعد اپنے گھر جا رہے تھے تو دو موٹر سائیکل سوار آئے اور انہوں نے فائرنگ کر کے ان کو موقعے پر شہید کر دیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ شہید کی عمر 56سال تھی۔ پچیس سال سے آپ شعبہ تدریس سے وابستہ تھے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ایم فِل کیا تھا اور اس کے بعد سکالرشپ پر چائنہ چلے گئے۔ وہاں مائیکرو انوائرنمینٹل بائیالوجی میں پی ایچ ڈی کی۔ اس کے بعد اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں خدمات سرانجام دیں۔ پشاور یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ پی ایچ ڈی کا جو پینل ہوتا ہے لوگوں کے، لڑکوں کے، سٹوڈنٹس کے انٹرویو لینے والا اس کے ممبر تھے۔ پاکستان کے مختلف تعلیمی ادارے ان کو لیکچر کے لیے بلاتے رہتے تھے۔ یہ محکمہ تعلیم سے ہی زیادہ تر منسلک رہے۔

ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا رکن الدین صاحب خٹک کے ذریعے سے ہوا جو ضلع کرک کے تھے اور دادی محترمہ بی بی نور نامہ صاحبہ بھی احمدی ہوئیں۔ ان کے والد کا نام شیر زمان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور قادیان سے واپسی پر حضور علیہ السلام کی طرف سے انہیں ایک کرتہ مبارک بھی تحفے میں ملا تھا۔ یہ تبرک ان کی فیملی میں ابھی تک ہے۔ شہید مرحوم کے والد فضل الدین صاحب محکمہ لائیو سٹاک میں ویٹرنری ڈاکٹر تھے اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ معروف شاعر بھی تھے۔ ان کی والدہ محبوبۃ الرحمٰن صاحبہ ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تعلیم کی تھیں وہیں سے ریٹائرڈ ہوئیں۔ کئی سال ان کی فیملی کو مخالفانہ حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہید مرحوم کے سسر بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ صدر جماعت اچینی پایان پشاور 2019ء میں اغوا کیے گئے تھے۔ ان کا تاحال کچھ پتہ نہیں لگا کہ یہ کہاں ہیں۔ بازیابی نہیں ہوئی۔ شہید مرحوم نمایاں خصوصیات کے حامل تھے۔ جماعتی خدمات کے طور پرباوجود اس کے کہ یہ پڑھے لکھے تھے لیکن سیکیورٹی ڈیوٹی دینے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ مہمان نوازی ان کا بڑا خاص شیوہ تھا۔ ہمدردی خلق، غریبوں کی امداد، خاندان کے ہر فرد سے ہمدردی کا تعلق، تعلیم کی طرف خصوصی توجہ تھی۔ احمدی بچوں کو بار بار تعلیم حاصل کرنے کی نصیحت کرتے۔ اپنے بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کی اہلیہ محترمہ سعدیہ بشریٰ صاحبہ نے بتایا کہ شہید مرحوم شہادت سے ایک ہفتہ قبل ربوہ آ کر جب بہشتی مقبرہ میں گئے تو کہا کہ کاش ہمیں بھی یہاں جگہ ملے لیکن پھر کہنے لگے کہ ہماری قسمت کہاں کہ ہمیں یہاں جگہ ملے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کو اس طرح پورا کیا کہ ان کی تدفین ربوہ میں ہو گئی ہے۔ شہید مرحوم کے برادر نسبتی ڈاکٹر منیر احمد خان ہیں جو آج کل طاہر ہارٹ میں کام کرتے ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ شہید نے ان کو بتایا تھا کہ ایک مخالف پروفیسر ہے جو ان کی اور ان کے بچوں کی تصویریں مخالفین کو دکھاتا ہے اور ان کو ترغیب دے رہا ہے کہ ان کو مار دو۔ ان کے گھر کے باہر بھی مخالفانہ بینر لگائے گئے تھے اور کہتے ہیں کہ وفات سے ایک ہفتہ پہلے یہاں مجھے ملنے آئے تو میں نے کہا ہمارے ساتھ کھانا کھالیں۔ کہنے لگے نہیں کھانا میں لنگر خانے میں کھاؤں گا اور جو مزہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر کے کھانے کا ہے اور جو برکت وہاں سے ملتی ہے وہ کہیں اَور سے نہیں ملتی۔ آئندہ پھر کبھی دیکھیں گے۔ شہید مرحوم کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ سعدیہ نعیم صاحبہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ ایک بیٹی شادی شدہ ہیں اور باقی دو بیٹیاں پڑھائی کر رہی ہیں۔ ایک بیٹا ان کا انجنیئر ہے اور ایک بیٹا فرسٹ ایئر کا طالب علم ہے۔ کلیم الدین خٹک انجنیئر ہیں اور نورالدین خٹک فرسٹ ایئر کے طالبعلم ہیں۔ ان کے ایک اور رشتہ دار نوید احمد صاحب امیر جماعت پشاور جو جماعتی خدمت کر رہے ہیں وہ بھی ان کے برادر نسبتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ عزیزم اسامہ صادق ابن محمد صادق صاحب کا ہے۔جامعہ احمدیہ جرمنی کے طالبعلم تھے۔ گذشتہ دنوں جرمنی میں دریائے رائن میں ڈوب کر وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ وفات کے وقت عزیزم کی عمر بیس سال تھی۔ پاکستان سے چک سکندر گجرات کے رہنے والے تھے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے لواحقین میں والدین کے علاوہ ان کی پانچ بہنیں اور ایک بھائی شامل ہیں۔ ان کے خاندان میں احمدیت ان کے ددھیال کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کے دَور میں آئی تھی اور ان کے دادا اپنے دو بھائیوں سمیت احمدی ہوئے تھے۔ بعد میں دوسرے تو احمدیت سے پھر گئے لیکن ان کے دادا احمدیت پر قائم رہے۔ ننھیال میں احمدیت ان کے پڑنانا حضرت شاہ محمد صاحب اور ان کے والد حضرت لنگر محمد صاحب کے ذریعےآئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے جنہوں نے 1903ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر جہلم میں بیعت کی تھی۔ چک سکندر میں 1989ء میں جماعتی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ احمدیوں کے خلاف بہت جلوس نکالے گئے تو عزیزم کے والدین کو بھی بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ عزیزم کی والدہ کو زدوکوب بھی کیا گیا۔ ان کے والد صادق صاحب پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جو سات سال تک چلتا رہا۔ بہرحال پھر یہ جرمنی آ گئے۔ ابتدائی تعلیم تو اس نے وہیں سے حاصل کی تھی۔ یہاں آ کے پھر عزیز نے جامعہ میں داخلہ لیا اور جامعہ احمدیہ کا تیسرا سال حال ہی میں مکمل کیا تھا لیکن بہرحال اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ اس کو اپنے پاس بلا لیا۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ مَیں مرحوم کی جتنی بھی تعریف کروں تھوڑی ہے کیونکہ اس نے تھوڑی سی عمر میں بہت کام کیے۔ وہ ایک طالبعلم ہوتے ہوئے بہت ہی ہونہار بچہ تھا۔ اس کا زیادہ وقت پڑھائی میں گزرتا۔ کورونا کی وجہ سے اس نے چھ ماہ گھر پر گزارے تھے۔ نماز باجماعت کے ساتھ ساتھ رمضان میں روزے بھی سارے رکھے بلکہ وہی نماز کی امامت کراتا اور نماز تراویح بھی باجماعت پڑھاتا تھا۔ چھٹیوں کے بعد جامعہ جانے کی تیاری کر رہا تھا مگر اللہ کو پیارا ہو گیا۔ ان کی والدہ کہتی ہیں: بے پناہ خوبیوں کا مالک تھا اور بڑی ذمے داری سے ہر کام کرتا تھا اور یہ بھی کہ جلد مکمل ہو جائے۔ بڑی سادہ طبیعت تھی۔ بہت کم گو تھا۔ ضرورت کے وقت بات کرتا۔ والدین کا انتہائی فرمانبردار، مضبوط ارادہ رکھنے والا، طبیعت سنجیدہ لیکن دُوراندیش۔ مختلف زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا اوراس کے لیے عربی، فارسی اور انگلش اور جرمن پر خاص طور پر توجہ دیتا تھا۔ جرمنی کے نیشنل سیکرٹری تبلیغ فرید صاحب لکھتے ہیں کہ اسامہ کئی خوبیوں کا مالک تھا۔ ان میں ایک خوبی شوق سے تبلیغی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بھی تھی۔ اپنی وفات سے دو روز قبل بھی مسلسل تین دن فلائر کی تقسیم کے لیے مشرقی جرمنی گیا تھا۔ جب بھی فلائر تقسیم کرنے کا پوچھا گیا تو کبھی انکار نہیں کیا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جامعہ جرمنی سے فارغ التحصیل مربی صہیب ناصر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے سے چار سال جونیئر تھا لیکن عبادت میں وہ میرے لیے نمونہ تھا۔ مسجد میں نماز کے لیے اکثر پہلی صف میں دیکھا۔ مسجد میں نماز سے پہلے آ کر نوافل ادا کیا کرتا۔ نماز کے بعد اکثر ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتا۔ ان طلبہ میں شامل تھا جو سب سے پہلے مسجد آتے اور سب سے آخر پر مسجد سے نکلتے۔ اسی طرح جمعے کی نماز میں بھی پہلی صف میں بیٹھتا۔ جامعہ کی پڑھائی میں بڑا سنجیدہ تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند فرمائے۔ اس کے والدین کو اور بہن بھائیوں کو صبر عطا فرمائے۔

اگلا جنازہ سلیم احمد ملک صاحب کا ہےجو یہاں پہلے تو حکومت میں یا تعلیمی اداروں میں شعبہ تعلیم سے منسلک رہے۔ اس کے بعد، ریٹائرمنٹ کے بعد جب جامعہ شروع ہوا تو جامعہ کے استاد بھی رہے۔ 87سال کی عمر میں 24؍ستمبر کو ان کی وفات ہوئی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے دادا حضرت ملک نور الدین صاحب اور والد حضرت ملک عزیز احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ ان کے والد صاحب کا ایک واقعہ ان کی والدہ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ملک صاحب کے گھر والے افراد میں سے، ان کے ددھیال میں سے ایک بار بہت سے افراد کسی بیماری کی وجہ سے وفات پا گئے تو اُن کی والدہ نے یعنی اِن کی دادی نے شاید حکیم مولانا نورالدین صاحب کو بچےکی حالت بتائی۔ مولوی صاحب فوراً ان کو دیکھنے کے لیے ان کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ بچے کے بچنے کا بہت کم امکان ہے۔ صرف دعا ہی بچا سکتی ہے۔ اس کے بعد حضرت خلیفة المسیح الاولؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست دعا بھی کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ کی سیڑھیوں پر ہی مل گئے۔ وہیں درخواست کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی جا کر بچے کو دیکھ لیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ان کے گھر تشریف لے گئے اور گھر آ کر بچے کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ یہ بچہ ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائے گا۔ چنانچہ حضور اقدسؑ کی دعا کا ہی معجزہ تھا کہ بچہ ٹھیک ہو گیا اور پھر مرحوم کے والد ستّر سال تک زندہ رہے۔

سلیم ملک صاحب نے ابتدائی تعلیم قادیان سے حاصل کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد سیالکوٹ میں مقیم ہو گئے۔ وہیں کالج میں تعلیم حاصل کی ،پھر کراچی تشریف لے گئے۔ وہاں سائنس کے مضامین میں تعلیم حاصل کی۔ 1960ء میں یوکے آ گئے۔ یہاں ریڈنگ یونیورسٹی میں کئی سال تک جیولوجیکل کیمسٹری میں پروفیسر رہے۔ ابتدا سے ہی مرحوم کو یوکے جماعت میں مختلف شعبوں میں کام کی توفیق ملی۔ نیشنل سیکرٹری تعلیم و تربیت مقرر ہوئے۔ لمبا عرصہ تک سیکرٹری امور خارجہ رہے۔ جماعت کے انٹرنیشنل ریلیشنز کے شعبے میں بہت کام کیا۔ احمدیوں کے حالات کا جائزہ لینے والی ہیومن رائٹس کمیٹی کے ساتھ دو مرتبہ پاکستان جا کر رپورٹ تیار کرنے کی توفیق پائی۔ بہت بڑا انٹرنیشنل ایکسپو (expo) ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں لگایا جاتا ہے ملک صاحب مرحوم کو 1992ء میں یوکے اور سپین میں جماعت کا سٹال لگانے اور ان کو آرگنائز کرنے کا موقع ملا۔ 1997ء میں جامعہ احمدیہ کے قیام کے بارے میں جو کمیٹی حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے قائم فرمائی تھی اس میں آپؒ نے سلیم ملک صاحب کو بھی شامل فرمایا۔ اسی طرح جامعہ احمدیہ یوکے کے آغاز سے قبل قائم کی جانے والی متعددکمیٹیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ جامعہ احمدیہ یوکے کے آغاز پر آپ کو چیف ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ یہ ذمے داری 13؍نومبر 2005ء تک سرانجام دیتے رہے۔ جامعہ احمدیہ کے طلباء کو انگریزی اور تاریخ پڑھانے کی توفیق ملی جو وفات تک جاری رہی۔ جب اسلام آباد خریدا گیا تو حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒکی ہدایت پر آپ کو وہاں باقاعدہ لائبریری بنانے کی توفیق ملی۔ مرحوم انتہائی دیندار، نمازو روزہ کے پابند، لوگوں کے ساتھ انتہائی پیار محبت کرنے والے، خوش گفتار، داعی الی اللہ، مہمان نواز، خلافت سے انتہائی محبت کرنے والے، اخلاص و وفا کا تعلق رکھنے والے بزرگ تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور کثیر تعداد میں نواسے نواسیاں شامل ہیں۔

ان کے بھانجے میاں عبدالوہاب کہتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ جب وہ 1960ء میں لندن آئے تو اس وقت ان کے والد ملک عزیز احمد صاحب نے ان کو نصیحت کی تھی۔ وہ بیمار تھے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی اور وہ نصیحتیں یہ تھیں۔ نمبر ایک یہ کہ جماعت سے تعلق کوکبھی نہ چھوڑنا۔ ولایت جارہے ہو یہ نہ سمجھنا کہ وہاں کی رنگینیوں میں گم ہو جاؤ۔ نمبر دو: چندہ ہمیشہ وقت پر پوری شرح سے ادا کرنا۔ یہ بھی اصلاحِ نفس کے لیے ضروری ہے۔ نمبر تین :کوئی بھی جب مدد مانگے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہے اس سے جتنی بھی تنگی آئے۔ چنانچہ کہتے ہیں مَیں نے والدین کی نصیحتوں پر ہمیشہ عمل کیا۔ ان کے بھانجے لکھتے ہیں کہ یہ انہوں نے تو نہیں بتایا لیکن بعد میں میرے علم میں آیا کہ ایک دفعہ ان کے کسی عزیز کو بڑی رقم کی ضرورت تھی تو اپنا مکان بیچ کر اس کی ضرورت پوری کر دی لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر نوازا اور اس سے بڑا مکان ان کو مل گیا۔ علمی لحاظ سے بہت علمی آدمی تھے۔ میں بھی شروع میں جب ملا ہوں تو میرا نہیں خیال تھا، میری ان سے واقفیت نہیں تھی تو میں سمجھتا تھا کہ بس ایک عام احمدی ہیں اور انگریزی پڑھا لیتے ہیں۔ ان کی انگریزی زبان اچھی ہو گی لیکن بعد میں پتہ لگا کہ یہ اخلاص و وفا میں بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ہر وقت جماعتی خدمت کے لیے تیار رہنے والے تھے۔ خلافت سے ان کو نمایاں تعلق اور عقیدت تھی۔ علمی لحاظ سے چلتے پھرتے انسائیکلو پیڈیا تھے۔ ہر موضوع پر خاص طور پر تاریخ پر ان کو عبور تھا۔ اس کے علاوہ لٹریچر انگلش میں ہو یا اردو میں اس سے بھی ان کو بہت شغف تھا لیکن اپنے علم کی خود نمائی کبھی نہیں کرتے تھے۔ دوسروں کو دینی اور دنیاوی علم کے بڑھانے کی ترغیب بھی دیتے رہتے تھے۔ اور سیاسی اور علمی اور پاکستانی کمیونٹی میں بھی ان کے وسیع تعلقات تھے اور ان تعلقات کو بھی ہمیشہ انہوں نے جماعتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ جب مرحوم سیکرٹری امورِ خارجہ تھے تو انہوں نے لارڈ ایوبری(Ave bury) کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کیا۔ انہی کے ذریعہ سے ہمارا ، جماعت کا لارڈ ایوبری سے تعلق ہوا تھا اور میرا پارلیمنٹ ہاؤس کا جو پہلا وزٹ تھا اس میں بھی ملک صاحب کا نمایاں کردار تھا۔

مروان سرور گل مربی سلسلہ ارجنٹائن کہتے ہیں کہ ان کی علمی شخصیت کی وجہ سے جامعہ کے سب سٹوڈنٹس کو اور مجھے بھی ان کا ایک خاص احترام تھا لیکن جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد ذاتی نوعیت کا ایک تعلق انہوں نے قائم کیا اور جب میری ارجنٹائن میں تقرری ہوئی تو اس پر بہت خوشی ہوئی اور مجھے کہتے تھے کہ تم پائنیئر مبلغ ہو اس لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور کہا کہ جماعت کا نام روشن کرنا اور تبلیغ صحیح طرح کرنا اور خاص طور پر وہاں کی زبان سیکھو اور زبان اس معیار کی لے جاؤ کہ اخباروں میں تمہارے آرٹیکل چھپیں۔ علمی لحاظ سے ان کو یہ بہت شوق تھا۔ اسی طرح اپنے طلبہ کی دعوت اپنے گھر میں کرتے تھے تو اس کے بعد اپنی لائبریری میں لے جاتے تھے۔ ان کی ذاتی لائبریری بھی تھی۔ کئی طلبہ نے مجھے لکھا ہے اور مربیان نے بھی لکھا۔ پھر کہتے تھے اچھا میرے گھر آ کے تمہارے لیے یہ تحفہ ہے کہ تم اس لائبریری میں سے اپنی پسند کی کوئی ایک کتاب لے جاؤ۔ وہی تمہارے لیے تحفہ ہے اور ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ جامعہ احمدیہ ایک غیر معمولی ادارہ ہے جس سے خلیفة المسیح کو بہت توقعات ہیں۔ اس لیے اس ادارے سے وابستہ واقفینِ زندگی کو غیر معمولی علمی معیار حاصل کرنا چاہیے۔ پھر مروان صاحب لکھتے ہیں کہ ارجنٹائن روانگی سے قبل خاص طور پر نصیحت فرمائی کہ زبان پہ ایسا عبور حاصل کرنا کہ جیسا کہ پہلے مَیں نےبیان کیا ہے کہ سپینش زبان میں تمہارے مضامین چھپیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بھی مجھے کہا کہ مجھے خط لکھتے رہا کرنا۔ کبھی میرے سے سستی ہو جاتی تو پھر خود ہی رابطہ کرتے اور مجھے خط لکھنے کا کہتے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے لواحقین کو، ان کے بچوں کو، ان کی نسلوں کو بھی اسی طرح وفا کے ساتھ خلافت اور جماعت سے تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نماز کے بعد ان کے جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2020