• 29 فروری, 2024

شفقت و دلداری

ناصرات کارنر
شفقت و دلداری

پیاری ناصرات! حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت و محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔ آپ نے بچپن سے ہی مجھ پر بے حد شفقت فرمائی۔۔۔۔

میں چھوٹی تھی تو رات کو اکثر ڈر کر آپ علیہ السلام کے بستر میں جاگھستی۔ جب ذرا بڑی ہونے لگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں (اس وقت میری عمر کوئی پانچ سال کی تھی) تو پھر بستر میں اس طرح نہیں آ گھسا کرتے۔ میں تو اکثر جاگتا رہتا ہوں، تم چاہے سو دفعہ مجھے آواز دو میں جواب دوں گا اور پھر تم نہیں ڈرو گی۔ اپنے بستر سے ہی مجھے پکار لیا کرو۔‘‘

پھر میں نے بستر پر کود کر آپ علیہ السلام کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ جب ڈر لگتا، پکار لیتی، آپ علیہ السلام فوراً جواب دیتے۔ پھر خوف اور ڈر لگنا ہی ہٹ گیا۔ میرا پلنگ آپ علیہ السلام کے پلنگ کے پاس ہی ہمیشہ رہا۔ بجز چند دنوں کے جب مجھے کھانسی ہوئی تو حضرت اماں جان بہلا پھسلا کر ذرا دور بستر بچھا دیتی تھیں کہ ’’تمہارے ابّا کو تکلیف ہوگی۔‘‘ مگر آپ علیہ السلام خود اٹھ کر سوتی ہوئی کا میرا سر اٹھا کر ہمیشہ کھانسی کی دوا مجھے پلاتے تھے۔ آخری شب بھی جس روز آپ علیہ السلام کا وصال ہوا میرا بستر آپ کے قریب بالکل قریب ہی تھا کہ بس ایک آدمی ذرا گزر سکے اتنا فاصلہ ضرور ہوتا۔

ایک بار میرے چھوٹے بھائی صاحب حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے، وہ بھی آخر بچہ ہی تھے، اصرار کیا کہ: ’’میرا پلنگ بھی ابا کے قریب بچھا دیں‘‘ مگر میں نے اپنی جگہ چھوڑنا، نہیں مانا۔ حضرت اماں جان نے فرمایا کہ ’’یہ ہمیشہ پاس لیٹتی ہے کیا ہوگا، آخر شریف کا بھی دل چاہتا ہے۔ ایک دو دن یہ اپنی ضد ذرا چھوڑ دے بھائی کو لیٹنے دے تو کیا حرج ہو جائے گا‘‘ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا
’’نہیں یہ لڑکی ہے اس کا دل رکھنا زیادہ ضروری ہے‘‘

حالانکہ حضرت اماں جان چھوٹے بھائی صاحب کو لے کر اس رات ان کی دلداری کے لیے خود بھی بیت الدعا میں زمین پر ان کو ساتھ لے کر سوئیں مگر میرا بستر وہیں رہا لیکن مجھے یاد ہے کہ اس بات پر پھر میرا دل بھی دُکھا تھا اور ندامت محسوس ہوئی۔

(مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی صفحہ8-10)

(ثمرہ خالد۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

انڈیکس مضامین اکتوبر 2022ء الفضل آن لائن لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ