• 30 نومبر, 2021

اگر خدا کو نہیں پہچانو گے …

اگر خدا کو نہیں پہچانو گے، اگر اس کے قوانین پر عمل نہیں کرو گے تو یہ بے چینی کبھی ختم نہیں ہو گی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے ہمدردی کے جذبہ کے تحت ان فرائض کی ادائیگی کے لئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے۔ اور اس وجہ سے ہی کہ ہمارے دلوں میں ہمدردی ہے، ہمیں ان لوگوں کو ان آفات کی اور ان فسادات کی وجوہات بھی بتانی چاہئیں۔ دنیا کے ہر شخص تک یہ پیغام پہنچانا چاہئے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اپنے اپنے حلقہ احباب میں بھی، اخباروں کو خطوط لکھ کر یاد وسرے ذرائع استعمال کرکے دنیا کو اب پہلے سے زیادہ کوشش کے ساتھ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر خدا کو نہیں پہچانو گے، اگر اس کے قوانین پر عمل نہیں کرو گے تو یہ بے چینی کبھی ختم نہیں ہو گی، یہ فساد کبھی ختم نہیں ہوں گے، یہ ارضی اور سماوی آفات کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کے ساتھ استہزاء اور حد سے زیادہ زیادتیوں میں بڑھنا اور اس پر ڈھٹائی اور ضد سے قائم رہنا یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو کبھی دنیا کا امن اور سکون قائم نہیں رہنے دیں گی۔

اب آفات کو ہی لے لیں، جہاں ان کی شدت بڑھ رہی ہے، ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان موسمی آفات کو زمینی، موسمی اور مختلف تغیرات کی وجہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنے والی چیز ہے اور دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ سو سال پہلے ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میری تائید میں اللہ تعالیٰ زمینی اور سماوی نشانات دکھائے گا۔ زلزلے آئیں گے، آفتیں آئیں گی، تباہیاں ہوں گی اگر لوگوں نے توجہ نہ دی۔ اور اس کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ باتیں سچ ہوتی نظرآ رہی ہیں۔ زلزلے بھی اس کثرت اور اس شدّت سے آ رہے ہیں جن کی مثال سو سال پہلے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اب گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں بڑا سخت طوفان آیا۔ کہتے ہیں کہ 47سال بعد ایسا طوفان آیا ہے۔ اس میں ایک اندازے کے مطابق 15ہزار اموات متوقع ہیں۔ متوقع اس لئے کہ ابھی تک سیلاب زدہ علاقوں میں، طوفان زدہ علاقوں میں مکمل طور پر رسائی نہیں ہو سکی کہ نقصان کا اندازہ لگایاجا سکے۔ 6لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ اس علاقے میں احمدیوں کی بھی کچھ تعداد ہے، جن کا مالی نقصان ہوا ہے۔ ظاہر ہے طوفان جب آتے ہیں تو مالی نقصان تو ہوتا ہے۔ لیکن ابھی تک اطلاع کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ احمدیوں کو محفوظ رکھے۔

ہیومینیٹی فرسٹ کے رضا کار، یو کے سے بھی اور کینیڈا سے بھی مدد کا سامان لے کر وہاں جا رہے ہیں۔ جماعت ہمدردی کے جذبے کے تحت وہاں کام کرنے جا رہی ہے اور ہر اس جگہ پہنچتی ہے جہاں بھی کوئی ستم زدہ یا مصیبت زدہ مدد کے لئے پکارے۔ گزشتہ ایک دو سال سے احمدیوں کے حالات بنگلہ دیش میں مُلّاں نے کافی تنگ کئے ہوئے ہیں۔ جلسے جلوس توڑ پھوڑ مسجدوں کو نقصان پہنچانا۔ اب مُلّاں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ اَن پڑھ اور معصوم عوام کو اسلام کے نام پر ابھار کر ظلم کروائے جائیں اور وہ کروا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جماعت ہر ضرورت مند کی مدد کرتی ہے کیونکہ یہ ایک احمدی کی امتیازی خصوصیت ہے اور ہونی چاہئے اور یہی فرق ہے جو ایک احمدی اور غیر میں ہے۔ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میرے کاموں میں سے ایک اہم کام بنی نوع سے ہمدردی ہے۔

پھر بنگلہ دیش کیا، پاکستان جہاں احمدیوں کے خلاف ایک ظالمانہ قانون بنا کر احمدیوں کی مذہبی آزادی کے حق کوغصب کیا گیا۔ خدائے واحد ویگانہ کا حقیقی فہم و ادراک رکھنے والے اور ہر قسم کے شرک سے پاک معصوم احمدیوں کو اَللّٰہُ اَکْبَر کہنے پر پابندی لگا دی گئی۔ عشق رسول عربیﷺ سے سرشار لوگوں کو حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ پر درود بھیجنے سے منع کیا گیا اور اس جرم کی سزا یا ان جرموں کی سزا کئی سال قید ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ احمدیوں کے دلوں سے نہ یہ قانون اللہ تعالیٰ کی محبت چھین سکے، نہ عشق رسولؐ کے اظہار سے دلوں پر پابندی لگا سکے۔ لیکن کہنا مَیں یہ چاہتا ہوں کہ اِن ظلموں کے باوجود جب پاکستان میں تقریباً دو سال ہوئے شدید زلزلہ آیا جس سے لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ کئی آبادیاں زمین میں دفن ہو گئیں، کئی آبادیاں زمین بو س ہو گئیں تو اس وقت بھی ان سب ظلموں کے باوجود، جو حکومت اپنے قانون کے تحت احمدیوں سے روا رکھتی ہے جماعت نے دل کھول کرآفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی۔ کیمپ لگائے، کئی مہینے خوراک مہیا کی، علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی۔ باوجود اس کے کہ ہمارےکیمپ میں دوائیوں اور دوسری اشیاء کے سٹور پر ایک دفعہ مخالفین نے آگ بھی لگا دی لیکن ہمدردی کے جذبے کے تحت ہم نے اس کام میں فرق نہیں آنے دیا۔

پھر زلزلے کے بعد اعصابی امراض کی شکایت بھی بڑھ جاتی ہے، لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں تو کشمیر کے ایک علاقے میں اعصابی امراض کے لئے کروڑوں روپیہ خرچ کرکے ہیومینیٹی فرسٹ نے اعصابی امراض کا ایک وارڈ بنایا، جسے پورا Equipped کیا۔ تو ہم نے تو ان کے ظلم کے باوجود اپنا کام کیا اور کئے جاتے ہیں کہ ہماری فطرت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بات پیدا کر دی ہے کہ تم نے بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کرنی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کی حمایت میں وارننگ دیتا ہے اور دیتا چلا جا رہا ہے اگر ان لوگوں کو سمجھ آ جائے۔

اب دیکھیں ایک زلزلہ آیا۔ ملک کے ویسے حالات پہلے کیا تھے؟ اور پھر اس میں بدسے بدتر حالات ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سیاسی بھی، معاشی بھی۔ اب پاکستان میں ہر طرف بے چینی، فساد، قتل و غارت عام پھیلاہوا ہے۔ حکومت وقت کچھ کہتی ہے تو اسی بات کے مخالف حکومتی کارندے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حکومت ایک بات کہتی ہے تو عدلیہ دوسری بات کہہ دیتی ہے۔ سیاستدان ہیں، وہ ملک کی ہمدردی کی بجائے، ذاتی اناؤں اور عزتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا ہر شہری جانتا ہے کہ لاقانونیت زوروں پر ہے۔ قانون توڑنے والے بھی اور قانون نافذ کرنے والے بھی اور عدل قائم کرنے والے بھی سب اس دوڑمیں لگے ہوئے ہیں کہ اپنی عزتوں کی حفاظت کی جائے اور ملک کو داؤ پر لگایا دیا جائے۔ پہلے اسلام آباد میں حکومت کے اندر حکومت تھی۔ اب سوات میں بغاوت پھیلی ہوئی ہے۔ وہی لوگ جو حکومت کے پروردہ تھے وہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سوات میں دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔ ایک اخبار میں ایک کالم نویس نے کھل کر یہ لکھا ہے کہ یہی شخص جس نے سوات میں اپنی الگ حکومت قائم کی ہے، حکومت کے سامنے سب کچھ کرتا رہا بلکہ اسے حکومت کی مدد بھی حاصل رہی اور جب وہ زور پکڑ گیا اور بغاوت پر آمادہ ہو گیا تواب حکومت وہاں فوج کا استعمال کر رہی ہے۔ فوج ملک کے اندر امن و امان قائم کرنے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ باہر کے دشمن سے تو کوئی خطرہ نہیں، اندر کا دشمن جوسب سے زیادہ خطرناک ہے وہ ملک کو تباہ کرنے کی کوشش میں ہے اور فوج کا کام اب اس کوکنٹرول کرنا رہ گیا ہے۔ 74ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے والے جو یہ کہتے تھے کہ ربوہ میں احمدیوں نے اپنی حکومت قائم کی ہے۔ اب یہ بتائیں کہ احمدیوں نے اپنی حکومت قائم کی ہوئی تھی یا اب مختلف جگہوں پر ملک کے اندر حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔ بعض جگہ تو حکومت بالکل بے بس نظر آتی ہے۔

(خطبہ جمعہ 23؍ نومبر 2007ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

کس خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئی