• 4 مارچ, 2024

اخلاق کامل

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’آنحضرتﷺ کے حق میں فرمایا ہے اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٌ تو خلق عظیم پر ہے۔ اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہو گا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول و عرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ وشمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تامّہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔ سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجے کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرتﷺ کے حق میں فرمایا: وَکَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔ یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب45 میں آنحضرت ﷺ کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطّر کیا۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ606)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی