• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

چند فکر انگیز اقتباسات اور نذرانہ عقیدت

نشاۃ ثانیہ کی صدی

کہنہ مشق صحافی غلام اکبر اپنے کالم ’’شناخت‘‘ میں تحریر کرتے ہیں۔
بہرحال کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے لئے اپنے یعنی پیروکارانِ اسلام کے زوال کی حقیقت سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ یہ حقیقت کتنی ہی تلخ اور زہریلی کیوں نہ ہو ۔ ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ انیسویں صدی دنیا بھر میں ہماری مکمل رسوائی اور تذلیل کی صدی تھی۔ اس صدی میں ترکی بھی مکمل طور پر مردِ بیمار بن چکا تھا۔یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں جب جرمنی کے ایک مشہور سکالر جوزف کیل نے اپنی تصنیف Arab Civilizationمیں یہ پیشگوئی کی کہ قوتِ ہلال کا گڑھا مردہ اپنی قبر سے اٹھنے والا ہے تو اس دور کے دیگر محققین اور تجزیہ کاروں نے اس کا مذاق اڑایا۔

میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کی تحریک اِسی صدی میں شروع ہوگی۔ جوزف کیل نے لکھا تھا۔ اور اسی صدی میں زور پکڑے گی۔ میری پیش گوئی ہے کہ اس تحریک کا آغاز افریقہ میں آباد عرب دنیا سے ہوگا۔ ماضی میں عربوں نے جو عروج پایا اسے میں Arab Civilization عرب تہذیب و تمدن کا عروج سمجھتا ہوں لیکن اب جو عروج دنیائے ہلال میں آئے گا وہ حقیقی معنوں میں اسلامی تہذیب و تمدن کا عروج ہوگا۔

(مطبوعہ نوائے وقت مورخہ 4فروری 2012ء)

کعبہ بدل لیا

نوائے وقت کے کالم نویس فضل حسین راہی اپنے مضمون کالم شفق کے مضمون ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ میں لکھتے ہیں۔
ہم خدا سے شکوہ کناں تو رہتے ہیں لیکن نہ اپنی اداؤں اور اطوار پر غور کرتے ہیں، نہ اپنے اعمال افعال اورکردار کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ کبھی نہیں سوچتے کہ ہم غیروں کے رحم وکرم پر کیوں ہیں؟ ان کے غیظ و غضب کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں، اس قدر لاچار، بیکار بے بس، بے کس ،مجبور و مقہور و بدنام بے نام کیوں ہیں ، وجہ بڑی سادہ سی ہے، ہمارے آباء جب سر پر کفن باندھ کر دنیا میں اسم محمد ﷺ سے اُجالا کرنے نکلتے تو پہاڑ ان کے راستے کی دیوار بنتے ، نہ سمندر و دریا رکاوٹ، وہ طوفان کی مانند بڑھتے چلے جاتے…

آج ہماری دنیا میں ذلت ورسوائی ، پستی و بے توقیری کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم نے اسوۂ رسول ﷺ سے منہ موڑ کر ان سے رشتہ جوڑ لیا ہےجن کے بارے میں قرآن اور صاحب قرآن کا ارشاد ہے ’’یہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘ جب ہم نے اپنا کعبہ ہی بدل لیا تو صاحب کعبہ سے شکوہ و شکایت کیوں؟ ہم شمشیر وسناں سے تائب، طاؤس و رباب کے قائل ہو کر رہ گئے تن آسانی کے لئے اپنا ضمیر بیچا، پھر اپنے حال پر نظر دوڑاتے ہیں تو دل کے کسی نہاں خانے میں پڑی چنگاری، تابناک ماضی کی یاد دلاتی ہے تو دل سے نکلے ہوئے الفاظ آنسوؤں کی صورت میں بہنے لگتے ہیں ۔

(مضمون مطبوعہ نوائے وقت مورخہ 5فروری 2012ء)

پتھروں کی بارش ہوتی

مضمون نگار امتیاز احمد تارڑ اپنے مضمون ’’12ربیع الاول اور غزوہ ہند‘‘ میں تحریر کرتے ہیں ۔
12 ربیع الاوّل کی پُرنور رات کو اپنی رحمتوں کی لامتناہی وسعتوں کے ساتھ اپنے پیارے محبوب کو دنیا میں بھیجا پھر انسانی تہذیب کے قرینے تبدیل ہو گئے گھپ اندھیروں کے بطن سے روشنی نے اڑان بھری اور آناً فاناً پورے عالم میں نور جگمگانے لگا شکستہ حال اور لاچار لوگوں کو سہارا ملا ،یتیموں کا اکیلا پن ختم ہوا ،وہ پیارا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کی برکتیں لامتناہی ،جس کے ذکر کی رفعتیں بے کنار ہیں لاکھوں درود و سلام اس صاحب لولاک پر جس کا اُمتی ہونا ہمارے لئے خوش قسمتی کی نشانی ہے۔ یہی میرا توشہ آخرت ہے یہی میرے پاس جنت کی کلید ہے۔

12ربیع الاوّل کا دن اپنے اندر محبت، شفقت، رحم دلی اور اخوّت کا ایسا جذبہ لے کر آتا ہے کہ بغض عداوت شکوک و شبہات اور واہموں کے سارے بادل آنکھ جھپکتے ہی چھٹ جاتے ہیں رسول اللہؐ کے اسوۂ حسنہ اور آپؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے سے جھونپڑیوں میں رہنے والوں نے نصف دنیا پر حکومت کی …

چودہ سو سال قبل رسول اللہؐ کی آمد پر جو فتنے دفن ہو گئے تھے آج انہوں نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے یہود ونصاریٰ و ہنود چیلوں کی طرح مسلم امہ کے جسموں کو نوچ رہے ہیں لیکن ان بھیڑیوں سے بچانے والا کوئی نہیں…

حضورؐ! اگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی ذات اقدس کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم پہ پتھروں کی بارش ہوتی۔ ہم پہ آسمان سے آگ کا مینہ برستا بپھری ہوئی آندھیاں ہمیں پٹخا پٹخا کر مارتیں۔ ہولناک زلزلے ہمارے پاپی وجودوں کو تہہ زمین میں لے جاتے۔ سیلاب ہمیں کوڑے کرکٹ کی طرح بہا لے جاتے اور ہماری پھولی ہوئی بدبودار لاشیں عبرت کی داستان بن جاتیں۔ ہماری شکلیں مسخ کر دی جاتیں ہم پر قوم عاد و ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی ۔

( نوائے وقت مورخہ 5فروری 2012ء)

اسلامی ریاست کا منشور

پروفیسر محمد یعقوب اپنے کالم ’’بہار ہو کہ خزاں…‘‘ میں تحریر کرتے ہیں ۔
10ھ میں رسول خدا نے آخری حج ادا کیا۔ اِس موقع پر آپ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اِس میں اسلام کی دعوت کا خلاصہ بیان فرما دیا۔یہ خطبہ اسلامی ریاست کا منشور ہے جو اپنی دُنیا تک اُمت مُسلمہ کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ آپ نے عہدِ جاہلیت کے سودی لین دین کو کالعدم قرار دیا اور اِس کا آغاز گھر سے کیا۔ اِس خطاب کا ایک جملہ یہ تھا کہ میں تم میں ایک چیز چھوڑے جارہا ہوں۔ اگر تم نے اُسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہو گے، وہ کتاب اللہ ہے۔ محسنِ انسانیت، سرور عالمﷺکی دعوتی زندگی کو اس مختصر مضمون میں تفصیلی قلمبند کرنا ناممکن ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِس دعوت کی حقیقی قوت تلوار نہ تھی بلکہ وہ اخلاقی قوت تھی جس سے دِل مسخر ہوتے ہیں…پھر جب اُمت مسلمہ نبیٔ برحق کی تعلیمات سے کٹ کر فرقوں میں بٹ گئی اور عُلوم و فنون پر تحقیق سے اپنا رشتہ کاٹ دیا۔ قرآن و سنت پرغوروفکر کرنا اور اُن پر عمل کرنا چھوڑ دیا تو اسلام کے دشمنوں کو کبھی رنگ و نسل اور لسانی تعصبات کے نام پر اور کبھی علاقائیت کے عنوان سے مِلّی وحدت کے حصار پر شب خون مارنے کا موقع مل گیا اور یوں وہ اختلافات کی شکار ہو کر رفتہ رفتہ اغیار کی غلام بن گئی۔ آج 12 ربیع الاول میں آنے والی ہستی کی یادمیں مسلمان جلوس نکالتے ہیں۔ بڑے بڑے اجتماعات اور سیرت النبیؐ کی محافل میں فانوس روشن کرتے اور گھروں کو قمقموں سے سجاتے ہیں ۔ اسوۂ حسنہ کو حرز جاں نہیں بناتے۔ ہمارا حکمران طبقہ مِلّی مفادات کے بجائے امریکی مفادات کا محافظ بن چکا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے دل سے ایک ہوک سی اُٹھتی ہے کہ …

وہ جو سربلند تھے ہر جگہ ہوئے سرنگوں وہ جگہ جگہ
جہاں روشنی تھی چمن چمن وہاں چار دانگ ہیں ظُلمتیں

(نوائے وقت مورخہ 5فروری 2012ء ادارتی صفحہ)

حضرت محمد مصطفیٰؐ کی خدمتِ اقدس میں غیر مسلم شعراء کا نذرانۂ عقیدت

ہری چنداختر

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عربؐ نے آدمی کا بول بالا کر دیا

دلورام کوثری

مجھے نعت نے شادمانی میں رکھا
کہ مصروف شیریں زبانی میں رکھا
میں لکھتا رہا نعت اور حق نے شب بھر
قمر کو مری پاسبانی میں رکھا
درگاسہائے سرور جہاں آبادی
نہیں خورشید کو ملتا ترے سائے کا پتہ
کہ بنا نور ازل سے ہے سراپا تیرا
اللہ اللہ ترے چاند سے مکھڑے کی ضیاء
کون ہے ماہ عرب، کون ہے محبوب خدا

برجموھن و تاتر یہ کیفی

ہو شوق نہ کیوں نعت رسول دو سرا کا
مضموں ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا
پہنچایا ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو
پھر رتبہ ہو کم عرش سے کیوں غار حرا کا

جگن ناتھ آزاد

سلام اس پر جلائی شمع عرفاں جس نے سینوں میں
کیا حق کے لئے بے تاب سجدوں کو جبینوں میں
سلام اس ذات اقدس پر حیات جاودانی کا
سلام آزاد کا، آزاد کی رنگیں بیانی کا

بال مکند عرش ملسیانی

طوفان زندگی کا سہارا تمہی تو ہو
دریائے معرفت کا کنارا تمہی تو ہو
ہاں ہاں تمہی تو ہو دل کے دلنواز
دلدار و دل نشین و دُلارا تمہی تو ہو

شیش چند طالب دہلوی

حلقہ ہے مہ نو کا گربیان محمدؐ
ہے مطلع انوار کہ دامان محمدؐ
یہ ذات مقدس تو ہر انساں کی ہے محبوب
مسلم ہی نہیں بستہ دامان محمدؐ

بخشی شوری لال اختر

دیکھی ہے کہیں صورت زیبائے محمدؐ
پھرتا ہے نظر میں قد رعنائے محمدؐ
کیوں نام محمدؐ نہ ہو ہر وقت زباں پر
ہے سر میں سمایا ہوا سودائے محمدؐ

گرسرن لال ادیب لکھنوی

وہ صداقت کا علم بردار وحدت کا خطیب
ظہار وباطن کے سب انوار تھے جس کے قریب!
انبیا پر برتری کا تھا شرف جس کو نصیب
وہ خدا پاک و برتر نے کہا جس کو حبیب
مہاراجہ سرکشن پرشاد شاد
محمدؐ پہ دل اپنا شیدا ہوا ہے
ستارہ نصیبے کا چمکا ہوا ہے
موحد ہوں عارف ہوں صوفی ہوں پکا
مرے حال پر فضل مولا ہوا ہے

رام پرتاب اکمل

کیا شان ہے جناب رسالت مآبؐ کی
نظریں جھکی ہوئی ہیں مہ و آفتاب کی
مذہب کی زندگی کے عمل سے ملا دیا
ممنون التفات ہے، امت جناب کی
چاند بہاری لال صباما تھر جے پوری
خدا کا وہ نہیں ہوتا خدا اس کا نہیں ہوتا
جسے آنا نہیں ہوتا تمہارا یا رسول اللہؐ
زمین پر آن لگے خورشید محشر میں تو ان کو کیا
ہے جن پر سایہ دامن تمہارا یا رسول اللہؐ

رانا بھگوان داس بھگوان

توئی جان دو عالم، نور یزداں یا رسول اللہؐ
توئی سر وجود بزم امکاں یا رسول اللہؐ
توئی خاتم، توئی سید، توئی سرور توئی آقا
توئی سلطان عالم شاہ شاہاں یا رسول اللہؐ

(نوائے وقت 3فروری 2012ء ملی ایڈیشن )

میثاق مدینہ پہلا تحریری آئین

معروف مضمون نگار محمد یٰسین وٹو اپنے مضمون ’’صرف منانا نہیں بلکہ اپنانا بھی ہے‘‘ کے کالم 2 اور نمبر 3 میں لکھتے ہیں :۔

میثاق مدینہ کی صورت میں دنیا کا پہلا تحریری آئین بنا کر نبی نے مسلم اور غیرمسلم دونوں کو امان دی اور آج یہ عالم ہے کہ ہم اتنے تنگ نظر اور کم ظرف ہو گئے ہیں کہ ہمارے ہاتھ اور زبان سے اپنے مسلمان بھائی کی عزت و جان محفوظ نہیں۔ نبی اکرمؐ کا اسوہ دیکھئے کہ نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا نبی نے انہیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ ان کی عبادت کا وقت ہوا تو مسجد نبوی میں عباد ت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ آپ کی رواداری اور برداشت کا نمونہ دیکھئے کہ غنیم میں ایک غیرمسلم لڑکی لائی گئی کہ جس کے سر پر چادر نہ تھی۔ نبی نے اپنی چادر اوڑھا دی صحابہؓ حیران ہوئے تو نبی نے فرمایا وہ غیرمسلم سہی مگر بیٹی ہے۔ اور ہمارا عمل دیکھئے کہ چادر چار دیواری کا تقدس موجود نہیں۔

نبی اکرم کی عالی ظرفی دیکھئے کہ فتح مکہ کے بعد جب بدلہ لے سکتے تھے اپنے چچا حمزہ کے قاتل کو نہ صرف معاف کیا بلکہ طائف کا نگران بنا کر بھیجا۔ وجہ یہ نہیں کہ اسے دیکھ کر شہید چچا یاد آئیں گے بلکہ وجہ یہ کہ اسے سامنا کرتے ہوئے شرمندگی نہ ہو۔ ذرا بتائیے کہ اس قدر عظیم المرتبت، روادار ،کشادہ دل، اعلیٰ ظرف، بہادر، غیرت مند اور امن پسند رہبر سے ہمیں نظریں ملانے کی سکت ہے!ان کا اُمتی ہونے کا حق جتانے سے پہلے ہمیں اُمتی ہونے کا فرض سمجھنا ہو گا۔ چھوٹے پن، تنگ نظری، سخت دلی، بغض ،کینہ کم علمی، کوتاہ اندیشی اور بددیانتی کو خیرباد کہنا ہو گا تب نہ صرف ہم یوم عید میلاد منائیں گے بلکہ اپنائیں گے بھی۔

بزرگ شاعر پروفیسر عنایت علی خان کی نعت کے شعر میں ہمیں اور آپ کو سوچنے اور عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں…

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
جسے میرے غم نے گھلا دیا اسے میں نے دل سے بُھلا دیا
میں تیرے مزار کی جالیوں کی ہی مدحتوں میں مگن رہا
تیرے دشمنوں نے ترے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا
تیرے ثور و بدر کے باب سے میں ورق الٹ کر گزر گیا
مجھے صرف تیری روایتوں کی حکایتوں نے مزا دیا
تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا
تیرا نقشِ پا تھا تو رہ نما تو غبار راہ تھی کہکشاں
اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

(مطبوعہ نوائے وقت مورخہ 7فروری 2012ء)

(پروفیسر راجا نصر اللہ خان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جنوری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جنوری 2020